منٹگمری میوزیم
ہڑپہ کی ہزاروں سال پرانی ثقافت کو محفوظ کرنے اور نئی نسل کو ہڑپہ کی تہذیب سے روشناس کرانے کے لیے کامسیٹس یونیورسٹی میں منٹگمری میوزیم بنایا گیا ہے۔
کامسیٹس یونیورسٹی
ساہیوال کیمپس نے محکمہ آثار قدیمہ اور حکومت پنجاب کے ساتھ ایک مفاہمتی دستاویز
پر دستخط کیے ہیں، جس میں کامسیٹس نے ہڑپہ کے تاریخی مقامات اور قلعہ روہتاس کی
بحالی، حفاظت اور انتظامات کیلئے خدمات پیش کرنے کا اعادہ کیا ہے۔
اسی سلسلے میں کامسیٹس
یونیورسٹی کے ساہیوال کیمپس میں ثقافتی ورثے کے بارے میں تعلیم کے شعبے کا قیام
عمل میں لایا جا چکا ہے۔
یونیورسٹی نے میوزیم کے
لیے ایک بڑا ہال مختص کیا ہے۔ منٹگمری میوزیم کا مقصد ساہیوال اور ہڑپہ کی تاریخ
کو اجاگر کرنا ہے۔
منٹگمری میوزیم اپنی
نوعیت کا واحد مقامی میوزیم ہے جو ساہیوال اور اس کے گردو نواح کے علاقہ کی
نمائندگی کرتا اور یہاں کی تاریخ، ماحول، رہن سہن، مقامی فن، اور ہنر کو اجاگر
کرنے میں مدد دے گا۔
میوزیم میں ہڑپہ کے
آثار سے دریافت ہونے والی اشیا رکھی گئی ہیں جو ہڑپہ کی قدیم تہذیب کی عکاسی کرتی
ہیں۔ ان میں ہڑپہ سے ملنے والے قدیم سِکے، برتن اور عام استعمال کی چیزیں بھی رکھی
گئی ہیں۔
کامسیٹس یونیورسٹی
ساہیوال کیمپس میں آرکیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر رفیق مغل بتاتے ہیں کہ محکمہ آثار
قدیمہ نے حکومت پنجاب کے تعاون سے یونیورسٹی میں منٹگمری میوزیم بنایا ہے جس کا
مقصد ہڑپہ کے تاریخی مقامات کو یونیسیکو کے انٹرنیشنل ورثے کی لِسٹ میں شامل
کروانا ہے۔
منٹگمری میوزیم کی
انفرادیت کے حوالے سے میوزیم انچارج میاں عتیق احمد نے بتایا کہ پرانے دور میں جب
گھڑیاں نہیں ہوتی تھیں۔ لوگ رات کو چاند اور ستاروں کی نقل و حرکت دیکھ کر وقت کا
اندازہ لگایا کرتے تھے۔
ماضی میں جس طرح لوگ
وقت کا اندازہ لگاتے تھے اسی طرح میوزیم میں چاند، زمین اور دریاؤں کے ماڈل بنائے
گئے ہیں۔
میوزیم میں ماضی قریب
کی ان نامور ہستیوں کی تصاویر بھی سجائی گئی ہیں جنہوں نے لوگوں کے دلوں پر
حکمرانی کی، جدو جہد آزادی اور ہجرت کے مناظر کی تصاویر کشی کی گئی ہے۔
میاں عتیق احمد بتاتے
ہیں کہ وارث شاہ کے دور کے کچھ نوادرات بھی میوزیم کا حصہ ہیں۔
’وارث شاہ نے اپنے کلام
میں جن تین پرندوں کا ذکر کیا ہے وہ بھی اس میوزیم میں محفوظ کیے گئے ہیں۔‘
ماضی قدیم کی طرح ماضی
قریب میں اس خطہ کے لوگوں کا رہن سہن، لباس، برتن، ان کی روز مرہ زندگی کے احوال،
ان کے پالتو جانور اور ماضی قریب کا منٹگمری، میوزیم میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ماضی میں لوگوں کے
استعمال کی اشیاء اور علاقے کے نامور شخصیات کی تصاویر۔
میاں عتیق احمد کا کہنا
ہے کہ منٹگمری میوزیم یونیورسٹی کے طلباء کے علاوہ عام لوگ بھی اسے دیکھ سکتے ہیں۔
کسی ادارے کے طلباء و طالبات اگر یہاں سیاحتی دورے پر آنا چاہیں، انہیں بھی خوش
آمدید کہا جائے گا۔
’لوگ اپنے کپڑے کس طرح
بناتے تھے، کسان کن جانوروں سے کام لیا کرتے تھے، لڑائی میں کن ہتھیاروں کا
استعمال ہوتا تھا، یہ سب چیزیں اس میوزیم کا حصہ ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ وہ
بڑے نام جنہوں نے تاریخ میں اپنا نام پیدا کیا وہ بھی اس میوزیم میں دیکھے جا سکتے
ہیں۔
میاں عتیق نے بتایا کہ
جنوری 2016 سے یونیورسٹی میں ماسٹرز کی سطح کی ڈگری میں آرکیالوجی کا مضمون لازمی
قرار دیا جا چکا ہے ، جو پہلے سمسٹر میں ہر طالب علم کو لازمی پڑھنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرکیا
لوجی وسیع علم ہے۔ اس علم کو حاصل کرنے والے میوزیم کے فروغ میں نمایاں کام کر
سکتے ہیں۔
Read More: خطروں میں گھرے پودے اور درخت
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)