ساہیوال کا بازارِحسن

         ساہیوال کا بازار حسن 
ساہیوال کا بازارِ حسن:
 تاریخ، سماجی اثرات اور وقت کے ساتھ تبدیلیاں 

ساہیوال کا بازار حسن


     

کبھی ساہیوال کا بازارِ حسن طبلے کی تھاپ، رقص کی محفلوں اور موسیقی کی آوازوں سے پہچانا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ علاقہ اپنی سابقہ شناخت کھو بیٹھا اور آج یہاں جوتے بنانے کے کارخانے قائم ہیں۔ ماضی کی رونقیں اب صرف یادوں اور چند بزرگ مکینوں کی گفتگو تک محدود ہو چکی ہیں۔ یہ کہانی ایک ایسے علاقے کی ہے جو وقت، قانون اور سماجی رویّوں کی نذر ہو گیا۔

بازارِ حسن کیا تھا؟

کہا جاتا ہے کہ جسم فروشی دنیا کے قدیم ترین پیشوں میں سے ایک ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں مذہبی، اخلاقی یا انسانی حقوق کی بنیاد پر اس پیشے پر پابندی عائد ہے، تاہم مختلف شکلوں میں یہ تقریباً ہر معاشرے میں موجود رہا ہے۔ کئی ممالک میں جسم فروشی سے وابستہ افراد کے لیے مخصوص علاقے قائم رہے جنہیں ریڈ لائٹ ایریا، لال کرتی یا بازارِ حسن جیسے نام دیے گئے۔

برصغیر میں وہ علاقے جہاں ناچ گانے اور موسیقی سے وابستہ افراد ایک ساتھ رہتے تھے، بازارِ حسن کہلاتے تھے۔ شاہی ادوار میں یہ مقامات امرا اور رؤسا تک محدود سمجھے جاتے تھے، تاہم بادشاہتوں کے خاتمے کے بعد یہ علاقے عوامی سطح پر آ گئے۔

ساہیوال میں بازارِ حسن کا قیام

برطانوی دورِ حکومت میں افواج کی تفریح کے لیے مختلف شہروں میں مخصوص محلے آباد کیے گئے جہاں رقص، موسیقی اور جسم فروشی موجود تھی۔ 1849 میں پنجاب پر قبضے کے بعد دیگر شہروں کی طرح ساہیوال میں بھی بازارِ حسن قائم کیا گیا۔ یہ علاقہ مزدور پُلی کے قریب واقع تھا اور یہاں رقص کی محفلیں سجتی تھیں، جنہیں دیکھنے کے لیے لوگ دور دراز علاقوں سے آتے تھے۔

جنرل ضیاء الحق کا دور اور زوال کی ابتداء      جنرل ضیاء الحق کے دور میں رقص و موسیقی پر پابندی کے بعد پاکستان کے ریڈ لائٹ ایریاز  کی طرح ساہیوال کا بازارِ حسن بھی  بتدریج زوال کا شکار ہو گیا۔ جہاں ہر روز طبلے کی تھاپ اور سارنگی کی رُوں رُوں سنائی دیتی تھی وہاں خاموشی نے ڈیرے ڈال دئیے۔بازار کی کچھ خوش نصیب لڑکیاں بھی ہیں جو شادی کر کے اپنے اپنے گھروں میں خوش اور آباد ہیں اور اپنی بدنامی کے خوف سے دوبارہ اس بازار میں مِلنے بھی نہیں آتیں۔

   جنرل ضیاء الحق اور ثقافتی پابندیاں
ناچ گانا بند ہوا تو جسم فروشی کا  غیر قانونی نیٹ ورک مضبوط ہو گیا۔کاروبار چمک گیا اور بازارِ حسن کے قدیم رہائشی شہر بھر میں پھیل گئے جبکہ کچھ نے بڑے شہروں کا رخ کیا۔اب اس محلے کے پرانے باسیوں کے چند گھرانے ہی آباد ہیں۔
       اس بازار کے رہائشی
     ساہیوال کے بازارِ حسن کے رہائشی سخاوت علی بتاتے ہیں کہ ساہیوال کے بازار حُسن میں تقریباً ڈیڑھ سو گھر آباد تھے۔’یہاں رقص کی محفلیں ہوا کرتی تھیں، بیشتر لوگ رات کو آتے تھے۔ اب یہاں کے بیشتر مکانات خالی ہیں اور علاقے میں جگہ جگہ جوتے بنانے کے کارخانے کھل گئے ہیں۔سخاوت علی کے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ بیٹے مزدوری کرتے ہیں اور بیٹیاں بازارِ حسن کے کام سے منسلک ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بازارِ حسن کا لائسنس ان کے والد یار محمد کے نام تھا جو اپنے دور کے معروف طبلہ نواز تھے۔ ان کی وفات کے بعد یہ لائسنس انہوں نے اپنے نام کروا لیا۔ان کا کہنا ہے کہ اس محلے میں پُرانے رہائشیوں کے تقریباً 50 خاندان باقی رہ گئے ہیں جو مختلف مسائل کا شکار ہیں۔کچھ خاندانوں نے آبائی پیشے کو چھوڑ کر چھوٹے موٹے کاروبار کر لیے ہیں۔
      معاشرتی المیہ اور شناخت کا بحران
     سخاوت علی نے بتایا کہ بازارِ حسن میں امیر خاندان کے لوگ آتے ہیں،  بازار میں جو لڑکی انہیں پسند آ جاتی ہے وہ انہیں اپنے لیے مخصوص کر لیتے ہیں یا گھر والوں سے چوری چھپے شادی کر لیتے ہیں۔ایسی شادیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے پوری زندگی اپنی شناخت سے محروم رہتے ہیں، کیونکہ ان کے  اصل باپ بدنامی کے ڈر سے ان کی ولدیت تسلیم نہیں کرتے۔سخاوت علی بتاتے ہیں   معاشرہ انہیں تعصب اور امتیازی رویّوں کا نشانہ بناتا ہے ۔  اور ان کے بچوں کو سکولوں میں داخلہ نہیں دیا جاتا۔بازار حسن کا سماجی زوال یہی سے شروع ہوتا ہے۔
      جسم فروشی اور سماجی مسائل
انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک بیٹا جوتے بنانے کا اور دوسرا ہوٹل پر کام کرتا ہے۔’سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہمارا کوئی لڑکا اچھی جگہ پر نوکری نہیں کر سکتا۔ لوگ انہیں کمتر سمجھتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بازارِ حسن میں رہنے والے لوگ بیٹیوں سے پیشہ کراتے ہیں۔ لڑکیوں کی شادیاں اِدھر ہی تماش بینوں سے ہو جاتی ہیں اور ان سے پیدا ہونے والے بچے بھی ادھر ہی رہتے ہیں۔’کچھ لوگ اپنی اولاد کو چوری چُھپے اس محلے سے علیحدہ گھر میں رکھ لِیتے ہیں اور ان کے تمام اخراجات بھی ادا کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس بازار کی کچھ  لڑکیاجو شادی کر کے اپنے اپنے گھروں میں خوش اور آباد ہیں اور اپنی بدنامی کے خوف سے دوبارہ اس بازار میں مِلنے بھی نہیں آتیں۔انہیں دیکھ کر مسرت ہوتی ہے کہ وہ اچھی زندگی تو گزار رہی ہیں۔
     بازار کی موجودہ صورتحال
    بازارِ حسن کی رہائشی ایک خاتون نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ارد گرد کے دیہات کی کچھ عورتوں محلے میں کرائے پر مکان لے رکھے ہیں۔ وہ سارا دن یہاں رہتی ہیں اور شام کو واپس اپنے گھروں کو چلی جاتی ہیں۔
        ساہیوال کے بازارِ حسن کے مکینوں کو درپیش سماجی اور معاشی مسائل
     یہاں کی رہائشی خاتون  نے کہا کہ نئی نسل محلہ چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔ مگر یہاں سے کہاں جائیں؟’ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ کوئی کام کر سکیں۔ ہمارے بچوں کو بھی اچھی نوکریاں مل جائیں تو ہم یہ دھندھ چھوڑ کر عزت کی زندگی بسر کریں۔انہوں نے علاقے میں ہسپتال یا ڈسپنسری کے قیام کا مطالبہ کیا۔

     جوتوں کے کارخانے
     محمد صدیق بازارِ حسن کے علاقے میں چھ سال سے جوتوں کا کارخانہ چلا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں دکانوں اور مکانوں کے کرائے بہت کم ہیں۔ وہ اور ان جیسے دوسرے لوگوں نے اسی وجہ سے یہاں کا رخ کیا تھا۔ہم اپنا کام کرتے ہیں اور غیر ضروری باتوں کی طرف دھیان نہیں دیتے۔

    اس بازار کا  ماضی حال
      ساہیوال کا بازار حسن باضابطہ طور پر ختم ہو چکا ہے، مگر اس سے جڑے سماجی،معاشی اور انسانی مسائل آج بھی زندہ ہیں۔
  ریاست نے محلہ تو ختم کیا، مگر یہاں رہنے والوں کے لئے کوئی مستقل پالیسی تشکیل نہیں دی۔
    ہم نے بازار حسن ختم نہیں کیا، ہم نے آنکھیں بند کیں۔
 ہم یہ سمجھ بیٹھے کہ 
ناچ گانا بند ہوا، مسئلہ ختم ہوا۔
یہ سب سے بڑا جھوٹ تھا۔ 
حقیقت یہ ہے کہ فن ختم ہوا، مگر مجبوری باقی رہی۔
  محلہ مٹ گیا، مگر انسان وہیں  رہ گئے۔
  ہم اخلاقی بن گئے ، مگر انسانی نہ بن سکے۔
  ہم نے عورت کو گناہ کہا، مگر اس کے بچے کو بھی سزا دی۔
  اگر بچہ مجرم نہیں ، تو سزا کیوں؟
  کوئی بچہ اپنی پیدائش کا انتخاب نہیں کرتا۔
  پھر ہم اسے پوری زندگی کیوں یاد دلاتے ہیں کہ وہ کہاں پیدا ہو؟
  یہ سوال صرف ساہیوال کا نہیں 
  یہ ہمارے معاشرے کی روح سے سوال ہے۔
  آخری بات
  بازار حسن ایک آئینہ تھا۔
  ہم نے آئینہ توڑ دیا، چہرہ نہیں بدلا۔
  آخری سوال
  اگر ریاست ماں کے گناہ کی سزا بچے کو دیتی ہے 
  تو پھر اخلاقیات کا دعوی کون سا ہے؟



ساہیوال کا بازارِ حسن – تاریخ، دلچسپ حقائق اور مقامی کہانیاں
Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی