خطروں میں گھرے پودے اور درخت

خطروں میں گھرے پودے اور درخت

 پیلو، کری، شریں، گگل، کھار اور دیگر مقامی درخت کیوں ختم ہو رہے ہیں؟

تحریر و تحقیق: حیدر سید


انسانی حیات کے لیے درخت اتنے ہی ضروری ہیں جتنی سانس۔ درخت صرف آکسیجن کی فراہمی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ ان سے حاصل ہونے والی جڑی بوٹیاں ادویات میں استعمال ہوتی ہیں، جبکہ ان کی لکڑی صدیوں سے ہماری ضروریات، آسائش اور ایندھن کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے ماحول میں پائے جانے والے بہت سے مقامی پودے اور درخت تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان میں پیلو، کری، ڈھاک، بھان، سفید شریں، کتھا، پھوگ، گھاس، گلپر، جنڈ، پیپل، ارجن، دوزخ، لسوڑا، بوہڑ، گگل اور کھار وغیرہ شامل ہیں۔
مقامی درخت ہماری ثقافت کا حصہ
یہ درخت صرف پودے نہیں بلکہ ہماری ثقافت، دیہی زندگی اور آباؤ اجداد کی یادوں کا حصہ ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ درخت شہروں کے آس پاس، کھیتوں کے کناروں، قبرستانوں، گزرگاہوں اور پرانی عمارتوں کے قریب عام نظر آتے تھے، لیکن اب ان کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔
شہروں کے پھیلاؤ اور زرعی زمینوں کے رہائشی کالونیوں میں تبدیل ہونے کی وجہ سے بھی ان مقامی درختوں کا وجود متاثر ہوا ہے۔ پرانے درختوں کو کاٹ کر ان کی جگہ نئے اور مہنگے آرائشی پودے لگانے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔
رہائشی کالونیوں میں جگہ محدود ہونے کی وجہ سے بھی لوگوں کا رجحان مقامی درختوں کے بجائے ایسے آرائشی پودوں کی طرف بڑھا ہے جو کم جگہ گھیرتے ہیں۔

زرعی ادویات بھی مقامی پودوں کے لیے خطرہ پودوں اور درختوں پر زرعی ادویات کے بے تحاشا استعمال کو بھی مقامی نباتات کے زوال کی ایک وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ قدرتی ماحول میں پرورش پانے والے بہت سے پودے غیر فطری ماحول میں آسانی سے نشوونما نہیں پا سکتے۔ اس کے علاوہ نئے لگنے والے چھوٹے پودوں کی مناسب حفاظت نہ ہونے کی صورت میں جانور انہیں کھا جاتے ہیں، جس کے باعث ان کی قدرتی افزائش متاثر ہوتی ہے۔


خطروں میں گھرے پودے اور درخت


شیشم (ٹاہلی) کی تعداد میں بھی کمی
تقریباً 20 برس قبل شیشم، جسے ٹاہلی بھی کہا جاتا ہے، ختم ہونے والے درختوں میں تقریباً 10 فیصد تک موجود تھا، لیکن اب اس کی شرح کم ہو کر تقریباً 0.5 فیصد رہ گئی ہے۔ اسی طرح پیپل، بوہڑ اور ون (پیلو) کے درخت اب زیادہ تر پرانے قبرستانوں، قدیم عمارتوں یا بعض دیہات میں کہیں کہیں نظر آتے ہیں۔
خطروں میں گھرے پودے اور درخت

گگل گگل ایک جڑی بوٹی ہے جس کا استعمال عام گھروں میں کیڑے مکوڑوں کو بھگانے کے لیے کیا جاتا تھا۔ اس کا چھوٹا سا پودا قبرستانوں یا زرعی زمینوں کی گزرگاہوں کے کنارے اگتا تھا، لیکن اب یہ بھی بہت کم نظر آتا ہے۔
خطروں میں گھرے پودے اور درخت


کھار کھار ایک جڑی بوٹی کی نسل کا پودا ہے۔ تقریباً 20 سے 30 سال پہلے لوگ اس جڑی بوٹی کی ٹہنیوں اور پتوں کو پانی میں ابال کر کپڑے دھوتے تھے۔ اس سے کپڑے صاف کیے جاتے تھے اور اس دور میں صابن یا واشنگ پاؤڈر کا ایک قدرتی متبادل سمجھا جاتا تھا۔ اب اس پودے کا وجود بھی بہت کم رہ گیا ہے۔
خطروں میں گھرے پودے اور درخت
کریر کریر ایک سبز رنگ کی جھاڑی ہے جسے کری بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً قبرستانوں اور میدانی جگہوں پر اگتی تھی، لیکن اب یہ بھی پہلے کی نسبت بہت کم دکھائی دیتی ہے۔
خطروں میں گھرے پودے اور درخت


لسوڑا لسوڑے کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ اس کے کچے پھل کا اچار بھی بنایا جاتا ہے جو بہت لذیذ ہوتا ہے۔ لسوڑے کا درخت بھی اب بہت کم تعداد میں پایا جاتا ہے۔
خطروں میں گھرے پودے اور درخت


سفید شریں سفید شریں ایک عام درخت تھا جو سڑکوں کے کنارے اور کھیتوں کی منڈھیوں پر موجود ہوتا تھا۔ اس کے چھلکے سے لے کر بیج تک مختلف حصے ادویات بنانے کے کام آتے تھے۔ یہ درخت بھی اب بہت کم نظر آتا ہے اور بعض جگہوں پر پرانی عمارتوں کے آس پاس ہی دکھائی دیتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان میں سفید شریں کے چند پودے باقی رہ گئے ہیں، جبکہ کالا شریں کے درخت نسبتاً زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔
گلہڑ کا درخت


گلہڑ گلہڑ ایک گھنا، لمبا اور پھل دار درخت ہے۔ یہ درخت بھی اب نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے اور اس کی موجودگی بہت کم دکھائی دیتی ہے۔
دوزخ کا درخت


دوزخ کا پودا دوزخ کا پودا بھی تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں یہ پودا مختلف علاقوں میں عام دکھائی دیتا تھا، لیکن اب اس کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے۔


خطروں میں گھرے پودے اور درخت


پیلو پیلو بھی ان درختوں میں شامل ہے جو وقت کے ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں۔ کبھی یہ درخت کھلے اور میدانی علاقوں میں عام نظر آتا تھا، لیکن اب اس کی تعداد پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
خطروں میں گھرے پودے اور درخت


پیپل پیپل کا درخت بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں یہ درخت کھلی جگہوں پر عام طور پر موجود ہوتا تھا، لیکن اب پہلے کی طرح ہر جگہ نظر نہیں آتا۔ معدوم ہوتے پودوں اور درختوں کے تحفظ کی کوششیں ان پودوں اور درختوں کو بچانے کے لیے پنجاب فارسٹری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فیصل آباد میں کام کیا جا رہا ہے۔ یہاں ان پودوں کو نرسریوں میں اگایا جا رہا ہے تاکہ یہ درخت اور پودے دوبارہ ہماری ثقافت اور ماحول کا حصہ بن سکیں۔ اس کے علاوہ کاشتکاروں کو بھی ان پودوں اور درختوں کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی زمینوں پر ان کی افزائش کر سکیں۔ یہ پودے سرکاری نرسریوں میں بہت کم قیمت پر دستیاب بھی ہوں گے، جس سے ان کے تحفظ اور دوبارہ شجرکاری میں مدد مل سکتی ہے۔ ہماری ذمہ داری یہ پودے اور درخت صرف سبزہ نہیں بلکہ ہماری دیہی ثقافت اور ماضی کی زندگی کا حصہ بھی رہے ہیں۔ اگر ان کے تحفظ اور افزائش پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والی نسلیں ان میں سے بہت سے پودوں کو صرف کتابوں اور تحریروں میں ہی پڑھ سکیں گی۔ ان کے تحفظ کے لیے سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں اور عام شہریوں کا تعاون بھی ضروری ہے۔



Hydersyed

Writter, Poet

1 تبصرے

جدید تر اس سے پرانی