فاسٹ فوڈ کھانے کے پانچ نقصانات

  فاسٹ فوڈ کھانے کے پانچ نقصانات


                                 تازہ اوردیسی پکے ہوئے کھانے غذائیت سے بھر پور ہی نہیں بلکہ ہماری اچھی صحت کے ضامن بھی ہیں۔ یہ روائتی کھانے ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کھانوں میں جدت آنے لگی اورانہیں روایت سے ہٹ کر پکایا جانے لگا تو یہ ہماری صحت کو نقصان پہنچانے کے در پہ ہوئے۔ ہماری مصروفیت نے ان فاسٹ فوڈ کو تقویت دی جس سے ہماری صحت کے بہت سے مسائل اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کھانوں کو روزمرہ استعمال کرنے والے بلڈ پریشر،شوگر، معدہ ودیگربہت سی جان لیوا بیماریوں میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ فاسٹ فوڈ ہمیں آن لائن مل جاتے ہیں یا بازار سے بند پیک جو کم وقت میں تیارہوجاتے ہیں اورہم میں سے اکثراس بات پر بھی غور نہیں کرتے کہ یہ چیزیں ہمارے جسم کو کیا نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایک اوروجہ جو ہم ان فاسٹ/جنک فوڈ آپشنزکوترجیح دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ بہت کم بجٹ میں ہمیں مل جاتے ہیں۔ چھوٹی عمرمیں جو بچے ان فاسٹ فوڈ کے عادی ہو جاتے ہوکربہت سے صحت کے مسائل کا سامنا کریں گے.بنیادی طور پر وہ بڑے کھانوں میں زیادہ مقدار کاربوہائیڈریٹ اور سوڈیم کی ہوتی ہے جو غذائیت کے لحاظ سے انتہائی غیر متوازن ہیں۔ ان فاسٹ فوڈ کے کھانے سے ہم کن بیماریوں کے شکار ہوتے ہیں، صرف پانچ بیماریوں کا تذکرہ کریں گے۔                                            


    جلدی مسائل
تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہم جو کھانا کھاتے ہیں،کا براہ راست اثر ہماری جلد پر پڑتا ہے۔ ہماری غذا کی وجہ سے ہی ہمیں جلدی مسائل جیسے کیل مہاسے، خارش وغیرہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان جلدی امراض کی وجہ وہ فاسٹ فوڈ ہیں جو تل کر پکائے جاتے ہیں۔ ان تلی ہوئی اشیاء کی وجہ سے یہ جلدی امراض ظاہر ہوتے ہیں۔ ان کھانوں میں کاربوہائیڈریٹ کی ضرورت سے زیادہ پائی جانے والی مقدار ہماری جلد کو نقصان پہنچاتی ہے۔  

  

  یاداشت میں کمی

  فاسٹ فوڈز کا ایک منفی پہلو یاداشت کی خرابی کی رفتار کو بڑھانا ہے اس کی بنیادی وجہ ان کھانوں میں موجود چکنائ کی مقدار  کی زیادتی ہے جیسے ملک شیک، فرائز وغیرہ۔ اس سے قبل ماہرین کو صرف یہ معلوم تھا کہ چکنائی امراض قلب کا باعث بنتی ہے۔ مگر حالیہ تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دماغ کی فعالیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔یہ دماغ کے ممکنہ یاداشت والے حصہے کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے۔ جہاں آپ بھولتے رہتے ہیں کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں۔  

  قبض                                                      

نظام انہضام کے حوالے سے سبزیاں اور پھل نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ پروسیسرڈ فوڈز کا      زیادہ استعمال پورے نظام کو درہم برہم کرتا ہے۔ اور قبض کی شکایت عام ہو جاتی ہے پھلوں اور سبزیوں میں ایک مخصوص فائبر ہوتا ہے جو جسم سے تمام فضلہ نکالنے میں مدد کرتا ہے۔ اور یہ اشیاء بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔  

   

      بلڈ شوگر میں اضافہ

      زیادہ کاربوہائیڈریٹ والی خوراک کے عادی لوگوں میں بلڈ شوگرعام دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنے خون کا چیک اپ کرواتے رہنا چاہیئے۔  نشاستہ کی زیادہ مقدار ہونے کی وجہ سے دانتوں کے مسائل میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے 

 


       موٹاپا

                        کھانوں کو پروسیسرڈ فوڈز میں تبدیل کرنے کی وجہ سے موٹاپا جلد آجاتا ہے۔ ہر وقت پیٹ  پھولا پھولا سا لگتا ہے۔



Read More: انرجی ڈرنکس کا استعمال مضر صحت

Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی