آکسیٹوسین ٹیکہ کیا ہے؟ جانوروں اور انسانوں پر اثرات


آکسیٹوسین ٹیکہ کیا ہے؟ 

جانوروں اور انسانوں پر اس کے خطرناک 

 اثرات



Oxytocin injection effects on dairy animals and human health  (Oxytocin Injection) آکسیٹوسین ٹیکہ 
    آ  کسیٹوسین  ٹیکہ ایک مصنوعی ہارمونل دوا ہے ، جس کا فعال مادہ  آکسیٹوسین ہے۔
 جس کے جانوروں اور انسانوں کی صحت پر مختلف اثرات مر تب ہو 
سکتے ہیں۔ 

    ایک وقت تھا جب بازار میں بھینس اور گائے کا خالص دودھ آسانی سے مل جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ دودھ میں پانی کی ملاوٹ ہونے لگی۔ پھر کریم نکال کر دودھ فروخت کرنے کا رواج بڑھ گیا۔ مگر اب حالات اس حد تک بدل چکے ہیں کہ بعض لوگ زیادہ منافع کمانے کی خاطر کیمیکلز  سے تیار کردہ مصنوعی دودھ اور ہارمون والے دودھ کو بھی فروخت کر رہے ہیں۔

ان ہی خطرناک طریقوں میں سے ایک طریقہ آکسیٹوسین ٹیکہ (Oxytocin Injection) کا بے جا استعمال ہے۔ دودھ نکالنے سے پہلے گائے یا بھینس کو یہ ٹیکہ لگایا جاتا ہے تاکہ دودھ جلدی اتر آئے اور دودھ نکالنے کا عمل آسان ہو۔ عام خریدار کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ اس دودھ کے انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

   آکسیٹوسین ٹیکہ کیا ہے؟

آکسیٹوسین دراصل ایک قدرتی ہارمون ہے جو انسان اور جانوروں کے دماغ کے ایک حصے ہائپوتھیلمس، میں بنتا ہے اور پیچیوٹری گلینڈ کے ذریعے خارج ہوتا ہے۔

طبی طور پر اس ہارمون کی مصنوعی شکل آکسیٹوسین انجکشن کے نام سے تیار کی جاتی ہے، جسے عموماً زچگی کے دوران استعمال کیا جاتا ہے۔

اس دوا کے اہم طبی مقاصد یہ ہیں:

 رحم کے سکڑاؤ کو مؤثر بنانا

 زچگی کے عمل کو شروع یا تقویت دینا

پیدائش کے بعد خون کے زیادہ بہاؤ کو روکنا

رحم کے سکڑاؤ کو قابو میں رکھنا

یہ دوا اصل میں انسانی طب کے لئے تیار کی گئی تھی، مگر بعض جگہوں پر اسے دودھ کے کاروبار میں غلط طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

   جانوروں میں آکسیٹوسین ٹیکہ کا استعمال

کچھ دودھ فروش زیادہ منافع کے لئے گائے یا بھینس کو دودھ نکالنے سے پہلے آکسیٹوسین ٹیکہ لگا دیتے ہیں۔

اس ٹیکہ کے بعد جانور کے جسم میں موجود ہارمونز کی سرگرمی بڑھ جاتی ہے اور دودھ جلدی تھنوں میں اتر آتا ہے۔اس طرح کا غیر ضروری استعمال جانوروں کی فلاح اور صحت کے حوالے سے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

 آکسیٹوسین ٹیکے کے جانوروں پر ممکنہ اثرات

ماہرین حیوانات اور ویٹرنری تحقیق کے مطابق اس ٹیکہ کے مسلسل استعمال سے جانوروں میں کئی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اہم اثرات درج ذیل ہیں:

1۔ جانور کو شدید تکلیف

ٹیکہ لگنے سے رحم اور  پٹھوں میں غیر معمولی سکڑاؤ پیدا ہوتا ہے جس سے جانور کو تکلیف ہوتی ہے۔

2۔ بانجھ پن کا خطرہ

طویل عرصے تک استعمال سے جانوروں میں تولیدی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

3۔ دودھ کی قدرتی   پیداوار میں کمی

 مسلسل غیر ضروری استعمال سے جانور کی قدرتی دودھ دینے کی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔

ویٹرنری تحقیق کے مطابق مسلسل ہارمون کے استعمال سے  جانور کی مجموعی صحت کو متاثر کرتا ہے۔

      جدید تحقیق کیا کہتی ہے؟

حالیہ برسوں میں عالمی اداروں نے آکسیٹوسین کے غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔

جدید تحقیقات کے مطابق:

دودھ کے لئے آکسیٹوسین کا استعمال کئی ممالک میں قانونی طور پر محدود یا ممنوع ہے۔

اس ہارمون کے مسلسل استعمال سے جانوروں کے ہارمونل نظام میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

بعض تحقیقات کے مطابق آکسیٹوسین کے باقی اثرات دودھ میں منتقل ہو کر انسانی  ہارمونل نظام کو متاثر کر تا ہے۔

اسی وجہ سے ماہرین صحت اور خوراک کے ادارے اس کے استعمال میں احتیاط کی تاکید کرتے ہیں۔

آکسیٹوسین سے علاج کیے گئے جانور کے دودھ کے ممکنہ اثرات

اگرچہ اس موضوع پر مزید تحقیق جاری ہے، لیکن بعض طبی ماہرین کے مطابق ایسے دودھ کے استعمال سے انسانی صحت پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

ممکنہ اثرات میں شامل ہیں:

ہارمونل نظام میں خرابی

 غیر ضروری اور مسلسل استعمال جانوروں کی تولیدی صحت کے حوالے سے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ صحت کے ماہرین معیاری، محفوظ اور صحت بخش  دودھ کے استعمال کی تاکید کرتے ہیں۔

                         Create a realistic educational illustration showing a dairy cow being injected with oxytocin by a farmer while milk is being collected in a bucket. On the other side, show a worried family holding a glass of milk symbolizing health concerns. The style should be documentary and informative, suitable for a health awareness blog article. Soft natural lighting, farm background, high resolution, blog featured image size.


 معاشرتی اور قانونی پہلو

بدقسمتی سے بعض علاقوں میں آکسیٹوسین انجکشن کریانہ یا میڈیکل سٹورز پر باآسانی دستیاب ہوتا ہے۔

اگر متعلقہ ادارے اس کی فروخت کو سختی سے کنٹرول کریں تو:

جانوروں کی صحت بہتر ہو سکتی ہے۔

انسانی صحت محفوظ رہ سکتی ہے۔

 دودھ کے معیار اور جانوروں کی صحت کی نگرانی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ 

 Create a realistic educational illustration showing a dairy cow being injected with oxytocin by a farmer while milk is being collected in a bucket. On the other side, show a worried family holding a glass of milk symbolizing health concerns. The style should be documentary and informative, suitable for a health awareness blog article. Soft natural lighting, farm background, high resolution, blog featured image size.              نتیجہ

   آکسیٹوسین ایک حقیقی طبی ہارمون اور دوا ہے، لیکن دودھ کی پیداوار یا دودھ اتارنے کے لیے جانوروں میں اس کا غیر ضروری اور غیر محتاط استعمال جانوروں کی فلاح، علاج کے درست استعمال اور خوراک کی نگرانی کے حوالے سے تشویش کا موضوع ہے۔ پاکستان میں دودھ کے بعض نمونوں میں آکسیٹوسین کی باقیات بھی تحقیقی طور پر رپورٹ ہوئی ہیں۔ تاہم موجودہ شواہد کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ آکسیٹوسین سے علاج کیے گئے جانور کا دودھ لازماً انسانی ہارمونل نظام، بچوں کی بلوغت، بینائی یا عمومی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام میں آگاہی پیدا کی جائے اور متعلقہ ادارے اس کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کے لئے مؤثر اقدامات کریں تاکہ معاشرے کو صحت مند غذا میسر آ سکے۔           
  


 

 

Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی