کولیسٹرول کی زیادتی اور بیماریاں

کولیسٹرول کی زیادتی اور بیماریاں

کولیسٹرول کی زیادتی اور بیماریاں۔۔۔


کولیسٹرول کی زیادتی سے  بہت سے دیگر طبی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ابتدا میں ہی اس پر قابو پالیا جائے تو بہتر ہے ، ورنہ یہ دل کے امراض کا سبب بنتا ہے۔ کیونکہ کولیسٹرول کی زیادتی والے لوگ ہائی بلڈ پریشر جیسی خطرناک بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں ۔۔


   ہائی کولیسٹرول کیا ہے؟

   جسم کو کام کرنے کے لیے چربی کی جتنی ضرورت ہوتی ہے اس سے زیادہ ہو تو وہ استعمال میں نہیں آتی۔ وہ زائد چربی شریانوں میں دیگر مادوں کے ساتھ جمع ہو کر شریانوں کو بند کر دیتی ہے۔

    آغاز میں چربی کی زیادتی کا پتہ نہیں چلتا جب پتہ چلتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ بند شریانوں کو کھولنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ خون کی روانی نا ہونے سے ہائی بلڈپریشر و دیگر بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان بیماریوں سے بچنے کا حل یہی ہے کہ ہائی کولیسٹرول کا بذریعہ خون ٹیسٹ کرواتے رہنا چاہیئے۔ اس ٹیسٹ کو لپڈ پینل کہتے ہین۔ یہ ٹیسٹ بتا دیتا ہے کہ خون میں چربی کی 

مقدار کتنی ہے


   



  
     جسم میں چربی کی دو اقسام پائی جاتی ہیں۔

   ایک اچھی اور دوسری بری قسم ہے۔

اچھے کولیسٹرول کو ہائی  ڈینسٹی لیپو پروٹین کہا جاتا ہے۔

ایچ ڈی ایل جگر میں کولیسٹرول کو لے جاتے ہیں۔

جگر کولیسٹرول کی سطح کو متوازن رکھتا ہے۔ ۔ یہ جسم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کولیسٹرول بناتا ہے۔

زائد کو جسم سے نکال دیتا ہے۔  جگر میں کولیسٹرول لے جانے کے لئے ایچ ڈی ایل کا کافی مقدار میں ہونا ضروری ہے۔ 

ایچ ڈی ایل کم ہونے کی صورت میں کولیسٹرول خون میں گردش کرنے لگتا ہے۔

 خراب چربی کو کم کثافت لیپو پروٹین کہتے ہیں۔ یہ شریانوں میں جمع ہو کر دل کے امراض کا سبب بنتی ہے۔


کولیسٹرول کی زیادتی اور بیماریاں۔۔۔


.
   

 ہائی کولیسٹرول کم عمریا جوانی میں شروع ہو جاتا ہے۔

اس لئے ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں کہ کم عمری میں ہی  ہائی کولیسٹرول کے ٹیسٹ کروا لینے چاہیئں۔نو سال کی عمر سے کولیسٹرول کے ٹیسٹ کروا کر پھر تین چار سال بعد ٹیسٹ کرواتے رہیں۔ جن بچوں کے والدین کولیسٹرول کی زیادتی یا دل کے امراض میں مبتلا ہیں  انہیں بہت جلد اور ریگولر ٹیسٹ کرواتے رہنا چاہیئے۔ 

AMAB ٹیسٹ

مرد حضرات45 سال کی عمرتک ہر پانچ سال بعد یہ ٹیسٹ کروانا چاہیئے۔ یہی تفویض کردہ افراد 55 سے 65 سال کی عمر تک ہر ایک سے دو سال بعد اور 65 سال کی عمر کے بعد ہر سال کولیسٹرول چیک کرواتے رہیں۔  

AFAB

یہ ٹیسٹ اسی طریقہ کار کے مطابق خواتین کے لئے ہے۔

      ان ٹیسٹوں کے بعد معالج ہی بہتر تجویز کر سکتا ہے کہ آپ کو دوبارہ ٹیسٹ کی کب ضرورت ہے۔ دل کے امراض کے خطرے کے پیش نظر یہ ٹیسٹ بار بار بھی کروائے جاسکتے ہیں

 ہائی کولیسٹرول کی وجوہات 

کولیسٹرول کی زیادتی اور بیماریاں۔۔۔



 ہمارا طرز زندگی ہائی کولیسٹرول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تمباکو نوشی، بہت زیادہ تناو میں رہنا، شراب نوشی، چکنائی والی اشیاء کا زیادہ استعمال کولیسٹرول کی زیادتی کا سبب بنتے ہیں۔ کچھ غذائیں بھی ایسی ہیں جو کولیسٹرول کو کم یا زیادہ کرتی ہیں۔ ماہر غذائیات بہتر بتا سکتا ہے کہ آپ کے لئے کون سی غذا بہتر ہے۔

     ہائی کولیسٹرول ابتدا میں کوئی علامات ظاہر نہیں کرتا۔ معلوم تب ہوتا ہے جب اس کی وجہ سے بہت سی بیماریاں آپ 

کو گھیر لیں گی۔


کولیسٹرول کی زیادتی اور بیماریاں ۔۔۔

   وقت گزرنے کے ساتھ سا تھ ہائی کولیسٹرول خون کی نالیوں کے اندر جمع ہو کر جمنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایتھرو سکلر و سیس والے لوگوں کو بہت سی مختلف   طبی حالتوں کے پیش نظر زیادہ خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انکی خون کی نالیاں پورے جسم میں اہم کام کرتی ہیں۔ لہذا جب خون کی نالیوں میں کسی میں بھی کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو ان پر اثرات زیادہ ہوتے ہیں ۔ خون کی نالیوں میں جمع شدہ کولیسٹرول و دیگر مادوں کے ذرات خون کا بہاؤ  روک دیتے ہیں یا کم کر دیتے ہیں۔

کولیسٹرول کی زیادتی اور بیماریاں۔۔۔

جب خون بروقت دل تک نہیں پہنچتا تو وہ خراب ہو جاتا ہے یا دل کا دورہ پڑتا ہے۔ نوجوانوں کو یہ زیادہ متاثر کرتا ہے۔

 مرنے والے 5 میں سے تقریبا 1 فرد 65 سال سے کم عمر میں ہی اس کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی لئے چھوٹی عمر میں ہی کولیسٹرول کی جانچ کرا لینی چاہیئے۔ ورنہ وقت کے ساتھ ساتھ کورونری شریانوں میں جمع ہو جاتا ہے۔بعد میں یہی سینے میں درد (انجائنا) یا دل کے دورے کا باعث بنتا ہے۔


Read More: شوگر ایک خاموش قاتل


Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی