موجودہ صحافت سچ یا محض ایک خیال

 موجودہ صحافت سچ یا محض ایک خیال

 



تحریر: حیدر سید

 جمہوریت کا چوتھا ستون سمجھی جانے والی صحافت آج دگرگوں کا شکار ہے۔ جہاں سچ کم اور جانبداری زیادہ ہے۔ صحافت وہ مقدس پیشہ ہے جہاں جھوٹ اور سچ کو علیحدہ علیحدہ کر کے اصل حقائق بیان کئے جاتے ہیں، مگر افسوس آج ہماری صحافت تماش بینوں میں گھر چکی ہے۔ صحافت کے اصل مفہوم سے ناآشنا لوگوں نے اسے محض پیشہ کے طور پر اپنایا ہوا ہے۔ سچ اور جھوٹ کی تمیز یکسر فراموش کر چکے ہیں۔موجودہ صحافت سچ یا محض ایک خیال بن چکی ہے۔

صحافت کیا ہے؟ کیوں ضروری ہے؟ صحافی کے فرائض کیا ہیں؟ ان پر مختصرا احاطہ تحریر میں لانے کی سعی کی ہے۔

" صحیفہ" عربی زبان کا لفظ جس کا اردو میں معنی رسالہ یا نامہ ہے۔ صحیفہ نگاری یا نامہ نگاری صحافت کا ہی نام ہے۔ صحیفہ وہ ہوتا ہے جو وقت مقررہ میں شائع کیا جائے۔ اخبار اور رسالہ کی مقررہ وقت میں اشاعت ہوتی ہے اس لئے انہیں صحیفہ کہا جاتا ہے۔ کتاب کی اشاعت میں وقت کی قید نہیں ہوتی، اس لئے یہ صحیفہ میں نہیں آتی۔

صحافی ارد گرد ہونے والے واقعات کو ترتیب وار اور مناسب الفاظ میں ڈھال کر خبر یا مضمون تخلیق کرتا ہے۔ یہ تحریری مواد غیر جانبدار اور اچھے الفاظ پر مشتمل ہو گا تو قاری کے دل پر اثر کرے گا۔ عام فہم اور دیدہ زیب الفاظ میں لکھی گئی تحریر قاری پسند کرتا ہے اور ایسی تحریر کا منتظر رہتا ہے۔

صحافی اپنے قلم کے ذریعہ دوسروں کو صلاح دیتا ہے۔ دوسروں کے لئے تربیت کا پہلو نمایاں رکھتا ہے۔ معاشرہ میں پسے لوگوں کی حالت زار پر لکھ کر دوسروں کی توجہ اس طرف مبذول کرواتا ہے۔وہ قلم ہی ہے جس کے ذریعہ معاشرے کو سدھارا اور بگاڑا جاسکتا ہے۔صحافی اپنے قلم سے بڑے بڑے ایوانوں کو بھی لرزا سکتا ہے۔

صحافی کو خوش گفتار اور نرم مزاج ہونا چاہئے تا کہ دوسروں کے لئے عملی نمونہ ثابت ہو۔

صحافی ہمیشہ سچ کا ساتھ دیتا ہے۔ اس کے الفاظ میں اتنی طاقت ہو کہ مخالف بھی عش عش کر اٹھے۔ صحافی اور ادیب دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ صحافی ادیب بھی ہو گا تو خبر کو خوبصورت الفاظ کا جامہ پہنا کر واقعات کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرے گا۔ خبر سے لے کر اشتہاری مضمون تک صحافی کی کاوش ہوتی ہے۔ اشتہار میں جتنے جاذب نظر الفاظ ہوں گے، اتنی ہی زیادہ وہ مصنوعات فروخت ہوں گی۔ مصنوعات بنانے والے اداروں کو اس بات کا ادراک ہے جبھی تو انہوں نے الگ سے شعبہ صحافت بنا رکھا ہے۔

صحافت میں جن باتوں کا خیال رکھا جانا چاہئے وہ درج ذیل ہیں۔

صحافی پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ خبر کے ہر پہلو پر نظر رکھے، سچ کا ساتھ دے۔ دوسروں کی نجی اور ازدواجی زندگی کو متاثر نہ کرے۔ ایسی بات جس سے عوام میں بگاڑ پیدا ہو، کی تشہیر نہ کرے۔

دوسروں کے مذہبی اور سیاسی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائے۔

کسی اہم شخصیت کی نجی محفل میں کہی گئی بات کو اس کے نام سے منسوب کر کے خبر کا حصہ نہ بنائے۔ کسی خاص گروہ یا طبقہ کو مذاق کا نشانہ نہ بنائے۔

دوسروں کے جذبات ابھارنے والی خبروں کو شائع کرنے سے گریز کرے۔ایسی خبروں سے پرہیز کرے جو تجسس پیدا کریں اور حقائق پر مبنی نہ ہوں۔ ایسی خبریں نہ شائع کرے جس سے ملک میں انتشار پھیلے۔

کارٹون یا مزاح میں بھی دوسروں کی دل آزاری نہ ہو۔ فحش مواد جس سے دوسروں کے جذبات مشتعل ہوں، شائع نہ کرے۔

گمراہ کن تحریریں صحافت کا حصہ نہ بنائے۔

جنسی جرائم میں تصاویر اور اصلی نام شائع نہ کئے جائیں۔

بناء اجازت کسی کی تحریر یا تصویر شائع نہ کی جائے۔

جب تک عدالت فیصلہ نہ دے ملزم کو مجرم نہ لکھے ۔

صحافی سرکاری آفیسران سے زیادہ ذاتی دوستیاں نہ رکھے، غیر جانبدار رہے۔

صحافت پیشہ نہیں خدمت خلق سمجھ کر کرنی چاہیئے۔

صحافت کیا، کب، کہاں اور کیسے پر کاربند ہے۔ ان باتوں کو احاطہ تحریر میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ قاری کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

خبر ایسی مدلل الفاظ کے ساتھ بیان کی جائے کہ پڑھنے والے کے دل پر اثر کرے اور وہ بغور اس کا مطالعہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔

خبر میں عام الفاظ کا استعمال ہو اور خبر اغلاط سے پاک ہو۔

مختصر اور چھوٹے جملے لکھیں۔

جملہ کے اختتام پر خاتمہ (-) کا نشان لگائیں۔اس کے علاوہ سوالیہ (؟)، سکتہ یا کوما( ،)، کولن(:)، قوسین یا بریکٹس( )، واوین یا انورٹڈ کوما( " ") کی جہاں ضرورت ہو وہاں ضرور لگائیں۔ تحریر میں خوبصورتی اور پڑھنے والے کو بات سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

جملہ میں جہاں ٹھہرنا یا وقفہ دینا ہو وہاں کوما (،) استعمال ہوتا ہے۔

واوین (" ") سے پہلے کولن

🙂

) استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے

محکمہ صحت کے ضلعی افسر نے اخباری نمائندگان سے بات کرتے ہوئے کہا: "ڈینگی مجھر سے شہر کو پاک کیا جارہا ہے۔ بہت جلد اس مچھر سے نجات مل جائے گی"

اگر آپ کوئی تحریری مواد کسی کتاب سے نقل کر رہے ہیں تو واوین کوما استعمال کریں۔ نام کتاب، صفحہ نمبر اور ناشر کا نام ضرور لکھیں۔

موجودہ دور میں صحافت کی اصل روح کچلی جا چکی ہے۔ صحافتی اقدار سے نابلد لوگ صحافت جیسے شفاف پانی کو گدلا کئے ہوئے ہیں۔ کچھ صحافتی اداروں نے بھی اداروں کو بالاخانہ کی شکل دے دی ہے۔ یہاں ہر آنے والا دام دے کر صحافی بن کر نکلتا ہے۔ ایسے اداروں نے صحافتی معیار اتنا پست کر دیا ہے کہ وہاں بھی بازاری زبان کا استعمال عام ہو گیا ہے۔ جملوں میں پھلکڑ پن نظر آتا ہے۔ شرفاء کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں۔ خبر بنانے کے بھی دام لئے جاتے ہیں۔ خبر روکنے کے بھی دام وصول ہوتے ہیں۔

خبر کیسے بنتی ہے؟ شہ سرخی کیسے بنائی جاتی ہے، یہ سب سیکھنے میں برسوں بیت جاتے تھے۔ مگر اب سیکھنے سکھانے کے مراحل سے نہیں گزرا جاتا۔ صحافی اپنے اصل کام سے کوسوں دور جا چکا ہے۔ پہلے اخبار کی خبر پر بروقت عمل درآمد ہوتا تھا۔ سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں ہونے والے جرائم کی خبر روکنے کے لئے صحافی کو پرکشش پیشکش کی جاتی تھی۔ بات نہ ماننے پر صحافی پر جھوٹی ایف آئی آر، تشدد یا قتل کرنے جیسا گھناونا کام کیا جاتا تھا اور کیا جاتا ہے۔ مگر صحافی اپنے موقف پر ڈٹا رہتا تھا۔ اب اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ اب صحافی خبر روکنے کے لئے خود پیشکش لے کر جاتے ہیں۔

مہ خانہ سے لے کر بالا خانہ تک، تعلیمی کاروبار ہو یا مسیحاؤں کا کاروبار، غیر معیاری ادویات سے لے کر ناقص دودھ تک، غیر معیاری مصنوعات یا غیر معیاری کھانے، غیر قانونی بس اڈہ جات یا غیر قانونی کاروباری مراکز، قبضہ مافیا سے لیکر ملاوٹ تک ہر دو نمبر کام میں صحافت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔

صحافیوں نے صحافت کی کئی اقسام پیدا کر لی ہیں۔ تھانہ کچہری کی صحافت، پولیس سے گاڑیاں چھڑوانے کی صحافت، مختلف اداروں سے باقاعدگی سے بھتہ لینے کی صحافت، سرکاری ٹھیکیداروں سے ، ہسپتالوں سے بھتہ وصول کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔غرض صحافت کو تماش بینوں میں گھری طوائف بنا دیا گیا ہے۔ ہر سیاسی جماعت نے اپنی مدح سرائی کے لئے صحافیوں کی فوج پالی ہوئی ہے جو ان کی ڈگڈگی پر تماشہ دکھاتے ہیں۔

پہلے صحافی بننے کے لئے بہت عرصہ درکار ہوتا تھا۔ قابلیت کی بناء پر اخبار کی نمائندگی ملتی تھی۔ اب دو دن کسی کے ساتھ بغل میں اخبار دبائے چلنے والا تیسرے دن اخبار اور کسی ٹی وی کا نمائندہ ہوتا ہے، اور دو ماہ بعد صحافی کے ساتھ سینئر کا صیغہ لگا ہوتا ہے۔ سینئر صحافی کہلوانے کے لئے عمر بیت جاتی ہے مگر آج کل دو ماہ سے پہلے ہی سینئر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

ایسے صحافی بھی ہیں جو خبر بنانا تو ایک طرف اخبار تک پڑھنا نہیں جانتے۔ دوسروں کی بھیجی ہوئی خبروں پر اکتفا کرتے ہیں۔ اکثریت صحافیوں کی ایسی حالت ہے اگر وہ پڑھنا جانتے بھی ہیں تو ان الفاظ کے معنی اور مطالب کا پتا نہیں ہوتا۔

اب نئی ففتھ جنریشن وار کا پوری دنیا کو واسطہ ہے۔ یہ وہ نئی جنگ ہے جو اسلحہ و بارود کے بغیر صحافیوں کے ساتھ مل کر لڑی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں بھی کچھ صحافی ہیں جو اس جنگ کا حصہ ہیں اور دشمن کے ساتھ مل کر ملک کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ کاش کہ صحافت کی اصل روح واپس آجائے۔ اداروں کو چاہئے کہ وہ تعلیمی قابلیت کے مطابق نمائندہ رکھیں۔ حکومت بھی صحافی کے لئے معیار تعلیم کم از کم دہم پاس کرے، جسے صحافتی معیار کے بارے علم ہو۔ ان صحافتی اداروں پر پابندی لگائی جائے جو بھاری رقم لے کر نمائندہ رکھتے ہیں، اور چھوٹے شہروں میں رکھے گئے نمائندوں سے ہر ماہ کچھ رقم کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں جنہیں پورا کرنے کے لئے انہیں غیر صحافتی کام بھی کرنا پڑتے ہیں۔

Read More: اہم اسلامی ایام

گزارش ہےکہ صحافت کو صحافت ہی رہنے دیا جائے۔ اسے بالا خانہ نا بنایا جائے۔ جو سچ ہے اسے سچ لکھا جائے۔ حکومت سے گزارش ہے کہ سچ کے متلاشی صحافیوں کے تحفظ کے لئے کچھ کیا جائے۔ صحافی کو جب تحفظ نہیں ملتا تو وہ بھی اپنی راہ بدل لیتا ہے۔ صحافی کو راہ بدلنے سے روکا جائے اور ان کے تحفظ کے لئے فوری کچھ اقدامات کئے جائیں تا کہ صحافی بے خوف و خطر ہو کر سچ کا ساتھ دے۔


Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی