پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں

پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں

پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں

تحریر و تحقیق : حیدر سید
پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں

ایک وقت تھا جب پرندوں کی چہچہاہٹ سے صبح آنکھ کھلاکرتی تھی۔ ان پرندوں کی خوش کن آوازیں دل کو مسرور کرتیں،لیکن اب آنکھوں کو جلابخشنے والے ان خوبصورت پرندوں کی نسلیں آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔معدومہونے والے پرندوں میں گدھ، فاختہ، طوطا، جنگلی کبوتر، تیتر، تلیر وغیرہ شامل ہیں۔
ان پرندوں کے ناپید ہونے کی وجہ فصلوں اور کھیتوں میں زہریلی ادویات کا استعمال ہے۔ جنگلات میں 10 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 50 سے 60 فیصد پرندوں کی بقاء خطراتکی زد پر ہے یا وہ ختم ہوچکے ہیں۔ پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں اب کسی کونظر نہیں آرہیں، مگر جب یہ پرندے ہمیں دکھائی نہیں دیں گے تب ہم کف افسوس ملتے رہ جائیں گے۔

گدھ:پرندوں میں سب سے طویل

عمر پانے والا پرندہ گدھ ہے، جو کبھی ہزاروں کی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔زمین کو مردہ جانوروں سے پاک کرنے کے لیے اس پرندے کا نہایت اہم کردار ہے، تاہم اب اس پرندے کی نسل بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے ۔ لوگ مردہ جانوروں پر زہریلا سپرے کر دیتے ہیں تاکہ اسکی بو اور جراثیم ختم ہو جائیںچناں چہ جب گدھ یا دیگر پرندے یہ گوشت کھاتے ہیں تو وہ مر جاتے ہیں۔پنجاب کے شہروں میں اب گدھ شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں

تلیر ایک انسان دوست پرندہ

ہے اور یہ زیادہ تر سائبیریا سے ہجرت کر کے آتے ہیں۔یہ پرندہ فصلوں سے کیڑوں کا خاتمہ کرنے کے باعث مشہور ہے۔ تلیر ایک وقت میں 275 سنڈیاں کھاجاتا ہے، لیکن فصلوں پر سپرے کی وجہ سے ان کی نسل بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔

تلور پہاڑی علاقوںکا پرندہ

ہے، جو زیادہ تر بلوچستان میں پایا جاتا ہے۔ کچھ پرندے یہاں بھی آ جاتے تھے، جنہیں شکاری حضرات شکار کر لیتے تھے۔ اب یہ پرندہ ان علاقوں میں نظر نہیں آتا۔

فاختہ کھیتوں میں لگے بیج کھاتی ہیں۔ کھیتوں میں زہریلے اسپرے اور ادویات کے استعمال سے لاکھوں کی تعداد میں یہ بھی موت کی وادیوں میں جا رہی ہیں۔ تیتر:تیتر ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اپنی آواز کے ’’مدھرپن‘‘ کے باعث بھی مقبول ہے۔ اس کی آواز دو سو میٹر دور تک سنائی دیتی ہے۔

تیتر کی نسل کے اعتبار سے بہت سی اقسام ہیں، جن میں کالا تیتر خاص طور پر مقبول ہے۔ لوگ شوق سے انہیں گھروں میںپالتے ہیں اور ان کی بولی پر مقابلے کروائے جاتے ہیں، لیکن اب یہ عام طور پر آسمان پرپرواز بھرتے نظر نہیں آتے بلکہ صرف شوقین لوگوں کے پنجروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔



مرغابی:مرغابی ہر شکاری کا من پسند شکار ہے۔ایک وقت تھا جب یہ لاکھوں کی تعداد میں آسمان پر اڑان بھر رہی ہوتی تھیں، لیکن اب یہ بھی معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ ان کا شکار یکم اکتوبر سے 31 مارچ تک شوٹنگ لائسنس پر کیا جا سکتا ہے۔شکاری قواعد وضوابط سے ہٹ کر ان کا شکار کرتے ہیں، جس کے باعث ان کی نسل معدوم ہونے کے خطرات سے دوچار ہے۔ اب یہاں دوسرے علاقوں سے ہجرت کرکے آنے والی مرغابیاں ہی نظر آتی ہیں۔

طوطا تمام پرندوں میں اپنی خوبصورتی کی وجہ سے الگ پہچان رکھتا ہے۔ ماضی میں طوطوں کے غول درغول فصلوں کے بیج کھاتے نظر آتے تھے، لیکن اب یہ بھی صرف پنجروں میں ہی نظر آتے ہیں جس کی وجہ نہ صرف ان کا بے دریغ شکار ہے بلکہ وہ ان کے انڈوں، بچوں اور طوطوں کو بھی پکڑ کر لے جانا ہے۔

کونج ایک غیر ملکی پرندہ

ہے جو موسمِ سرما میں سائبیریا سے ہجرت کرکے گرم علاقوں کا رُخ کرتے ہیں۔ اس پرندے کے شکار پر پابندی عائد ہے،لیکن اس کے باوجود شکاری چوری چھپے ان کا شکار کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

جنگلی کبوتر عام طور پر

بہت کم نظر آتے ہیں۔صرف شوقین لوگ ہی جنگلی کبوتروں کو گھروں میں پالتے ہیں۔

وائلڈ لائف کا کہنا ہے کہ

انہوں نے بہت سے شکاریوں کو گرفتار کیا اور جرمانہ بھی کیے ہیں، لیکن یہ لوگ اس کے باوجود غیر قانونی شکار کرنے سے بازنہیں آتے۔


Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی