پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں

پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں:


 وجوہات،خطرات اور تحفظ کی ضرورت لیں

پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں: گدھ، تیتر، تلور، طوطا اور

دیگر پرندے خطرے میں
پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں



ایک وقت تھا جب پرندوں کی چہچہاہٹ سے صبح آنکھ کھلا کرتی

تھی۔ ان پرندوں کی خوش کن آوازیں دل کو مسرور کرتیں،

لیکن اب آنکھوں کو جلابخشنے والے ان خوبصورت پرندوں کی

نسلیں آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ معدوم ہونے

والے پرندوں میں گدھ، فاختہ، طوطا، جنگلی کبوتر، تیتر، تلیر وغیرہ

شامل ہیں۔
ان پرندوں کے ناپید ہونے کی ایک بڑی وجہ فصلوں اور کھیتوں

میں زہریلی ادویات کا استعمال ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف کے

مطابق، جنگلات میں 10 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 50 سے 60

فیصد پرندوں کی بقا خطرات کی زد میں ہے یا وہ ختم ہو چکے ہیں۔

پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں اب کسی کو نظر نہیں آ رہیں، مگر

جب یہ پرندے ہمیں دکھائی نہیں دیں گے تو ہم کفِ افسوس

ملتے رہ جائیں گے۔


گدھ:قدرت کا صفائی کا نظام

پرندوں میں گدھ کا ایک اہم مقام ہے۔ یہ کبھی ہزاروں کی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔ زمین کو مردہ جانوروں سے پاک کرنے کے لیے اس پرندے کا نہایت اہم کردار ہے، تاہم اب اس پرندے کی نسل بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ بعض اوقات مردہ جانوروں پر زہریلا اسپرے کر دیتے ہیں تاکہ ان کی بو اور جراثیم ختم ہو جائیں۔ چنانچہ جب گدھ یا دیگر پرندے یہ گوشت کھاتے ہیں تو وہ بھی مر جاتے ہیں۔ پنجاب کے شہروں میں اب گدھ شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔

پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں

تلیر ایک انسان دوست پرندہ

تلیر ایک انسان دوست پرندہ ہے اور یہ زیادہ تر سائبیریا سے ہجرت کرکے آتے ہیں۔ یہ پرندہ فصلوں سے کیڑوں کا خاتمہ کرنے کے باعث مشہور ہے۔ تلیر ایک وقت میں 275 سنڈیاں کھا جاتا ہے، لیکن فصلوں پر سپرے کی وجہ سے ان کی نسل بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔

پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں


تلور: پہاڑی علاقوں کا پرندہ

تلور پہاڑی علاقوں کا پرندہ ہے، جو زیادہ تر بلوچستان میں پایا جاتا ہے۔ کچھ پرندے یہاں بھی آ جاتے تھے، جنہیں شکاری حضرات شکار کر لیتے تھے۔ اب یہ پرندہ ان علاقوں میں کم ہی نظر آتا ہے۔

پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں:


فاختہ: خوبصورت مگر خطروں سے دوچار

فاختہ کھیتوں میں لگے بیج کھاتی ہیں۔ کھیتوں میں زہریلے اسپرے اور ادویات کے استعمال سے لاکھوں کی تعداد میں یہ بھی موت کی وادیوں میں جا رہی ہیں۔

پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں

تیتر: آوا ز اور خوبصورتی کا حسین امتزاج

تیتر ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اپنی آواز کے ’’مدھر پن‘‘ کے باعث بھی مقبول ہے۔ اس کی آواز دو سو میٹر دور تک سنائی دیتی ہے۔ تیتر کی نسل کے اعتبار سے بہت سی اقسام ہیں، جن میں کالا تیتر خاص طور پر مقبول ہے۔ لوگ شوق سے انہیں گھروں میں پالتے ہیں اور ان کی بولیوں کے مقابلے بھی کروائے جاتے ہیں، لیکن اب یہ عام طور پر آسمان پر پرواز بھرتے نظر نہیں آتے بلکہ صرف شوقین لوگوں کے پنجروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔


پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں:


مرغابی:شکاریوں کا من پسند شکار

مرغابی ہر شکاری کا من پسند شکار ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ

لاکھوں کی تعداد میں آسمان پر اڑان بھر رہی ہوتی تھیں، لیکن

اب یہ بھی معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔
ان کا شکار یکم اکتوبر سے 31 مارچ تک شوٹنگ لائسنس پر کیا جا

سکتا ہے۔ شکاری قواعد و ضوابط سے ہٹ کر ان کا شکار کرتے

ہیں، جس کے باعث ان کی نسل معدوم ہونے کے خطرات

سے دوچار ہے۔ اب یہاں دوسرے علاقوں سے ہجرت کرکے

آنے والی مرغابیاں ہی نظر آتی ہیں۔




پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں:

طوطا: پنجروں تک محدود ہوتی خوبصورتی

طوطا تمام پرندوں میں اپنی خوبصورتی کی وجہ سے الگ پہچان رکھتا ہے۔ ماضی میں طوطوں کے غول در غول فصلوں کے بیج کھاتے نظر آتے تھے، لیکن اب یہ بھی صرف پنجروں میں ہی نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ نہ صرف ان کا بے دریغ شکار ہے بلکہ ان کے انڈوں، بچوں اور خود طوطوں کو پکڑ کر لے جانا بھی ہے۔

پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں:

کونج: ہجرت کر کے آنے والا پرندہ

کونج ایک ہجرتی پرندہ ہے جو موسمِ سرما میں سائبیریا سے ہجرت کرکے گرم علاقوں کا رخ کرتی ہے۔ اس پرندے کے شکار پر پابندی عائد ہے، لیکن اس کے باوجود شکاری چوری چھپے ان کا شکار کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں:


جنگلی کبوتر: کم ہوتی تعداد
جنگلی کبوتر عام طور پر بہت کم نظر آتے ہیں۔ صرف شوقین

لوگ ہی جنگلی کبوتروں کو گھروں میں پالتے ہیں۔


غیر قانونی شکار اور پرندوں کا تحفظ

وائلڈ لائف کا کہنا ہے کہ انہوں نے بہت سے شکاریوں کو

گرفتار کیا اور جرمانے بھی کیے ہیں، لیکن یہ لوگ اس کے باوجود

غیر قانونی شکار کرنے سے باز نہیں آتے۔
پرندے ہمارے ماحول کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی موجودگی نہ

صرف قدرتی حسن میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ماحولیاتی نظام کے

توازن میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر ہم نے ان کے

قدرتی مسکن، خوراک اور افزائش کے ماحول کو محفوظ نہ کیا اور

غیر قانونی شکار کا سلسلہ جاری رہا تو آنے والی نسلیں شاید ان

خوبصورت پرندوں کو صرف تصویروں میں دیکھ سکیں گی۔

پرندوں کا تحفظ صرف وائلڈ لائف کے محکمے کی ذمہ داری نہیں

بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں غیر قانونی شکار کی

حوصلہ شکنی، پرندوں کے قدرتی مسکن کے تحفظ اور زرعی

ادویات کے محتاط استعمال کے ذریعے ان خوبصورت

مخلوقات کی بقا کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی