پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں:
وجوہات،خطرات اور تحفظ کی ضرورت لیں
پرندوں میں گدھ کا ایک اہم مقام ہے۔ یہ کبھی ہزاروں کی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔ زمین کو مردہ جانوروں سے پاک کرنے کے لیے اس پرندے کا نہایت اہم کردار ہے، تاہم اب اس پرندے کی نسل بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ بعض اوقات مردہ جانوروں پر زہریلا اسپرے کر دیتے ہیں تاکہ ان کی بو اور جراثیم ختم ہو جائیں۔ چنانچہ جب گدھ یا دیگر پرندے یہ گوشت کھاتے ہیں تو وہ بھی مر جاتے ہیں۔ پنجاب کے شہروں میں اب گدھ شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔
تلیر ایک انسان دوست پرندہ
تلیر ایک انسان دوست پرندہ ہے اور یہ زیادہ تر سائبیریا سے ہجرت کرکے آتے ہیں۔ یہ پرندہ فصلوں سے کیڑوں کا خاتمہ کرنے کے باعث مشہور ہے۔ تلیر ایک وقت میں 275 سنڈیاں کھا جاتا ہے، لیکن فصلوں پر سپرے کی وجہ سے ان کی نسل بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔
تلور پہاڑی علاقوں کا پرندہ ہے، جو زیادہ تر بلوچستان میں پایا جاتا ہے۔ کچھ پرندے یہاں بھی آ جاتے تھے، جنہیں شکاری حضرات شکار کر لیتے تھے۔ اب یہ پرندہ ان علاقوں میں کم ہی نظر آتا ہے۔
فاختہ کھیتوں میں لگے بیج کھاتی ہیں۔ کھیتوں میں زہریلے اسپرے اور ادویات کے استعمال سے لاکھوں کی تعداد میں یہ بھی موت کی وادیوں میں جا رہی ہیں۔
تیتر: آوا ز اور خوبصورتی کا حسین امتزاج
تیتر ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اپنی آواز کے ’’مدھر پن‘‘ کے باعث بھی مقبول ہے۔ اس کی آواز دو سو میٹر دور تک سنائی دیتی ہے۔ تیتر کی نسل کے اعتبار سے بہت سی اقسام ہیں، جن میں کالا تیتر خاص طور پر مقبول ہے۔ لوگ شوق سے انہیں گھروں میں پالتے ہیں اور ان کی بولیوں کے مقابلے بھی کروائے جاتے ہیں، لیکن اب یہ عام طور پر آسمان پر پرواز بھرتے نظر نہیں آتے بلکہ صرف شوقین لوگوں کے پنجروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔
طوطا: پنجروں تک محدود ہوتی خوبصورتی
طوطا تمام پرندوں میں اپنی خوبصورتی کی وجہ سے الگ پہچان رکھتا ہے۔ ماضی میں طوطوں کے غول در غول فصلوں کے بیج کھاتے نظر آتے تھے، لیکن اب یہ بھی صرف پنجروں میں ہی نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ نہ صرف ان کا بے دریغ شکار ہے بلکہ ان کے انڈوں، بچوں اور خود طوطوں کو پکڑ کر لے جانا بھی ہے۔
کونج ایک ہجرتی پرندہ ہے جو موسمِ سرما میں سائبیریا سے ہجرت کرکے گرم علاقوں کا رخ کرتی ہے۔ اس پرندے کے شکار پر پابندی عائد ہے، لیکن اس کے باوجود شکاری چوری چھپے ان کا شکار کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔









