شوگر ایک خاموش قاتل

 

شوگرایک خاموش قاتل


شوگر ایک خاموش قاتل  جس پر قابو پایا جا سکتا ہے


شوگر ایک خاموش قاتل


   برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) نے انکشاف کیا ہے کہ ہر وقت پیاس محسوس ہونا ٹائپ 2 ذیابیطس کی ایک عام علامت ہے۔ ادارہ نے کہا: " بنا تشخیص کے لوگ عام طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس کے ساتھ دس سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: " بغیر پتہ چلائے ایک مریض طویل عرصے تک شوگر کا شکار ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کی علامات کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے، یا اکثر علامات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ذیابیطس کو 'خاموش قاتل' قرار دیا جاتا ہے۔"

ہیلتھ سروسز اتھارٹی کے مطابق، ٹائپ 2 ذیابیطس کی جن علامات پر آپ کو توجہ دینی چاہیے ان میں "بہت تھکاوٹ محسوس کرنا، معمول سے زیادہ پیشاب کرنا، خاص طور پر رات کے وقت، بغیر کوشش کیے وزن کم ہونا، زخموں کا ٹھیک ہونے میں معمول سے زیادہ وقت لگنا، اور نظر کا دھندلا ہونا شامل ہیں۔

شوگر ایک خاموش قاتل


 اولین مقصد." اتھارٹی نے ان سب سے عام علامات کی بھی نشاندہی کی جو عام طور پر اس حالت میں مبتلا افراد کی طرف سے رپورٹ کی جاتی ہیں، جو آپ کو اس بیماری سے آگاہ کر سکتی ہیں، اور ان میں "جلد میں سیاہ دھبے، بار بار انفیکشن، جلد پر خارش، جھنجھناہٹ یا بے حسی، اور دانتوں کا خراب ہونا شامل ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس اس وقت ہوتی ہے جب لبلبہ کی طرف سے تیار کردہ انسولین صحیح طریقے سے کام نہیں کرتی ہے، یا لبلبہ اس ہارمون کو کافی مقدار میں پیدا نہیں کر پاتا، اور اس کا مطلب ہے کہ خون میں گلوکوز (شوگر) کی سطح بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔

شوگر ایک خاموش قاتل
 
 اس وقت پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد دو کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔بعض اندازوں کے مطابق تو یہ تعداد  کل آبادی کا سترہ فیصد ہے، یعنی اس سے بھی دگنی۔ اگر یہ مرض طول اختیار کر لے تو بہت سی جان لیوا پیچیدگیاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔  معمولی علامات کے ظاہر ہوتے ہی اگر علاج اور احتیاط کو اختیار نہ کیا جائے تو بہت سی خطرناک پیچیدگیاں سر اٹھانے لگتی ہیں جن کی وجہ سے مریض کی جان کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں.


روزمرہ کے معمولاتِ زندگی میں مناسب تبدیلیوں کے ذریعے ذیابیطس جیسے مرض کو بہت حد تک شکست دی جا سکتی ہے۔ 

Read More:موسم سرما میں کن وٹامنز کی ضرورت ہوتی ہے

Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی