چشم بینا
تحریر:حیدر سید
پاکستان میں آنکھوں کے مفت علاج کا مستند اور سب سے بڑا ادارہ LRBT ہے جو گزشتہ 37 برسوں سے کروڑوں افراد کا مفت علاج کر چکا ہے۔ ہمارے ملک مین ایک کروڑ اسی لاکھ سے زائد افراد ایسے ہیں جو یا تو بینائی سے محروم ہیں یا جن کی نظر آنکھوں کی مختلف بیماریوں کے باعث اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ وہ ٹھیک طرح سے دیکھ نہیں سکتے۔ ان میں 80 فیصد لوگ ایسے ہیں جن کی بینائی بحال ہو سکتی ہے۔
LRBT کاعزم ہے کہ اس وطن عزیز کا کوئی مرد، عورت یا بچہ بینائی سے اس وجہ سے محروم نا ہوجائے کہ اس کے پاس علاج کے لئے پیسے نہیں تھے۔ LRBT نے 1985 میں بدین سندھ میں مفت موبائل سروس کا آغاز کیا تھا جسے عوام نے بے حد سراہا۔ لوگوں کی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے اس ٹرسٹ کے روح رواں ذکاء اللہ نے کراچی میں The Layton Rehmattula Benevolent Trust) LRBT ) کا آغاز کیا جو صرف آنکھوں کے امراض کی علاج گاہ تھی۔ آنکھوں کے علاج کے لئے ادارہ نے سب سے پہلے کراچی میں ہسپتال بنایا اور دوسرا بڑا ہستال لاہور میں بنایا جو قریشی ہسپتال کے نام سے مشہور ہے۔ یہ ایک خیراتی ادارہ ہے جسے پاکستان اور دوسرے ممالک کے لوگ اور ادارے مالی معاونت کرتے ہیں۔ ملک بھر میں اس ادارہ کے تحت چلنے والے بڑے ہسپتالوں کی تعداد 19 ہے، اس کے علاوہ چھوٹے علاقوں میں " کمیونٹی آئی ہیلتھ کلینک " کی تعداد 55 ہے۔
LRBT کا ایک ہسپتال عارفوالہ میں بھی قائم ہے جہاں روزانہ آنکھوں کے ہزاروں مریض مستفید ہوتے ہیں۔ یہ ہسپتال یہاں کی سیاسی شخصیت نے بنایا ہے۔ راجہ شاہد سعید کا بھائی راجہ آفتاب سعید کا بیٹا راجہ احتشام اللہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں ملازمت کرتے تھے۔ نائن الیون کے واقعہ میں راجہ احتشام اللہ کی وفات ہوئی۔ وفات کے بعد امریکہ سے ان کی انشورنس کی رقم لواحقین کو ملی تو انہوں نے وہ رقم کسی فلاحی کام میں خرچ کرنے کا سوچا۔ انہوں نے LRBT سے رابطہ کیا۔ ادارہ سے منظوری ملنے پر انہوں نے یہاں اپنی زمین کے ساتھ کچھ اور زمین خرید کر ہسپتال بنایا۔ 15 دسمبر 2008 کو اس ہسپتال کا آغاز ہوا۔ یہاں مریضوں کا معائنہ مفت کیا جاتا ہے۔ ہسپتال میں جدید آپریشن تھیٹر ہے جو شائد سرکاری ہسپتالوں میں بھی نا ملے۔ آپریشن کے بعد مریض کو ایک رات یہاں رکھا جاتا ہے۔ اگلے روز چیک اپ کے بعد مریض کو گھر جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ ہسپتال کی اپنی کینٹین سے مریضوں کو مناسب قیمت پر کھانا وغیرہ ملتا ہے۔ یہاں پر مریضوں کو کھانا اپنا لینا پڑتا ہے۔ باقی ساری سہولتیں مریض کو بلامعاوضہ دی جاتی ہیں، آنکج کے لینز کی ضرورت ہو تو وہ بھی مفت لگایا جاتا ہے۔
علاج کی مد میں صاحب حیثیت لوگوں سے بھی کچھ نہیں لیا جاتا۔ البتہ وہ خوشی سے چندہ کی صورت میں کچھ دے دیں تو اس کی رسید انہیں بنا کر دی جاتی ہے اور یہ رقم ادارہ کے اکاؤنٹ میں جمع ہو جاتی ہے۔
اس ادارہ پر لوگوں کے اعتماد کی وجہ ان ہسپتالوں میں جدید طریقہ علاج ہے جو مہنگا ہے مگر یہاں علاج مفت ہوتا ہے۔ آنکھوں کا ہر تیسرا مریض LRBT میں آتا ہے۔ 40 فیصد آنکھوں کے امراض کا علاج ان ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔ 30 فیصد آنکھوں کے آپریشن ان ہسہتالوں مئں ہوتے ہیں۔ 32 فیصد بچوں کی آنکھوں کے آپریشن بھی LRBT کرتا ہے۔ اچھی کارکردگی کی بناء پر یہ ادارہ کئی ایوارڈ حاصل کر چکا ہے۔
لاجواب بہت اچھی معلوماتی تحریر کیا ساہیوال میں بھی ان کا کوئی ہسپتال ہے؟
جواب دیںحذف کریں