23ویں قومی لسنرز کانفرنس اور ریڈیو کا عالمی دن
تقریب میں ریڈیو اور امن پر اظہار خیالات
ذرائع ابلاغ عامہ میں ریڈیو کو فوقیت اس لئے حاصل ہے کہ اس کی نشریات کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے۔ سنگلاخ چٹانوں،ندی نالوں سے لے کر ریت کے لق و دق صحراؤں تک اس کی رسائی ممکن ہے۔ ریڈیو سننے کے لئے بہت سی چیزوں کا اہتمام نہیں کرنا پڑتا۔ ماضی کے بڑے بڑے ریڈیو سیٹ کی جگہ اب چھوٹے سے جدید ریڈیو سیٹ نے لے لی ہے۔ جہاں پر دنیا بھر کے ریڈیو اسٹیشنز کی صاف نشریات سن سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی جہاں دستیابی ہے وہاں موبائل کے ذریعہ ریڈیو کی نشریات سے استعفادہ حاصل کیا جاتا ہے۔ ریڈیو سننے کے لئے ریڈیو سیٹ کا ہونا ضروری ہے بشرطیکہ وہاں ریڈیو کی لہریں آتی ہوں۔ دوران سفر یا کام میں مصروف ریڈیو کو سنا جاتا ہے جبکہ ان اوقات میں اخبار،ٹیلی ویژن وغیرہ پڑھ یا دیکھ نہیں سکتے۔ ریڈیو پر زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ لوگوں کے بارے پروگرام نشر ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ریڈیو کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکا۔ ریڈیو کی اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے 13 فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منانے کے لئے مخصوص کر دیا۔ اس دن کو منانے کے لئے ریڈیو سے وابستہ لوگ ریڈیو کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس دن کو بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے.
آج سے 23 برس قبل چوہدری فہیم نور نے عالمی لسنرز متحدہ تنظیم آف پاکستان کی بنیاد رکھی،جس کا مقصد ریڈیو اور سامعین کو یکجا کرنا تھا۔ ملکی و غیر ملکی نشریاتی اداروں سے ملنے والی پذیرائی اس بات کی مظہر ہے کہ عالمی لسنرز متحدہ تنظیم آف پاکستان اپنے مقاصد میں کامیابی کی طرف گامزن ہے۔ چوہدری فہیم نور کا لگایا گیا یہ پودا آج 23 برس کا تناور درخت بن چکا ہے۔ ہر وہ شخص جو ریڈیو سے محبت کرتا ہے وہ اس پودے کی چھاؤں میں آنا چاہتا ہے۔ تنظیم نے پاکستان میں ریڈیو کا عالمی دن منانے کا آغاز کیا تو پاکستانی سامعین کو بھی ریڈیو کی اہمیت کے بارے آگاہی ملی۔ آغاز میں یہ تقریب ہر سال ھیڈ کوارٹر ننکانہ صاحب میں منعقد ہوتی تھی۔ کچھ عرصے سے یہ تقریب ہر سال مختلف شہروں میں منائی جا رہی ہے۔ دیگر شہروں میں منانے کا مقصد۔ وہاں کے مقامی لوگوں کو بھی ریڈیو کی اہمیت کی آگاہی دینا ہے۔
12 فروری 2023 کو 23ویں قومی لسنرز کانفرنس لاہور میں المنصور ٹرسٹ بلڈنگ میں ہوئی۔ تقریب کا موضوع صدائے ترکی اردو سروس اور ریڈیو اور امن تھا۔ سب سے پہلے ترکی میں آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور زخمیوں کی صحت یابی کی دعا کی گئی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا،جس کی سعادت ابن بہاول کو ملی۔ احمد رضا نے نعت رسول مقبول پڑھی۔ تقریب کے مہمان خصوصی ریڈیو پاکستان لاہور کے سینئر پروڈیوسر و صداکار اصغر زیدی،سلیم زبیری اور افتخارِ رسول تھے دوبئی سے آئے صحافی طاہر منیر طاہر کی خصوصی شرکت تھی۔ مہمانان گرامی کے علاؤہ مختلف شہروں سے آئے ریڈیو سامعین عبدالغفور قیصر(بہاولنگر) ظہیر ایاز(فیصل آباد) حیدر سید(ساہیوال) رانا جی(بہاولنگر) چوہدری فہیم نور( ننکانہ صاحب) نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
![]() |
| تقریب میں حیدر سید، اصغر زیدی اور رانا شمشاد |
افتخار رسول نے ریڈیو اور امن کے بارے کہا کہ کس طرح ریڈیو پاکستان نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں امن اور بھائی چارہ کی فضا قائم رکھی اور قوم کو متحد رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یوں ان جنگوں کی کامیابی کے پیچھے ریڈیو پاکستان کا بھی ہاتھ ہے۔ سلیم زبیری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں بڑے بڑے حادثات ہوئے۔عوام کو پل پل کی خبر دے کرریڈیو نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا۔ اصغر زیدی نے اظہار رائے دیتے ہوئے کہا کہ ریڈیو پاکستان پر ہر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگوں کے لئے پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ ان پروگراموں میں امن کی بات ہوتی ہے۔
طاہر منیر طاہر نے نئے صداکاروں کی تربیت کے فقدان کا ذمہ دار اداروں کو ٹھہرایا۔ مزید کہا کہ ریڈیو پر آنے سے قبل صداکار کی تربیت ہوتی تھی جو اب نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ریڈیو پاکستان زوال کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے
عبدالغفور قیصر نے ملکی و غیر ملکی نشریاتی اداروں کے بارے کہا کہ وہ ہمیشہ امن کا درس دیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ سامعین بھی پیار و محبت کی بات ہی کرتے ہیں ۔ ظہیر ایاز جو ریڈیو پاکستان کے ٹیکنیکل شعبہ سے وابستہ تھے،نے کچھ واقعات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ریڈیو پاکستان کی پہلی ترجیح امن اور بھائی چارہ ہے۔ حیدر سید نے کہا کہ ماضی میں ریڈیو پاکستان تربیت گاہ تھی مگر افسوس اب غیر تربیت یافتہ لوگوں کی وجہ سے یہ درسگاہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ رانا جی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریڈیو اور سامع کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دونوں ہی امن و بھائی چارے کا درس دیتے ہیں۔ چوھدری فہیم نور نے اپنے خطاب میں تنظیم کے بارے اور صدائے ترکی اردو سروس اور ریڈیو اور امن کے حوالے سے کہا پاکستان اور ترکی کے درمیان لازوال تاریخی تعلقات قائم ہیں دونوں ملکوں نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ trt urdu service دونوں ملکوں کے درمیان ایک دوستی پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ریڈیو صدائے ترکی نہ صرف ترکی بلکہ پاکستان کے حالات حاضرہ اور ثقافتی معاشی معاشرتی علوم کے ہر پہلو کے حوالے سے پروگرام پیش کرتا ہے۔ اردو سروس کے تمام پروگرام مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھ کر پیش کئے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں عالمی سطح پر پذیرائی ملتی ہے۔ عالمی لسنرز متحدہ تنظیم آف پاکستان کا مقصد بھی امن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تنظیم میں سفیر برائے امن عہدیدار احسن طریقہ سے اپنے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر تنظیم کی طرف سے سالانہ انعامی مقابلہ میں جیتنے والے انعام یافتگان اور مہمانوں میں انعامات، تحائف اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس میں صدائے ترکی اردو سروس کے پروگرام گائیڈ کیو ایس ایل کارڈ پنسل میگزین بیجز چائے کپ دیگر اشیاء شامل تھیں۔ تقریب میں ستلج ریڈیو لسنرز اینڈ رائٹرز بہاولنگر، ناز ریڈیو لسنرز کلب،فیصل آباد اور بلوچ لسنرز کلب پاکپتن کی طرف سے بھی انعامات تقسیم کئے گئے۔سٹیج سیکرٹری عدیل بٹ نے بڑی خوبصورتی سے اپنے فرائض سر انجام دیئے۔ یوں شہزاد عظیمی کی میزبانی میں یہ پروگرام کئی یادیں لئے اختتام پذیر ہوا۔


