خطروں میں گھرے پودے اور درخت
تحریر و تحقیق : حیدر سید
انسانی حیات کے لئے درخت اتنے ہی ضروری ہیں جتنی سانس ضروریہے۔ درخت صرف آکسیجن کی فراہمی کے لئے ہی اہم نہیں ہیں بلکہ ان سے حاصل ہونے والی جڑی بوٹیاں بطور ادویات اور ان کی لکڑی آسائش اور بطور ایندھن ہماری زندگی میں بہت اہم ہیں۔لیکن اب یہ درخت آہستہ آہستہ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ جن میں پیلو، کری،ڈھاک، بھان، سفید شریں، کتھا، پھوگ، گھاس، گلپر، جنڈ، پیپل، ارجن، دوزخ، لسوڑا،بوہڑ، گگل اور کھار وغیرہ شامل ہیں۔
یہ درخت ہماری ثقافت کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے آباواجداد کی نشانی ہیں۔ کچھ سال پہلے یہ درخت یہاں موجود تھے۔ شہروں کے آس پاس کی زرعی زمینیں رہائشی کالونیوں میں تبدیل ہونے کی وجہ سے ان کا وجود ختم ہوتا جا رہاہے۔ لوگوں نے ان پرانے پودوں کو کاٹ کر نئے اور مہنگے آرائشی پودے لگانے شروع کردیئے ہیں۔ ان رہائشی کالونیوں میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے لوگوں کا رحجان زیادہ آرائشی پودوں کی طرف ہو گیا ہے۔
پودوں اور درختوں پر زرعی ادویات کے بے بہا استعمال بھی ان کےزوال کا سبب ہے۔ قدرتی ماحول میں پرورش پانے والے یہ پودے غیر فطری ماحول میں نہیںرہ سکتے یا حفاظت نہ ہونے کی وجہ سے نئے لگنے والے چھوٹے پودوں کو جانور کھا جاتےہیں جس وجہ سے ان کی افزائش نہیں ہوتی۔
. آج سے 20 برس قبل درخت جن میں شیشم (ٹاہلی) شامل ہیں۔ ختم ہونے والے درختوں کا 10فیصد ہوتے تھے لیکن اب یہ درخت 0.5 فیصد رہ گئے ہیں۔پیپل، بوڑھ، ون (پیلو) کے درختاب پرانے قبرستانوں کے علاوہ پرانی عمارتوں یا گاوں میں کہیں کہیں نظر آتے ہیں۔
گگل ایک جڑی بوٹی ہے جس کا استعمال عام گھروں میں کیڑے مکوڑوںکو بھگانے کے لئے ہوتا تھا۔ اس کا چھوٹا سا پودا قبرستان یا زرعی زمین کی گزرگاہوںکے کنارے پر اگتا تھا۔ لیکن اب یہ بھی کم نظر آتا ہے۔
کھار ایک جڑی بوٹی کی نسل کا پودا ہے۔ 20 سے 30 سال پہلے لوگاس جڑی بوٹی کی ٹہنیوں اور پتوں کو پانی میں ابال کر کپڑے دھوتے تھے۔ صابن یاواشنگ پاوڈر سے یہ اچھے کپڑے صاف کرتا تھا لیکن اب اس کا وجود نہیں رہا۔
کریر ایک سبز رنگ کی جھاڑی ہے جسے کری بھی کہتے ہیں۔ یہ عموماقبرستان اور میدانی جگہوں پر اگتی تھی۔
لسوڑے کا پھل میٹھا ہوتا ہے، اس کے کچے پھل کا اچار بھی بنایاجاتا ہے جو بہت لذیذ ہوتا ہے۔یہ درخت بھی اب بہت کم تعداد میں پایا جاتا ہے۔
. سفید شریں ایک عام درخت تھا جو سڑک کنارے اور کھیتوں کے کناروںپر موجود ہوتا تھا۔ اس کے چھلکے سے لے کر بیج تک ادویات بنانے کے کام آتے تھے۔ یہدرخت بھی اب پرانی عمارتوں میں ہی لگے نظر آتے ہیں۔ سفید شریں کے 5 سے 7 پودےپاکستان میں ہیں۔ جبکہ کالا شریں کے درخت کافی مقدار میں ہیں۔
گلہڑ ایک گھنا اور لمبا پھلدار درخت ہے۔ یہ بھی نہ ہونے کےبرابر رہ گیا ہے۔
دوزخ کا پودا بھی تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔
پیلو بھی کم ہو گیا ہے۔
پیپل کا درخت بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ درخت کھلی جگہوں پرہوتا تھا جو اب نظر نہیں آتا۔
. ان پودوں اور درختوں کوبچانے کے لئے پنجاب فارسٹری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فیصل آباد میں کام ہو رہا ہے جہاں انپودوں کو نرسری میں اگایا جا رہا ہے تا کہ یہ درخت پھر سے ہماری ثقافت کا حصہ بن سکیں۔ اس کے علاوہ کاشتکاروں کو بھی ان پودوں کی اہمیت کے بارے میں بتا رہے ہیںتاکہ وہ اپنی زمینوں پر یہ پودے اگا سکیں۔ یہ پودے سرکاری نرسریوں میں بہت کم قیمت پر دستیاب ہوں گے۔
Read More: پرندوں کی معدوم ہوتی نسلیں
Tags:
blog





Very nice
جواب دیںحذف کریں