60 برج والا ساہیوال:
ایک تاریخی اور پراسرار داستان
ہر شہر کی طرح ساہیوال میں بھی چند ایسی جگہیں ہیں جن کے بارے میں مقامی لوگوں کے بیچ روایات، تاریخ اور قصے مشہور ہیں۔ ان میں سے ایک اہم مقام ہے "60 برج والا گاؤں" اور اس کے نزدیک واقع تاریخی برج، جس کی کہانی عوام میں آج بھی زندہ ہے۔
مقام اور جغرافیہ
گاؤں 60 پانچ ایل برج والا ساہیوال سے تقریباً 10 کلومیٹر مسافت پر لاہور روڈ کے کنارے واقع ہے۔
اس کا رہائشی علاقہ تقریباً 144 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے، زرعی رقبہ 3,168 ایکڑ ہے، اور آبادی تقریباً 35 ہزار نفوس ہے۔
🏫 تعلیم اور بنیادی سہولیات
یہاں ایک گورنمنٹ ہائی سکول (لڑکوں کے لیے) اور ایک ہائی-سیکنڈری سکول (لڑکیوں کے لیے) موجود ہیں، جن میں تقریباً 800 طالبعلم زیرِ تعلیم ہیں۔ علاوہ ازیں 5 پرائیویٹ سکولز بھی گاؤں میں فعال ہیں، جو اس علاقے میں تعلیم کے فروغ کی عکاسی کرتے ہیں۔
👴 مقامی بزرگوں کی یادیں
گاؤں کے 90 سالہ بزرگ نذیر احمد بتاتے ہیں کہ وہ تقسیمِ ہند کے بعد اسی جگہ آباد ہوئے تھے۔
ان کے مطابق اس برج کی اصل اونچائی تقریباً 60 فٹ تھی اور اس پر کھڑے ہوکر دور تک نظر آتا تھا۔
کھدائیوں کے دوران یہاں انسانی ڈھانچے اور اشیاء ملنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقام صدیوں سے آباد رہا ہے — شاید قدیم آبادیوں کا مرکز بھی رہا ہو۔
80 سالہ بزرگ بشیر احمد نے بتایا کہ اس گاؤں میں تھانہ بھی موجودتھا اور اسے تھانہ برج والا کہا جاتا تھا۔ 1987ء میں تھانہ اڈا یوسف والا میں منتقل ہو گیا اور اس کا نام بدل کر تھانہ یوسف والا کر دیا گیا۔
⚔️ تاریخی روایت
بزرگوں کا کہنا ہے کہ چودہویں صدی میں ایک جنگ ہوئی جس میں راجہ ہودی نے مقامی لوگوں پر حملہ کیا تھا۔ اسی دور کے آثار گاؤں کی روایات میں زندہ ہیں۔
ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ برج کی اصل تخمینہ تغلق دور (14ویں صدی) یا ممکنہ طور پر انگریز دور میں بنائی گئی تھی۔ یہ برج اہم مقامات — جیسے ستگرہ، پپلی پہاڑ، سکندر چوک اور اوچ شریف — کے مشابہ ہیں، جہاں سے آس پاس کے علاقوں پر نگرانی کی جاتی تھی۔
⏳ وقت کے ساتھ تبدیلی
وقت کے بے رحم اثرات نے اس برج کی حالت خراب کردی ہے۔
پہلے 60 فٹ ہونے والی اس عمارت کی اونچائی اب تقریباً 30 فٹ رہ گئی ہے۔ کچھ دہائیوں پہلے یہاں ماہانہ حکومت کی طرف سے چند رقم بھی ملتی تھی، لیکن اب یہ سہولت ختم ہوگئی ہے۔
🛠️ نوجوانوں کی کوشش
گاؤں کے نوجوانوں نے برج کی چھت کی مرمت کرتے ہوئے بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے پلاسٹک پائپ بھی لگایا ہے، تاکہ مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
📍 تاریخی اہمیت اور مستقبل
ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق ایسے برج حفاظتی اور نگرانی مقاصد کے لیے بنائے جاتے تھے۔
مقامی لوگوں کی خواہش ہے کہ حکومت اسے تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل کرے اور اس کی حفاظت کے اقدامات کرے تاکہ آئندہ نسلیں بھی اس کی قدر جان سکیں۔
📖 نتیجہ
60 برج والا گاؤں نہ صرف اپنی جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس کی تاریخی کہانی اس علاقے کی ثقافتی اور سماجی شناخت کا حصہ بھی ہے۔
یہاں کی روایتیں، بزرگوں کی یادیں، اور نوجوانوں کی کوششیں وقت کے ساتھ اس مقام کو مزید قابلِ ذکر بناتی ہیں۔
Tags:
History
