عطاء محمد نوشاہی قادری



خواجہ عطاء محمد قادری

 
خواجہ عطاء محمد نوشاہی قادری
 ساہیوال میں سلسلہ نوشاہیہ کی درخشاں روایت 
حضرت پیر خواجہ عطاء محمد نوشاہی قادریؒ کی زندگی، تعلیمات، روحانی سلسلہ، کرامات اور ساہیوال میں واقع مزار مبارک کے بارے میں مکمل معلومات۔ ان کے عرس، کتب اور لاکھوں مریدین پر اثرات جانیں اس جامع اور معلوماتی مضمون میں۔


    حضرت پیر خواجہ عطاء محمد نوشاہی قادریؒ کی پہچان ساہیوال کے روحانی منظرنامے میں اب بھی روشن ہے۔ ان کا تعلق سلسلۂ نوشاہیہ قادریہ سے ہے، جو اپنی ذات میں تصوف کی عمیق روایات اور فیوض سے معمور ہے۔ ساہیوال  کا  علاقہ  اولیاء اور صوفیاء کا مسکن  رہا ہے۔  خواجہ عطاء محمد نوشاہیؒ انہی درویشوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی، تعلیمات اور روحانی فیض سے ہزاروں دلوں کو روشن کیا۔
 
    مذہبی گھرانہ
ان کے گھرانے میں مذہبی عقائد، صوفی ازم اور روحانی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔   ان کی روحانی وابستگی اپنے تایا اور سسر بزرگ حضرت خواجہ نور احمد نوشاہی قادریؒ رحمۃ اللہ علیہ سے مربوط ہے، جنہوں نے بذات خود بھی اس علاقے میں روحانیت کا چراغ جلائے رکھا۔  اس خاندان کا سلسلہ حضرت سلطان محمد باہوؒ سیالؒ تک پہنچتا ہے،  جنہوں نے قریباً دو سو سال پہلے اس علاقے میں روحانیت کا علم بلند کیا تھا۔ انہی کی نسل نے اس فیض کو آگے بڑھایا۔  یہاں تک کہ یہ روحانی سلسلہ حضرت خواجہ عطاء محمد نوشاہیؒ تک منتقل ہوا، اور انہوں نے اسے اپنی قربت سے مزید فروغ دیا۔
   تعلیمی سفر
  ان کی زندگی ایک مخصوص ماحول میں شروع ہوئی، جہاں مذہب، روحانیت اور اخلاقیات کو سب کچھ تصور کیا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ساہیوال کے گورنمنٹ ہائی سکول ( ساہیوال جو اس وقت منٹگمری کہلاتا تھا) سے حاصل کی ۔ اس وقت مدارس میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کو بھی بڑی اہمیت دی جاتی تھی، لہٰذا آپؒ نے  جامعہ فریدیہ، جو پاکپتن میں ہے، میں دینی علوم پر مکمل عبور حاصل کیا۔ یہی وہ  درس گاہ تھی جہاں ان  پر صوفیانہ اور روحانی رنگ غالب آیا۔ 
    طرز  زندگی
     اگر ہم بات کریں ان کی شخصیت کے بارے میں تو وہ  پرہیزگاری، سادہ طرز زندگی اور انکساری کی ایک عملی مثال تھے۔  بیرونی آرائش اور ظاہری نمائش ان کو بالکل پسند نہیں تھی۔ اکثر  اپنے رب کے ذکر میں ہی محو رہتے۔ جو بھی ان کی صحبت میں ہوتا، وہ  روحانی سکون حاصل کر لیتا۔ ان کے مریدین  کا شمار لاکھوں کی تعداد میں تھا۔ لوگ دور دراز سے  صرف اس لئے  آتے تھے کہ کچھ وقت ان کے پاس گزار سکیں۔  ان سے  ملاقات کے بعد دل کو اطمینان حاصل ہو جاتا تھا۔
   کرامت  
     ان کے حوالے سے متعدد   کرامات  لوگوں میں مشہور ہیں۔ مثال کے طور پر، سندھ کے علاقے میں ایک مرید کے رہائشی مقام پر مسلسل چوری کی وارداتیں ہو رہی تھیں۔ جب وہ دل گرفتہ ہو کر مرشد کے پاس آیا، تو حضرت خواجہ عطاء محمد نوشاہیؒ نے فوری طور پر کہا: "آج کے بعد یہاں چوری کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔" پھر ویسا ہی ہوا، چوریاں بند ہو گئی تھیں۔
    صوفی شاعر  
     حضرت خواجہ عطاء محمد نوشاہی قادریؒ محض روحانی رہنما نہیں تھے، ایک ممتاز شاعر بھی تھے۔ ان کی شاعری  تصوف، فقر اور عشقِ الٰہی کی خوشبو  سے مزین ہے۔  ان کی وفات کے بعد ان کی  تین کتابیں منظر عام پر آئیں۔
’’اڈیکاں یتیم سسی‘‘، 
’’آئینہ فقراء‘‘ 
اور ’’عطائے نوشاہی‘‘
  ان کی شاعری کا  مطالعہ کرنے کے بعد آدمی خود کو ایک نئی اور نورانی دنیا میں محسوس کرتا ہے۔آپ کے کلام میں حقیقت اور مجاز دونوں رنگ نمایاں ہیں۔آپ کے کلام میں ہجر و وصل  کی کیفیت  پائی جاتی ہے جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ آپ موسیقی کو بھی بخوبی سمجھتے تھے۔ محفل سماع کے دوران آپ پر وجد طاری ہو جاتا تھا۔ اس دوران آپ کی نظر جس پر بھی پڑتی ، وہی وجد میں چلا جاتا۔ بعض دفعہ تو پوری محفل ہی وجد میں ہوتی تھی۔
    وصال کی پیشنگوئی 
     کچھ روز سے آپ کی طبیعت کچھ بہتر نہیں تھی۔ آپ نے اپنے مرید خاص کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ
   " کل دو بج کر چالیس منٹ پر میں دنیائے فانی سے رخصت ہو جاوں گا۔ گھبرانا نہیں۔ یہ راز کسی کو نہیں بتانا۔ اور اپنے فرائض ذمہ داری سے نبھانا"
   دوسرے روز 9 اپریل 1992ء جمعرات کے دن  دو بج کر چالیس منٹ پر آپ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
    مزار
     آپ  کا مزار ساہیوال کے مضافات میں 55 جی ڈی گاؤں  میں ہے ، جو  نورشاہ روڈ پر   تقریباً تیرہ کلومیٹر دور، اڈہ چکی مظفر شاہ سے مغرب کی جانب ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ مقام آج بھی عقیدت رکھنے والوں کے لیے فیض و سکون کا مرکز ہے۔ ہر روز سینکڑوں افراد یہاں آتے ہیں، اور عرس کے موقع پر تو لاکھوں لوگوں کی شرکت ہوتی ہے۔ 
     عرس کی تقریبات
     حضرت خواجہ عطاء محمد نوشاہیؒ کا سالانہ عرس 8، 9، 10 اپریل کو نہایت جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔عرس کے موقع پر درود  و سلام  سے فضائیں معطر ہوتی ہیں ۔نعت  رسول مقبول اور منقبت  کے روحانی اجتماعات   سے روحانی سکون ملتا ہے۔ 
   عرس کے موقع پر روایتی قسم کی عارضی  دکانیں  لگتی ہیں۔ گھوڑ دوڑ ، گھوڑا ناچ اور کبڈی جیسے  کھیل ہوتے ہیں جو پنجاب کی  ثقافت   کو اجاگر کرتے ہیں۔
    مزار کی تزئین و آرائش
    مزار کی تعمیر و تزئین ان کے بیٹے حضرت خواجہ حاجی منظور حسین نوشاہی قادری نے کروائی۔ جہاں سے لوگ روحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔ 
خواجہ منظور حسین


   اولاد 
   آپ کی اولاد میں چار صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں ہیں۔
    پیغام
   ان کی زندگی کا بنیادی پیغام یہ  تھا  کہ خلوص، محبت اور خدمت خلق کے راستے پر چلنے والا فرد نہ صرف اپنی کامیابی حاصل کرتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے امید کی روشنی بن جاتا ہے۔
    صوفیانہ کلام 
   خواجہ عطاء محمد نوشاہیؒ کے درس  مشعلِ راہ ہیں۔
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسے عظیم بزرگ صدیوں سے اپنے اعلیٰ کردار، خاص تعلیمات اور لازوال رحمت کے ذریعے انسانیت کی رہبری کرتے ہیں۔ ان کا فیض آج بھی مزار پر آنے والے زائرین کے دلوں کو سکون دے رہا ہے، اور جب تک اللہ کا نام موجود ہے، ایسی عظیم ہستیاں اپنی روشنی انسانوں کے دلوں تک پہنچاتی رہیں گی۔
      خواجہ عطاء محمد نوشاہی قادری کی شاعری  میں سے کچھ اشعار۔
       نعت شریف
   *ہے جس دل یاد عربی دی باقی یاداں نوں بھل جاوے
   عجب اس وچ نظارے نیں تے مخفی راز کھل جاوے 

 * میرے سونیا اک اک ناز تیرا سب سوہنیاں نوں قربان کرے
   اس ناز  دا  کی انداز  دساں جس ناز  دا  وعظ رحمان کرے 

   *نہیں دعوی غلاموں کا غلامان غلاموں کا
    ملے تیرے غلاموں کا سہارا یا رسول اللہ

   *کملی والے  مدینہ  دی سرکار  دی
    منگتی  ہاں دو عالم  دے مختار  دی

   * مقام عشق احمد میں انوکھا رنگ اولا ہے
   محمد شان پر عاشق ہوئی خود ذات اللہ ہے 

   قطعہ
   نہ میں تھا نہ ہی میری گفتگو تھی
   جدھر  دیکھا  تو  تیری  آبرو تھی
   مکاں تیرے تو خود ہی لا مکاں ہے
   عطا ہر رنگ میں تیری جستجو تھی

   کافی
   جس دن دا تینوں ویکسین لیا رہی میں وچہ میں دی جال نہیں
  لوں لوں دے وچ توں توں رسیا میں میں دا کوئی خیال نہیں

  اول بھی تو  تے  آخر تو  ہے  ظاہر  درشن  باطن  توں
  اک اک دے اندر اک ہویا میں توں دا کوئی سوال نہیں

    کافی
   دلبر دلدار  ہے  دل  دا
  بناں اس دے چین نہیں ملدا 
  راتیں ستیاں نیند نہ آوے سنجی سیج پھلاں دی کھاوے
  کوئی عیش  بہار  نہ  بھاوے  دل   پکھے وانگن  ہلدا

  ہوئی حالت وانگ سودائیاں دیواں دن تے رات دوہائیاں  
  دارو  پڑیاں  بہت وگائیاں   پیا  فرق نہیں اک تلدا 
 
  سب لٹیاں باغ بہاراں رووے بلبل دیکھ اجاڑاں
  بناں یار سجن غمخواراں  نہیں باغ حسن  دا  کھلدا 

  کوئی ہار سنگھار نہ بھاوے سنجا ویہڑہ  کھاون  آوے
  کوئی دل نوں چین نہ آوے وچ بحر غماں دا ٹھلدا  

  وچ غفلت نیند میں بھلی ہاں میرے گل وچ زلفاں کھلیاں 
  سسی وانگ میں تھل وچ رلی ہاں  پیا فرق عطا میری ڈھل دا  


Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی