ضرب الامثال کی تعریف ، اقسام اور اہمیت


ضرب الامثال کی تعریف، اقسام اور اہمیت

 اردو امثال کی مکمل رہنمائی 

ضرب الامثال کی تعریف، اقسام اور اہمیت | اردو امثال کی مکمل رہنمائی


   کہاوت کو ضربُ المثل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا جامع اور بامعنی جملہ ہوتا ہے جس میں کسی مشاہدے، تجربے یا زندگی کی حقیقت کو نہایت مختصر اور مؤثر انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ ضرب الامثال میں الفاظ اپنے ظاہری (حقیقی) معنی کے بجائے مرادی اور اشارتی معنی رکھتے ہیں، اسی لیے ان کو سمجھنے کے لیے فہم اور سیاق و سباق کی ضرورت ہوتی ہے۔

کچھ کہاوتیں سادہ اور عام فہم ہوتی ہیں جنہیں ہر شخص آسانی سے سمجھ لیتا ہے، جبکہ بعض ضرب الامثال اپنے اندر گہری معنویت اور رمزیت رکھتی ہیں، جنہیں سمجھنے کے لیے غور و فکر درکار ہوتا ہے۔ یہی خوبی انہیں زبان و بیان کا قیمتی سرمایہ بناتی ہے۔

ضرب الامثال دراصل عوامی زندگی کے تجربات، مشاہدات اور واقعات کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ یہ نہ صرف گفتگو کو دلکش اور مؤثر بناتی ہیں بلکہ کسی بات کو مختصر مگر پراثر انداز میں بیان کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ثابت ہوتی ہیں۔ زبان کی خوبصورتی اور ثقافتی ورثے کی عکاسی میں بھی ضرب الامثال کا اہم کردار ہے۔

 اس کی کچھ مثالیں پیش  ہیں۔

  آپ کام مہا کام۔

جو کام اپنے ہاتھ سے کیا جائے وہی اچھا ہوتا ہے۔

آم کے آم گھٹلیوں کے دام۔

  ایک کام سے دو فائدے ۔

آنکھوں اوجھل پہاڑ او جھل۔ 

جو پھیر آنکھ سے پوشیدہ ہے وہ قریب بھی ہو تو دور ہے۔

 آنکھ کا اندھا گانٹھ کا پورا۔

 بے وقوف مالدار

 آٹے کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔

 گناہ گاروں کے ساتھ بے گناہ بھی مارے جاتے ہیں

 آدھی چھوڑ ساری کو جائے۔

 آدھی ملے نا ساری پائے۔ لالچی ادمی ہمیشہ نقصان میں رہتا ہے آنکھوں سکھ کلیجے ٹھنڈک۔

 کسی چیز کو خوشی سے منظور کرنے کے مقام پر بولتے ہیں

 آنکھوں کے اندھے نام نین سکھ۔

 غلط تعریف کے موقع پر بولتے ہیں۔

 آدھا تیتر آدھا بٹیر۔

 بے ڈھنگا بے جوڑ

 اشرفیاں لٹیں اور کوئلوں پر مہر۔

 ایسے موقع پر بولتے ہیں جب فضول کاموں پر بہت سی رقم سرف کی جائے مگر ضروری کاموں پر کنجوسی کی جائے

 اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

 وقت کو ہاتھ سے کھو دینے کے بعد افسوس بے سود ہے۔ بعد از وقت نقصان، افسوس بے فائدہ ہے۔

 ابھی دودھ کے دانت نہیں ٹوٹے۔

 ابھی بچے ہو۔ نا تجربہ کار ہو۔

 اپنا  پیٹ تو کتا بھی پالتا ہے۔

 اپنی آمدن سے خود ہی فائدہ اٹھانا اور دوسروں کو نفع نہ پہنچانا

 الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔

 ایسے موقع پر بولتے ہیں جبکہ کوئی خود تو قصوروار ہو اور دوسرے (سمجھانے والے) کو برا کہے۔

 اندھوں میں کانا راجہ ۔

جہاں کچھ نہ ہو وہاں ارنڈ پردھان (جاہلوں میں معمولی پڑھا لکھا سردار ہوتا ہے)

 اندھے کو کیا چاہیئے دو آنکھیں۔

 ضرورت مند کو اپنی ضرورت سے مطلب ہوتا ہے۔

 اندھا کیا جانے بسنت کی بہار۔ 

جاہل آدمی علمی بات کو کیا سمجھ سکتا ہے۔

 اندھیر نگری چوپٹ راجا۔ ٹکے سیر بھاجی ٹکے سیر کھا جا۔

 جہاں سراسر نا انصافی اور ظلم ہو وہاں بولتے ہیں۔

 الٹے بانس بریلی کو۔

 ایسے موقعہ پر بولتے ہیں جہاں کوئی چیز کثرت سے ملتی ہو۔ وہاں وہی چیز فروخت کے لیے لے جانا۔

 اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت۔

 ایسے شخص کی نسبت بولتے ہیں جو دوسروں کو نصیحت کرے لیکن خود عمل نہ کرے۔

 اونچی دکان پھیکا پکوان۔

 محض نام ہی نام ہو لیکن اصلیت کچھ نہ ہو (نام بڑا درشن چھوٹے) اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔

 بداخلاق اور بد وضع شخص کی نسبت بولتے ہیں ۔

اوکھلی میں سر دیا تو دھمکیوں کا کیا ڈر۔

 اول تو خطرناک کام کو شروع نہیں کرنا چاہیے اور جب شروع کر دیا تو اس کی مشکلات سے کیا گھبرانا۔

 ایک پنتھ دو کاج ۔

ایک کام سے دو مطلب ۔

ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا۔

 ایسے موقعہ پر بولتے ہیں جب کوئی شخص پہلے ہی کسی برائی کا شکار ہو اور پھر اسے بری صحبت اور بگاڑ دے۔

 ایک دن کا مہمان، دو دن کا مہمان، تیسرے دن کا بلائے جان۔

مہمان کا زیادہ دیر ٹھرنا ٹھیک نہیں۔

 بھٹ پڑے وہ سونا جس سے ٹوٹیں کان۔

 جس زیبائش سے تکلیف ہو وہ فضول ہوتی ہے۔

 بند مٹھی لاکھ برابر ۔

اتفاق میں بڑی برکت ہے۔

 بن مانگے موتی ملیں، مانگے ملے نہ بھیک ۔

خدا متوکل کو سب کچھ دیتا ہے۔

 پڑھیں فارسی بیچیں تیل، یہ دیکھو قدرت کے کھیل۔

 شریف ہو کر رذیل کام اختیار کرنا۔

 جان نہ پہچان بڑی خالہ سلام۔

 ناواقف ہو کر واقفیت کا اظہار کرنا ۔

جب تک سانس تب تک آس ۔

مرتے دم تک آس رہتی ہے۔

 جس کا کام اسی کو ساجے، اور کرے تو ٹھینگا باجے۔

 جو شخص کسی کام کے کرنے کا اہل ہو، وہی کرے تو ٹھیک ہوتا ہے۔ دوسرا کرے تو خراب کر دیتا ہے۔

 چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں۔

 فضول خرچ کے پاس روپیہ  پیسہ نہیں ٹھہرتا ۔

حلوائی کی دکان اور دادا جی کی فاتحہ ۔

بیگانے مال کو بے دریغ استعمال کرنا۔ پرائے مال پر دعوت دینا۔

  حیلے رزق بہانے موت۔

 ہر کام کا سبب ضرور ہوتا ہے۔

 خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں۔

 خدا خفیہ سزا دیتا ہے۔

 دمڑی کی بڑھیا ٹکا سر منڈائی۔

 معمولی چیز پر زیادہ خرچ کرنا۔

 دمڑی کی ہنڈیا گئی، کتے کی ذات پہچانی گئی ۔

تھوڑے سے نقصان سے انسان کی پہچان ہو گئی ۔

دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا۔

 بے مصرف نکمہ اور آوارہ شخص کی نسبت بولتے ہیں۔

 ڈھاک کے تین پات۔

 ترقی نہ کرنا ایک حالت پر رہنا۔

 رسی جل گئی پر بٹ نا گیا۔

 مرتے مر گیا مگر چوچلےنا گئے۔ سب مال و دولت ضائع ہو گئی، مگر بڑ نہ گئی ۔تکالیف برداشت کیں مگر بری عادات نہ چھوڑیں۔

 زبان خلق را نقارہ خدا سمجھو۔

 جب بات عوام میں مشہور ہو جائے وہ سچ ہو جاتی ہے۔

 زبردست کا ٹھینگا سر پر۔

 زبردست کی جیت، زبردست کی بات ماننی پڑتی ہے۔

 ساجھے کی ہنڈیا چوراہے میں۔

 شرکت کے کام میں عموما جھگڑا رہتا ہے۔

 شکر خورے کو شکر موجود۔

 خدا تعالی ہر شخص کو اس کی خواہش کے مطابق دیتا ہے۔

 طویلے کی بلا بندر کے سر۔ 

قصور اور کریں اور مارا جائے کوئی ۔

ظاہر رحمان کا، باطن شیطان کا۔

 جس کا ظاہر اچھا ہو مگر باطن خراب۔

غریب کی جورو سب کی بھابھی۔

 غریب کو ہر ایک دبا لیتا ہے۔ غریب کا زور کسی پر نہیں چلتا۔

 کاغذ کی ناو سدا نہیں بہتی۔

 دھوکے فریب کا کام پایہ تکمیل نہیں پہنچتا۔

 کاٹھ کی ھنڈیاں بار بار نہیں چڑھتی ۔

دغا فریب مکاری سے بار بار کام نہیں نکلتا۔

 کتے کو گھی ہضم نہیں ہوتا ۔

کمینے کو بہت سا مال یا بڑا عہدہ مل جائے تو وہ اسے سنبھال نہیں سکتا ۔

گئے تھے نماز بخشوانے روزے گلے پڑے ۔

کی تھی فائدے کی تدبیر لیکن الٹا نقصان ہوا ۔

مفت کی شراب قاضی کو بھی حلال ۔

مفت کی چیز میں جائز ناجائز کا خیال نہیں رہتا ۔

مرغی کی وہی ایک ٹانگ ۔

ضدی اپنی ضد پر قائم رہتا ہے۔

    ناچ نا جانے آنگن ٹیڑھا ۔

ایسے موقع پر بولتے ہیں جب کوئی کام کرنا ہو تو خود نہ چاہے اور ادھر ادھر کے بہانے بنائے۔

   نو نقد نہ تیرہ ادھار۔

 ادھار کے زیادہ منافع سے کم نقد قیمت کا مل جانا اچھا ہے۔

   نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔

 کئی شخصوں کے مقابلے میں ایک کی رائے کچھ وقعت نہیں رکھتی۔

    نیم حکیم خطرہ جان ، نیم ملاں خطرہ ایمان۔

 ادھورا جاننے والا باعث نقصان ہوتا ہے ۔

   ہاتھ کنگن کو آر سی کیا ۔

ظاہر بات کے لیے ثبوت کی کیا ضرورت۔

    ہو نہار بروہ کے چکنے چکنے پات۔

 اعلی چیز کے آثار پہلے ہی سے اچھے دکھائی دیتے ہیں۔

Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی