محاورہ کیا ہے؟

 

محاورہ کیا ہے؟  تعریف، اقسام اور اردو کے مشہور محاوروں کا دلکش جائزہ

   محاورہ کیا ہے؟

    تعریف، اقسام اور اردو کے مشہور محاوروں کا دلکش جائزہ 

   اردو محاوروں کی تاریخی اہمیت

      اردو زبان اپنے دامن میں ایک وسیع تہذیبی ورثہ سمیٹے ہوئے ہے، اور محاورے اس ورثے کی سب سے روشن جھلک ہیں۔ یہ محض الفاظ نہیں بلکہ تاریخ کے وہ نقوش ہیں جو زمانے کے سینے پر ثبت ہو کر زبان میں منتقل ہوتے رہے۔ ہر محاورہ اپنے اندر کسی نہ کسی دور کی کہانی، رسم و رواج یا انسانی تجربہ سموئے ہوتا ہے۔

     جب ہم “اونٹ کے منہ میں زیرہ” یا “آ بیل مجھے مار” جیسے محاورے سنتے ہیں تو یہ ہمیں قدیم معاشرتی زندگی، دیہاتی ماحول اور روزمرہ کے تجربات کی یاد دلاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محاورے زبان کو صرف خوبصورت ہی نہیں بناتے بلکہ اسے تاریخی گہرائی بھی عطا کرتے ہیں۔

     محاورے نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ بزرگوں کی گفتگو، لوک کہانیاں، داستانیں اور شاعری—سب نے مل کر انہیں محفوظ رکھا۔ یہ ہماری تہذیب، سوچ اور رویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ گویا محاورے ایک زندہ تاریخ ہیں جو کتابوں میں نہیں بلکہ زبانوں پر چلتی پھرتی نظر آتی ہے۔

     محاورہ اور ضرب المثل میں فرق

     محاورہ اور ضرب المثل بظاہر ایک جیسے محسوس ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں دونوں میں واضح فرق موجود ہے۔

     محاورہ ایک ایسا مخصوص فقرہ ہوتا ہے جس کا مطلب اس کے ظاہری الفاظ سے مختلف ہوتا ہے، اور اسے جملے میں شامل کر کے استعمال کیا جاتا ہے۔

     مثلاً: “ہاتھ پاؤں پھول جانا” (یعنی گھبرا جانا)

     جبکہ ضرب المثل ایک مکمل جملہ یا قول ہوتا ہے جو کسی تجربے، حقیقت یا سبق کو بیان کرتا ہے، اور اکثر نصیحت کے طور پر بولا جاتا ہے۔

     مثلاً: “جیسا کرو گے ویسا بھرو گے”

     سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ محاورہ جملے کا حصہ بنتا ہے، جبکہ ضرب المثل خود ایک مکمل جملہ اور پیغام ہوتا ہے۔

         آب آب ہونا  ۔ شرمندہ ہونا۔

    راشد جب چوری کرتا ہوا پکڑا گیا تو مارے شرم کے آب  آب ہو گیا۔

     آبرو   پر پانی پھیرنا ذلیل کرنا ،عزت کھو دینا 

شریف نے بری صحبت میں پڑ کر اپنے باپ دادا کی آبرو پر پانی پھیر دیا۔

     آنکھیں چار ہونا -آمنے سامنے ہونا

      جب انکھیں چار ہوتی ہیں مروت آ ہی جاتی ہے۔

     آنکھوں میں خون اترنا۔ بہت غصہ میں  آنا۔ 

     امجد کے منہ سے گالی سن کر حمید کی انکھوں میں خون اتر ایا

     بابا آدم نرالہ ہونا۔ حالات مختلف ہونا ۔ سب سے جدا کام کرنا      

     اس دفتر کی مت پوچھی یہاں کا تو بابا آدم ہی نرالا ہے

     بھانڈا پھوٹ جانا ۔ بھید کھل جانا ۔

     دشمنوں کی سازشوں کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے

     بس کی گانٹھ۔  مفسد۔ فتنہ بپرداز۔

       ناظر تو بس کی گانٹھ ہے اس کی باتوں میں نہ آنا۔

        بیڑا اٹھانا ۔ ذمہ لینا۔

        قائد اعظم نے مسلمانوں کی فلاح بہبود کا بیڑا اٹھایا تھا

        بیل منڈھے چڑھنا۔ کسی کام کا پورا ہونا۔     

      عوامی طاقت  اور اتحاد کے بغیر پاکستان کی ترقی کی بیل منڈے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔

     پاپڑ بیلنا ۔ مصیبت جھیلنا ۔

     آج کل  قوم  کو زندگی گزارنے کے لیے کئی   پاپڑ   بیلنے  پڑ  رہے  ہیں

     پہلو تہی کرنا۔ ٹال مٹول کرنا ۔

     نیکوں کی صحبت سے ہرگز پہلو تہی  نہیں کرنا۔

     تیوری چڑھانا ۔غصے میں آنا۔ 

     لالا جی تو ہر وقت تویری چڑھائے بیٹھے رہتے ہیں۔

     ٹٹی کی اڑ میں شکار کھیلنا ۔ درپردہ  عیب کرنا۔

      بعض قوم کے رہنما بھی ٹٹی کی اڑ میں شکار کھیلتے ہیں

        ٹیڑھی کھیر۔  مشکل کام۔ 

        جہاں دہشت گردی ہو وہاں امن سے رہنا ٹیڑھی کھیر ہے۔ 

       جامے میں پھولے  ناسمانا ۔ بہت خوش ہونا ۔

     آج بھی ابو صاحب کیا بات ہے اج تو اپ جامع میں پھولے نہیں سماتے

     جوتیاں چٹخانا ۔ مارے مارے پھرنا۔

      نوکری کی ایسی ردی حالت ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں

         جی چھوڑنا ۔  ہمت ہار دینا  ۔

     جی چھوڑنا بہادروں کا کام نہیں۔

        جوتیاں میں دال بٹنا۔  آپس میں دنگا فساد  ہونا ۔

      بسا اوقات عہدوں کے حصول کے لیے جوتیوں میں دال بٹ جاتی ہے۔

     چاٹ لگنا  ۔  عادت پڑ جانا ۔

     جسسے ایک دفعہ  سوشل میڈیا  کی چاٹ لگ جائے مشکل سے جاتی ہے۔

     چکنی چپڑی باتیں کرنا ۔ خوشامد کرنا ۔ 

      یہاں چکنی چپڑی باتوں سے کام نہیں چلے گا۔

     چلتی گاڑی میں روڑا اٹکانا ۔ ہوتے ہوئے کام کو روکنا۔

       دیکھو صاحب چلتی گاڑی میں روڈ اٹکانا شریفوں کا کام نہیں۔

     چھاتی پر مونگ دلنا۔  جان بوجھ کر تکلیف دینا۔

      حامد نے  ڈنکے کی چوٹ سے کہا کہ میں نئی بیوی کو اس گھر میں لاؤں گا اور سب کی چھاتی پر مونگ دلوں گا۔

     چھاتی پر پتھر رکھنا۔  صدمے کو صبر سے برداشت کرنا ۔

     آج کل  اکثریت   چھاتی پر پتھر رکھ کر وقت گزار رہے ہیں۔

     چھکے چھوٹ جانا۔  گھبرا جانا ۔

     پاک  فوج کے سپاہیوں نے ایسا مقابلہ کیا کہ ہندوستانی فوج کے چھکے چھوٹ گئے۔

     چوکڑی بھرنا۔  چھلانگ مارنا۔

     بندوق کی آواز سنتے ہی ہر  چوکڑی بھرتے ہوئے ہوا ہو گیا۔

     چوکڑی بھولنا ۔ بدحواس ہونا۔

      گرمی کی یہ شدت کہ خدا کی پناہ ہر ن بھی   چوکڑی بھول گئے۔

     خاطر جمع رکھنا۔ تسلی رکھنا ۔

     خاطر  جمع رکھو سب کام ٹھیک ہو جائے گا۔

     خدا لگتی کہنا ۔ سچی بات کہنا ۔

      شیخ صاحب ذرا  آپ ہی خدا لگتی کہیں کہ قصور  ریاض  کا ہے یا میرا۔

     خون پانی ایک کرنا ۔ سخت محنت کرنا۔

      مزدور  بیچارے  سارا  دن خون  پانی ایک کرتے ہیں تب کہیں   روپے کی شکل دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

باطل کے خلاف حق کی علامت حسین

     دم دینا ۔ دھوکہ دینا۔

      وہ تو دم دے کے جان لیتے ہیں۔

     دلدہی کرنا ۔  ڈھارس  دینا ۔

      غریب کی دلدہی کرنا انسان کا فرض ہے۔

     ڈنڈے بجانا ۔  بیکار پھرنا ۔

     ملک میں  پڑھے  لکھے نوجوان  ڈنڈے بجاتے پھرتے ہیں۔

     ڈور ڈھیلی چھوڑنا  ۔ کچھ نہ کہنا ۔

      اگر بچپن میں ہی بچوں کی ڈور ڈھیلی چھوڑ دو گے تو بعد میں پچھتانا پڑے گا۔

     سبز قدم ۔  منحوس قدم ۔

     بھائی صاحب آپ تو ایسے سبز قدم ہیں کہ جب سے آئے ہیں پیسے کی شکل ہی نہیں دیکھی۔

     سب کو ایک لاٹھی ہانکنا ۔ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا۔

      انسان کو اچھے برے کی تو تمیز کرنی چاہیے سب کو ایک لاٹھی ہانکنا ٹھیک نہیں۔

     سیاہ پوش ہونا۔  ماتمی لباس پہننا ۔

       محرم کے دنوں میں شیعہ حضرات سیاہ پوش ہوتے ہیں۔

     سینگ سمانا ۔  پناہ کی جگہ ملنا۔

      جب مسلمان لٹ پٹ کر پاکستان پہنچے تو جہاں کسی کے سینگ  سمائے  اباد ہو گئے۔

     شادی مرگ ہونا ۔ زیادہ خوشی کی وجہ سے موت کا واقع ہونا۔

       ایک  کروڑ کا انعام  کی خبر غریب  انسان  کے لیے شادی مرگ ہو گئی۔

     شیخی کرکری ہونا۔  بےعزتی ہونا۔

          نوید  بڑھ چڑھ   کر باتیں بنا رہا تھا، اتنے میں پولیس  آگئی اور گرفتار کر کے لے گئی بیچارے کی ساری شیخی کرکری ہو گئی۔

     شیخی بگھارنا۔  ڈینگ مارنا ۔

       جب ہاتھ سے کچھ نہ ہو سکے تو خالی شیخی بگھارنے  سے کیا فائدہ۔

     شیر و شکر ہونا ۔ بہت میل ملاپ ہو۔

      اکبر کے زمانہ میں ہندو مسلمان شیر و شکر ہو گئے تھے۔

     عقل کے ناخن لینا۔ سمجھ سوچ کر بات کرنا ۔

     بھائی صاحب ذرا عقل کے ناخن لو کیسی بے سروپا باتیں کر رہے ہو۔

     عقل کا اندھا گھاٹ کا پورا ۔   بیوقوف مالدار۔

       فقیر  کہہ رہا تھا شام ہونے کو آئی یا مولا بھیج کوئی کل کا اندھا گانٹھ کا پورا۔

        عنقا  ہونا ۔ کسی چیز کا نہ ملنا۔

      آج کل سکون قلب  عنقا  ہو چکا ہے۔

        قافیہ تنگ کرنا ۔  بہت تنگ کرنا۔

      جب کوئی نیا لڑکا  جماعت میں آتا ہے تو شریر لڑ کے اس  کا قافیہ   تنگ کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔

        قلعی کھولنا ۔  بھید ظاہر  ہونا۔

      حضرت!  خاموش رہیے، اگر اپ کی قلعی کھول دی تو جناب کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔

        قلعی  کھلنا۔  بھید ظاہر   ہونا۔

      حضرت اگر آپ کی قلعی  کھل گئی تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔

       کان ہونا ۔ نصیحت ہونا۔

      جیل کی سختیاں جھیل کر چور کو ایسے کان ہوئے کہ پھر چوری کا نام نہ لیا۔

     کانوں پر ہاتھ دھرنا۔ لاعلمی ظاہر کرنا۔

      طاہر نے  چوری   کا نام سن کر کانوں پر ہاتھ دھرے اور کہا کہ میں بالکل بے قصور ہوں۔

       کاٹھ کا الو۔ پرلے درجے کا بے وقوف ۔

     علیم تو نرا کاٹھ کا الو ہے، اس کے ساتھ مغ ماری  کرنا بے سود ہے۔

     کھوے سے کھوا  چھلنا۔  بہت بھیڑ ہونا ۔

     بڑے شہروں میں دن رات کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔

     گھی کے چراغ جلانا۔  بہت خوشی کا اظہار کرنا ۔

       قیام پاکستان  پر مسلمانوں نے گھی کے چراغ جلائے تھے۔

      گھڑوں  پانی پڑ جانا ۔ بہت شرمندہ ہونا۔

          رضوان   شیخی تو بہت بگاڑتا تھا مگر جب امتحان میں فیل نکلا تو اس پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔

     لنگوٹی میں پھاگ کھیلنا ۔ غریبی میں مزے اڑانا ۔ 

    مجید ان لوگوں میں سے نہیں جو لنگوٹی میں بھاگ کھیلا کرتے ہیں۔

     نشہ ہرن ہونا۔  نشہ اتر جانا ۔

      پولیس کو دیکھتے ہی شرابیوں کا نشہ ہرن ہو گیا۔

     ہتھیلی پر سرسوں جمانا۔  نا ممکن کام کرنا۔

      نصف گھنٹے میں 30 سوال حل کر لینا ہتھیلی پر سرسوں جمانے سے کم نہیں۔

        ید طولے ہونا۔  مہارت ہونا۔

       بشیر کو بجلی کے کام میں ید طولے حاصل ہے۔

        ہوا باندھنا ۔ تعریف کرنا ۔ شہرت دینا۔

      بھائی کیوں میر صاحب کی اتنی ہوا باندھ رہے ہو ان کی شاعری سے تو ہم خوب واقف ہیں۔

        ہوک  اٹھنا ۔ درد  پیدا ہونا ۔

     ایک ہوک  سی دل میں اٹھتی ہے ایک درد سا پیدا ہوتا ہے 

          میں رات کو اٹھ کر روتا ہوں جب سارا عالم سوتا ہے

       ہوا سے باتیں کرنا ۔  بہت جلد بھاگ جانا ۔

     ہرن  ہوا سے باتیں کرتا ہوا ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

     ہوائیاں اڑنا ۔ ا چہرہ فق ہو جانا۔

      گرفتاری کا وارنٹ دیکھتے ہی علیم کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔






Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی