سینئر صحافی: لقب نہیں، ایک کڑی ذمہ داری
تحریر:حیدر سید
صحافت کو کسی زمانے میں اقتدار کے ایوانوں پر نظر رکھنے والی طاقت کہا جاتا تھا، مگر آج یہی صحافت خود شناخت کے بحران سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ اس بحران کی ایک بڑی وجہ اصطلاحات کا بے دریغ اور غلط استعمال ہے، جن میں سب سے نمایاں اصطلاح “سینئر صحافی” ہے۔ یہ محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ایسا اعزاز ہے جو برسوں کی محنت، قربانی، مطالعہ، تجربے اور دیانت کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے آج یہ لفظ خود ساختہ شناخت بن کر رہ گیا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت محض ایک پیشہ نہیں رہتی بلکہ کردار، صبر اور سچائی کا اجتماعی امتحان بن جاتی ہے۔
صحافی بننا شاید آسان ہو سکتا ہے، مگر سینئر صحافی بننا ایک طویل اور پُرخار سفر کا تقاضا کرتا ہے۔ صحافت محض خبر پہنچانے کا نام نہیں بلکہ سچ کی تلاش، امانت کی پاسداری اور عوامی اعتماد کو قائم رکھنے کا عمل ہے۔ ایک صحافی اپنی عملی زندگی میں بے شمار امتحانات سے گزرتا ہے۔ دباؤ، دھمکیاں، مالی مشکلات، ادارتی پابندیاں اور ذاتی مفادات کے جال، یہ سب وہ رکاوٹیں ہیں جنہیں عبور کر کے ہی کوئی صحافی بالغ نظری تک پہنچتا ہے۔ یہی بالغ نظری اسے جونیئر سے سینئر کے درجے تک لے جاتی ہے۔
سینئر صحافی کی پہچان صرف عمر یا صحافت میں گزارے گئے سالوں سے نہیں ہوتی۔ اصل معیار اس کا عملی تجربہ، فکری پختگی اور اخلاقی جرات ہے۔ ایک سینئر صحافی قانون، آئین، تاریخ، معیشت اور ملکی و عالمی حالات پر گہری نظر رکھتا ہے۔ اس کا مطالعہ وسیع ہوتا ہے، کیونکہ مطالعہ ہی وہ چراغ ہے جو قلم کو سمت دیتا ہے۔ جو صحافی مطالعہ سے دور ہو، وہ زیادہ سے زیادہ پریس ریلیز کا نقال بن سکتا ہے، رہنما نہیں۔
فیلڈ رپورٹنگ اور ادارتی میز کے تجربات ہی صحافی کو یہ سکھاتے ہیں کہ خبر کہاں ختم ہوتی ہے اور ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا، یوٹیوب چینلز اور چند ماہ کسی ادارے سے وابستگی کے بعد ہر دوسرا شخص اپنے نام کے ساتھ “سینئر صحافی” لکھنے لگا ہے۔ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ محض بیان شائع کرنا یا اسکرین پر آ جانا صحافت سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اصل صحافت تو سوال اٹھانے کا نام ہے۔ صحافت میدان میں اترنے کا عمل ہے۔ طاقتور سے سوال پوچھنا، کمزور کی آواز بننا اور سچ کے لیے کھڑا رہنا ہی اصل صحافت ہے۔ اس راستے میں جو مشکلات آتی ہیں، وہی کسی صحافی کی اصل تربیت کرتی ہیں۔
سینئر صحافی خبر کو محض ایک واقعہ نہیں سمجھتا بلکہ وہ اس کے سماجی، سیاسی اور اخلاقی اثرات کو بھی جانچتا ہے۔ وہ سنسنی پھیلانے کے بجائے دلیل سے بات کرتا ہے۔ ذاتی تعلقات اور مفادات کو پسِ پشت ڈال کر قلم کی حرمت کا تحفظ کرتا ہے۔ یہی اخلاقی جرات اسے دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ایک غیر ذمہ دار خبر معاشرے میں انتشار پیدا کر سکتی ہے، اسی لیے وہ ہر لفظ تول کر لکھتا ہے۔
ایک غیر ذمہ دار سرخی بعض اوقات پوری خبر سے زیادہ نقصان پہنچا دیتی ہے، اور یہ حقیقت تجربہ ہی سکھاتا ہے۔
سینئر صحافی کا ایک اور اہم کردار اپنے جونیئرز کی تربیت ہے۔ وہ ان کے لیے محض افسر نہیں بلکہ ایک عملی درسگاہ ہوتا ہے۔ خبر کی تصدیق کیسے کی جاتی ہے؟
سوال کیسے پوچھے جاتے ہیں؟ طاقت کے مراکز سے بات کرتے وقت حدود کہاں قائم رہتی ہیں؟
یہ سب وہ اپنے عمل سے سکھاتا ہے۔
اگر یہ تربیت نہ ہو تو صحافت میں شور تو بڑھتا ہے، مگر شعور خاموش ہو جاتا ہے۔
بدقسمتی سے جعلی سینئر ازم صحافت میں تیزی سے سرایت کر رہا ہے۔ سیاسی وابستگیاں، کاروباری مفادات اور وقتی شہرت نے اس مقدس پیشے کو نقصان پہنچایا ہے۔ جب ہر شخص خود کو سینئر کہلانے لگے تو سیکھنے والا کون رہے گا؟
یہی وہ سوال ہے جو صحافت کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
صحافتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سینئر اور جونیئر کی واضح تعریف متعین کریں۔ معیار تجربہ، کردار اور خدمات کو بنایا جائے، نہ کہ تعلقات یا سوشل میڈیا فالوورز کو۔ اداروں کی خاموشی اس رجحان کو مزید تقویت دے رہی ہے، جو صحافت کے وقار کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
سینئر صحافی کوئی خود ساختہ شناخت نہیں بلکہ معاشرے کی جانب سے دیا جانے والا اعزاز ہے۔ یہ لقب وقت کی کسوٹی پر پورا اترنے کے بعد ملتا ہے۔ اصل سینئر کو اپنے نام کے ساتھ یہ لفظ لکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ اس کا کام ہی اس کی پہچان بن جاتا ہے۔ صحافت میں عزت الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے کمائی جاتی ہے۔
سچ یہ ہے کہ جو خود کو سینئر کہلوانے پھرے، وہ اکثر سینئر نہیں ہوتا۔ اصل سینئر صحافی وہی ہے جو خاموشی سے، مسلسل اور دیانتداری کے ساتھ اپنا کام کرتا رہے۔ وہ معاشرے کا آئینہ بھی ہوتا ہے اور ضمیر بھی۔ اقتدار کے ایوانوں کے لیے سوال اور عوام کے لیے آواز، یہی سینئر صحافی کی اصل پہچان ہے۔
اور شاید یہی فرق ہے شور مچانے والوں اور صحافت نبھانے والوں میں۔
