زمین کربلا اور شہید کربلا

زمین کربلا اور شہید کربلا 

زمین کربلا اور شہید کربلا

   زمین کربلا کی عظمت

         امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ زمین مکہ نے اپنے فضائل کا تذکرہ کیا اور کہا۔ میرا مقابلہ کون کر سکتا ہے؟

بیت اللہ میری پشت پر ہے۔ ہر سال کرہ ارض کے ہر گوشے سے میرے عقیدت مند میری زیارت کو آتے ہیں۔ ذات احدیت نے زمین مکہ کو وحی کی اور فرمایا ۔ اپنے فضائل ضرور بیان کر مگر تحمل سے تجھے علم ہونا چاہیئے کہ جتنے فضائل تجھے دیئے گئے ہیں  اگر ان کا مقابلہ  زمین کربلا سے کرے  تو تجھے معلوم ہو کہ تیرے تمام تر فضائل کو  زمین کربلا کے فضائل کے مقابلہ وہی نسبت ہے جو ایک قطرہ کو سمندر سے  ہوتی ہے۔ اگر  زمین کربلا کو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو تجھے یہ فضائل نہ ملتے۔اگر  زمین کربلا کا مدفون نہ ہوتا  تو تجھے پیدا ہی نہ کیا جاتا۔ اگر  زمین کربلا کا مدفون نہ ہوتا  تو تیری پشت پر بنا ہوا بیت اللہ جس پر تو فخر کر رہی ہے اس کو بنایا ہی نہ جاتا۔لٰہذا تو زمین کربلا پر اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش نہ کر،  نہ تکبر نہ فخر۔ اپنی تواضع کو برقرار  رکھ ورنہ تجھ سے یہ تیرا شرف  چھن بھی  سکتا ہے۔ (معالی السبطین)

غم حسین علیہ السلام پر ملائکہ کا گریہ

بحارالانوار میں امام جعفر صادق  علیہ السلام  سے مروی ہے کہ ذات احدیت نے چار چار ہزار ملائکہ کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے جو صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک مظلوم کربلا کے مزار پر گریہ و  بکا کرتے ہیں۔

 امام جعفر صادق علیہ السلام نے  زرارہ سے فرمایا۔ زرارہ

 مظلوم کربلا پر آسمان نے چالیس دن  خون برسا کر سوگ منایا۔زمین نے چالیس دن خون اگل کر سوگ منایا۔ سورج نے چالیس دن گرہن زد ہ ہو کر ماتم حسین علیہ السلام کیا۔ پہاڑوں نے ریزہ ریزہ ہو کرغم حسین علیہ السلام منایا۔سمندروں نے طوفان برپا کر کے حسین علیہ السلام پر گریہ کیا۔  ملائکہ نے چالیس دن تک تسبیح و تقدیس خالق چھوڑ  کر ماتم حسین علیہ السلام کیا۔ (معالی السبطین)

 زمین کربلا مقام

امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب کرہ ارض پر زلزلہ قیامت ہو گا تو اللہ تعالٰی اپنی قدرت کاملہ سے  سرزمین کربلا کو  اٹھائے گا اور زمین کربلا جنت کے اعلٰی ترین قطعات میں سے ایک قطعہ ہوگی۔جنت کے دیگر مقامات میں سے زمین کربلا افضل ترین قطعہ ہو گی۔ جس میں فقط انبیاء و مرسلین کا مسکن ہو گا۔ زمین کربلا جنت میں اس طرح جگمگائے گی جس طرح کوکب دری آسمان پر دوسرے ستاروں  میں درخشندہ ہوتا ہے۔زمین کربلا کے نور سے ہر جنت کے باسی کی آنکھیں خیرہ کریں گی۔اور زمین کربلا آواز بلند کہے گی  میں اللہ تعالٰی کی وہ مقدس ،مبارک، پاکیزہ اور مشرف زمین ہوں اللہ نے سید الشہدا ء اور سید اشباب اہل جنت کے جسد اطہر کا امین بنایا ہے۔(معالی السبطین)

خاک کربلا کی فضیلت

     امام جعفر صادق علیہ السلام  نے فرمایا ہے ۔ اپنی اولاد کو ولادت کے فورا بعد ان کے گلے پر خاک شفا کا خط کھینچو۔ بچے کے لئے ہر حیثیت میں امان ہے۔جو شخص خاک کربلا کی تسبیح کے ہر دانہ پر ایک مرتبہ  سبحان اللہ والحمدللہ ولاالہ الا اللہ واللہ اکبر پڑھے تو اللہ ہر ایک مرتبہ کے عوض اس کے نامہ اعمال میں چھ ہزار نیکی کا اضافہ کرے گا۔ اس کے نامہ اعمال سے چھ ہزار گناہ مٹا دے گا۔اس کے مراتب میں چھ ہزار درجہ کا اضافہ ہو گا۔ اور یوم حشر چھ ہزار گناہ گاروں کی شفاعت کرے گا۔

  خاک  کربلا کی تسبیح اگر کسی کے ہاتھ میں ہو خواہ وہ کچھ بھی نہ پڑھے اس کے نامہ اعمال میں تسبیح کا ثواب لکھا جاتا رہے گا۔ جب ملائکہ زمین پر آتے ہیں تو حوریں ان سے درخواست کرتی ہیں کہ تھوڑی سی خاک شفا لے کے آنا۔ (معالی السبطین)

 دریائے فرات کے پانی کی عظمت

 امام جعفر صادق  علیہ السلام  ابو العباس  سفاح کے زمانہ میں کربلا  تشریف لائے۔  سفر کی تھکان دور کرنے  سے پہلے دریائے فرات پر تشریف لائے۔ غلام سے فرمایا مجھے پانی کا ایک جام بھر کے دے۔ آپ علیہ السلام نے پانی پیا۔ جو بچ رہا اسے اپنے کپڑوں پر چھڑک لیا اور فرمایا الحمداللہ۔ کتنی عظیم  برکتوں کا حامل ہےآب فرات۔  روزانہ آب  جنت سے سات قطرات اس دریا میں ڈالے جاتے ہیں۔ اگر  میرا  ٹھکانہ اسی جگہ ہوتا تو میں صبح و شام دریائے فرات پر آکر  اس کے پانی سے غسل بھی کرتا  اور پیتا بھی۔اگر لوگوں کو آب فرات کی برکت معلوم ہوتی تو اپنے مکان دریائے فرات کے کنارے بنا دیتے۔کتنی بیماریاں ہیں جو دریائے فرات کے پانی سے غسل کے ساتھ دور ہو جاتی ہیں۔اور کتنی بیماریاں دریائے فرات کا پانی پینے سے چلی جاتی ہیں۔ (معالی السبطین)   

Read More: ہدیہسلام مظلوم کربلا  

Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی