سر کے بالوں کے مسائل


سر کے بالوں کے

 مسائل


 بال گرنا، جھڑنا، سفید ہونا اور حفاظت

سر کے بالوں کے مسائل


 صحت مند اور چمکدار بال انسانی شخصیت کو جاذبِ نظر بناتے ہیں۔ چہرے کی خوبصورتی میں بال اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انسانی صحت جتنی اچھی ہوگی، بال بھی اتنے ہی صحت مند ہوں گے۔ خرابیٔ صحت کے ساتھ ساتھ بالوں میں بھی نقائص آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

انسانی بال جنین بننے کے تیسرے یا چوتھے ماہ میں ہی بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ پیدائش سے پہلے یا فوری بعد یہ بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بچپن میں باریک، چھوٹے اور بغیر رنگ کے بال اگتے ہیں جنہیں ڈاؤن ہیئر یا ویلس (Vellus Hair) کہتے ہیں۔ یہ ویلس بال جسم کے تقریباً ہر حصے پر آتے ہیں، سوائے ہاتھوں کی ہتھیلیوں، پیروں کے تلووں، انگلیوں کی بعض سطحوں اور دیگر مخصوص جگہوں کے۔

بلوغت کے وقت اور اس کے بعد یہ بال لمبے، موٹے اور زیادہ رنگت والے بالوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں جنہیں ٹرمینل بال (Terminal Hair) کہتے ہیں۔ یہ بال بغلوں، چہرے اور جسم کے دیگر حصوں پر اگتے ہیں۔

سر کے بال ابرو اور پلکوں کے بالوں سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ سر کے بال کافی گھنے اور لمبے ہوتے ہیں۔ سر پر اوسطاً ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ تک بال ہو سکتے ہیں۔ انسانی بال ہر ماہ تقریباً 0.5 انچ یا 13 ملی میٹر کی شرح سے بڑھتے ہیں۔ مردوں کی داڑھی، گال اور ٹھوڑی کے بال بھی تقریباً اسی رفتار سے نشوونما پاتے ہیں۔

انسانی بال Hair Follicle کی بنیاد پر موجود خلیوں سے بنتے ہیں۔ جیسے جیسے یہ خلیے بڑھتے ہیں، بال بھی سخت ہوتے جاتے ہیں۔ مختلف بالوں کی اوسط عمر بھی الگ الگ ہوتی ہے۔ جسم کے مختلف حصوں پر بالوں کی اوسط عمر تقریباً چار ماہ تک ہوتی ہے، جبکہ سر کے بالوں کی عمر تین سے پانچ سال تک ہو سکتی ہے۔

بالوں کی پرورش بھی ہماری صحت کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ صحت کی خرابی کے ساتھ ساتھ بالوں کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ سر کے بالوں کے مسائل، ان سے متعلق بیماریوں اور ان کی وجوہات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔


سر کے بالوں کے مسائل

  بال چر،بال خوردہ

  جسم میں کچھ ایسے مادے پائے جاتے ہیں جو جلد میں بالوں کی جڑ کے قریب ٹھہر کر ان کی غذا کو روک لیتے ہیں۔ یہ مادہ بال کی جڑ اور اس کی غذا کو اس قدر خراب کر دیتا ہے کہ وہ پرورش کرنے کے قابل نہیں رہتا۔
اس مرض میں پہلے اس مقام پر سرخی نمودار ہونے کے بعد چھوٹے چھوٹے دانے نکلتے ہیں جن میں پیپ پڑ جاتی ہے۔ ان پر سفیدی مائل کھرنڈ جم جاتا ہے۔ وہاں سے خراب جلد اترنے لگتی ہے۔ پھر وہاں گول گول دھبے پیدا ہو جاتے ہیں اور اس جگہ سے بال ٹوٹ کر گر جاتے ہیں۔
اکثر یہ مرض داڑھی، مونچھ اور ابرو میں بھی پایا جاتا ہے۔

  

سر کے بالوں کے مسائل

 بالوں کا گرنا

  بالوں کے گرنے کی ایک وجہ غذا اور ان رطوبات کی کمی بیان کی جاتی ہے جن سے بال اگتے ہیں۔ وہ لوگ بھی زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جو تپِ دق اور سانس کی بیماریوں سے صحت یاب ہوتے ہیں۔

بال گرنے کی مثال ایسی ہے جیسے پانی نہ ملنے سے پودے خشک ہو کر گر جاتے ہیں۔ بال گرنے کی ایک اور علامت یہ ہے کہ بال روئیں اور ریشم کی طرح نرم ہو جاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں بالوں کی جڑ کمزور ہو جاتی ہے جس سے نئے تندرست بال پیدا ہونے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

ایسی صورت میں بعض لوگ سر منڈوانے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ سر پر استرا لگنے سے جلد پر عارضی طور پر حرارت اور خون کی گردش کا احساس بڑھ سکتا ہے، تاہم سر منڈوانے سے بالوں کی جڑیں لازماً زیادہ مضبوط یا بال زیادہ موٹے نہیں ہوتے۔

روغنِ آملہ جو خود نکالا ہوا ہو، اس جگہ پر لگائیں۔ بازار میں فروخت ہونے والا روغنِ آملہ اگر خالص ملے تو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 

سر کے بالوں کے مسائل

  بال جھڑنا

   اس مسئلے میں بال جھڑ کر کم ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگوں میں یہ مسئلہ پیدائشی اور موروثی بھی ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ بال گر کر کم ہو جاتے ہیں۔

سر کی جلد میں داد، چنبل اور دیگر جلدی بیماریوں کی وجہ سے بھی بال جھڑ سکتے ہیں۔ اگر جلدی امراض یا عمومی کمزوری کی وجہ سے یہ مسئلہ ہو تو بنیادی وجہ کا علاج ضروری ہے۔

روغنِ آملہ یا خالص روغنِ بادام سر پر لگایا جا سکتا ہے۔ یہ روغن روایتی طور پر بالوں کی دیکھ بھال کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں اور بالوں کو نرم رکھنے اور ان کی دیکھ بھال میں مدد دے سکتے ہیں۔


Read More: سر کی جوؤں سے نجات حاصل کریں

سر کے بالوں کے مسائل

  چندیا صاف ہونا

   اس میں سر کے اگلے حصے کے بال گر جاتے ہیں۔ نوجوانی میں ایسا ہو جائے تو اس کی وجہ معلوم کرنا ضروری ہے اور بال جھڑنے کے مسئلے کی طرح بنیادی وجہ پر توجہ دینی چاہیے۔
اگر یہ مسئلہ بڑھاپے میں ہو تو اس کی وجہ سر کے اس حصے میں بالوں کی جڑوں کی کمزوری اور جلد میں تبدیلیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ مرض کے ابتدائی مرحلے میں اس کی رفتار کو بعض صورتوں میں کم کیا جا سکتا ہے۔ جب مسئلہ پرانا ہو جائے تو بالوں کا دوبارہ اگنا مشکل ہو سکتا ہے۔

 

سر کے بالوں کے مسائل

  بالوں کا سفید ہونا

   بالوں کا سفید ہونا یعنی بالوں کے قدرتی رنگ کا سفیدی میں بدل جانا ہے۔ بڑھاپے میں بال قدرتی طور پر سفید ہو جاتے ہیں۔
جوانی میں بال سفید ہونے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں موروثی عوامل، غذائی کمی، بعض جسمانی مسائل، ذہنی دباؤ اور پریشانی شامل ہو سکتے ہیں۔ بعض لوگوں میں موروثی طور پر بھی بال کم عمری میں سفید ہو جاتے ہیں۔
جوانی میں بال سفید ہونے کی صورت میں متوازن اور اچھی غذا کا استعمال مجموعی صحت کے لیے مفید ہے۔ بالوں میں ناریل، بادام اور سرسوں کا خالص تیل لگانا بالوں کی دیکھ بھال کے روایتی طریقوں میں شامل ہے۔
بڑھاپے میں سفید ہونے والے بالوں کو رنگ سے رنگا جاتا ہے، کیونکہ قدرتی طور پر سفید ہو جانے والے بالوں کا دوبارہ سیاہ ہونا آسان نہیں ہوتا۔
بالوں کو رنگنے کے لیے ایسا ہیئر کلر استعمال کرنا بہتر ہے جس سے سر کی جلد کو کم سے کم نقصان پہنچے اور استعمال سے پہلے اس کی ہدایات اور احتیاطی تدابیر کو ضرور پڑھا جائے۔

 

سر کے بالوں کے مسائل

   بالوں کی حفاظت

   جس طرح ہم اپنے جسم کی حفاظت کرتے ہیں، اسی طرح بالوں کی حفاظت بھی کرنی چاہیے۔ بال توانا اور چمکدار ہوں گے تو چہرہ بھی جاذبِ نظر دکھائی دیتا ہے۔
اندرونی اور بیرونی طور پر بالوں کو اچھی خوراک مہیا کریں۔ بالوں کو تندرست و توانا رکھنے کے لیے بالوں میں ناریل، بادام اور سرسوں کا خالص روغن لگایا جا سکتا ہے۔
بالوں کو دھول مٹی سے بچائیں۔ جس طرح چہرے کو صاف رکھتے ہیں، اسی طرح بالوں کو بھی صاف رکھیں۔
کیمیکل زدہ یا ایسے شیمپو کے زیادہ استعمال سے گریز کریں جو سر کی جلد کو نقصان پہنچائے۔ شیمپو اپنی ضرورت اور بالوں کی نوعیت کے مطابق استعمال کریں۔
سر دھونے کے لیے آملہ شیمپو گھر میں خود تیار کرکے استعمال کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی تیاری میں صفائی اور مناسب احتیاط کا خیال رکھا جائے۔
بالوں کی حفاظت کے لیے ایلوویرا بھی روایتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے سر میں لگانے سے بال نرم و ملائم محسوس ہو سکتے ہیں۔
بالوں کو سیاہ کرنے کے لیے ایسا ہیئر کلر استعمال کریں جو امونیا سے پاک ہو یا سر کی جلد کے لیے نسبتاً کم نقصان دہ ہو، تاکہ سر کی جلد کو نقصان پہنچنے کے امکانات کم ہوں۔
بالوں کے مسلسل گرنے، گنج پن کے بڑھنے، سر کی جلد میں پیپ، شدید خارش، زخم، گول گول خالی دھبوں یا اچانک بال جھڑنے کی صورت میں ماہرِ جلد سے مشورہ کرنا بہتر ہے، کیونکہ ایسی علامات کسی بنیادی بیماری کی طرف بھی اشارہ کر سکتی ہیں۔
Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی