ہاتھی گوبر کے فوائد
راہ چلتے آپ کا سامنا کسی جانور کے گوبر سے ہو جائے تو اس
سے بچ کر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گھر کے لان
یا باہر کسی پارک یا گراؤنڈ میں کسی جانور کا فضلہ پاوں کے نیچے آجائے تو کراہت محسوس
ہوتی ہے۔ دیہات میں رہنے والے لوگوں کا روزانہ ہی پالتوں جانوروں کے فضلہ سے واسطہ
پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں پالتو جانوروں کا گوبر
جلانے کے کام آتا ہے یا کھیتوں میں قدرتی کھاد کا کام دیتا ہے۔ اس گوبر سے گیس بھی بنتی ہے جو اکثر دیہاتوں میں
جلاتے ہیں۔
جنگل میں چلتے
ہوئے ہاتھی کے گوبر کا سامنا ہو جائے تو اس کی اہمیت جاننے والے اس سے کترا کر نہیں
گزریں گے۔ جنگلات میں رہنے والے لوگ اس گوبر کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ بلکہ ہمارے
ہاں حکماء صاحبان بھی اس کے فوائد سے لا علم نہیں ہیں۔ یہ کچھ ادویات میں بھی استعمال
ہوتا ہے۔
بھارت، سری لنکا، تھائی لینڈ اور افریقہ میں کافی ہاتھی پائے جاتے ہیں۔ ہاتھی کی روزانہ خوراک 150 سے 200 کلو گرام ہوتی ہے۔ یہ روزانہ 100 کلو گرام تک گوبر کرتا ہے۔ افریقہ کے بوٹسوانا جنگل میں 1 لاکھ 30 ہزار ہاتھی پائے جاتے ہیں جو روزانہ 13 ہزار میٹرک ٹن گوبر کرتے ہیں۔ اس گوبر کا حشرات وغیرہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور زیادہ تر پودوں کے لئے قدرتی کھاد کا کام دیتا ہے۔ چھوٹے رینگنے والے کیڑے اس گوبر میں بسیرا بھی کرتے ہیں۔ کچھ پرندوں کی خوراک بھی یہ گوبر بنتا ہے۔ ہاتھی کے گوبر کے کیا فوائد ہیں، اس کے بارے آگاہی ہونا چاہیئے۔
مچھر بھگانے والا
جنگلات میں رہنے والے لوگ ہاتھی کے سوکھے گوبر کو جلا کر مچھروں کو اور دیگر حشرات کھٹمل وغیرہ کو دور بھگاتے ہیں۔ اس گوبر کا بے بو دھواں انسانی نتھنوں کے لئے ناگوار نہیں ہوتا۔ بلکہ مچھر و کھٹمل وغیرہ کے لئے موت کا پیغام لاتا ہے۔
زندگی بچانے والا پانی
جنگلات میں رہنے والے اگر کبھی جنگل میں بھٹک جائیں اور پانی نا مل رہا ہو تو نزدیک کہیں ہاتھی ہوں تو ان کا تازہ مٹھی بھر گوبر نچوڑ کر نکلنے والے پانی سے پیاس بجھاتے ہیں۔ ہے تو یہ ناپسندیدہ عمل مگر یہ اس وقت ممکن ہے جب جان بچانی مقصود ہو.
درد اور اخراج خون کا علاج
ہاتھی کی خوراک
کئی اقسام کے پودے ہیں جو روزانہ بڑی تعداد میں کھاتا ہے۔ اسی لئے اس کے گوبر میں پودوں کے ریشے ہی ملتے ہیں۔ مقامی لوگ اس گوبر کو روایتی بطور شفا استعمال کرتے
ہیں۔ خشک گوبر کو جلایا جاتا ہے، جب شعلے نکلنے لگتے ہیں تو اس کے دھوئیں کو بذریعہ
سانس زور سے اندر کھینچا جاتا ہے۔ سر درد، دانت درد و جسمانی دردوں کے لئے فوری آرام
ملتا ہے۔ کسی خاص بیماری کے علاج کے لئے مخصوص
جڑی بوٹی ڈھونڈنے کی بجائے مقامی افراد ہاتھی
کا گوبر تلاش کرتے ہیں جس میں ہر طرح کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔
کاغذ بنانا
ہاتھی سبزی خور جانور ہے جو اپنی خوراک 45 فیصد تک ہضم کرتا ہے۔ غیر ہضم شدہ خوراک کے ریشے گوبر کی صورت نکالتا ہے۔ پودوں کے ان ریشوں سے کاغذ کی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔ آج یہ کاغذ لکڑی کے ریشوں کے گودے سے بنایا جاتا ہے۔ یہی کاغذ ہاتھی کے گوبر میں موجود لکڑی کے ریشوں سے بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح جنگلات بھی کٹنے سے بچ جائیں گے۔ درخت زندہ رہنے سے ماحول دوست ہو گا۔
کافی کا مرکب
بلیک آئیوری کافی کے نام سے سبھی واقف ہیں۔ یہ کافی کیسے بنتی ہے آپ جان جائیں تو اسے پینے
کا حوصلہ نہیں کریں گے۔ کافی کی پھلیاں ہاتھی کو کھلائی جاتی ہیں۔ ہاتھی کے معدہ میں ابال کا عمل جو وہ اپنے کھانے
میں سیلولوز کو توڑنے کے لئے استعمال کرتے ہیں، اس سے پھلیوں میں میٹھا پن اور ذائقہ
آتا ہے۔ اس سے کافی کو چاکلیٹی رنگ اور چیری کا ذائقہ ملتا ہے۔ اس سے پھلیوں پر لگے
تمام نشانات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ تھائی لینڈ کے گولڈن ٹرائنگل میں رکھے گئے ہاتھیوں
سے یہی کام لیا جاتا ہے۔ بڑے وسیع پیمانے پر
یہ کام ہوتا ہے ۔ ایشیاء اور مشرق وسطی کے فائیو سٹار ہوٹلز میں یہ کافی کافی مہنگی
پیش کی جاتی ہے۔
مہنگی بیئر
بلیک آئیوری کافی کے ساتھ ساتھ اسی طریقہ سے کافی کی پھلیوں کو بیئر میں ڈال کر مخصوص طریقہ سے بنایا جاتا ہے۔ اس بیئر کا ذائقہ بھی چاکلیٹ جیسا ہوتا ہے۔ الکحل میں تیار کردہ اس بیئر کی مانگ ہر جگہ ملتی ہے۔
رہائش گاہ
ہاتھی کے گوبر بہت سی مخلوقات کے لئے رہائش کا انتظام کرتے ہیں۔ اسی لئے سائنسدان ہاتھیوں کو ایکو سسٹم انجینئر کے طور پر جانتے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ وہ جسمانی ماحول کو تبدیل کر کے دوسرے جانداروں کے لئے وسائل مہیا کرتے ہیں۔ کئی اقسام کے کیڑے مکوڑے جیسے بچھو، گرگٹ، دیمک اور ملی پیڈ وغیرہ گوبر کے ان ڈھیروں میں گھر بنا کر رہتے ہیں۔
