آخری ہادی کائنات عجل اللہ فرجہ
انٹرنیٹ کے اس دور میں کتاب کی اشاعت بڑی بات ہے۔ ہر چیز انٹرنیٹ پر آجانے سے قاری بھی کتاب سے دور ہو گیا ہے۔ کتابیں لکھنے والے تو بہت ہیں، مگر کتاب پڑھنے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔
ارشاہ العصر جعفری بھی ان مصنفین میں شامل ہیں جن کی بہت سی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں دو کتابیں دو صدارتی ایک صوبائی ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ مزاح، جاسوسی، خوفناک، ادب، شاعری، اسلامی اور مختلف موضوعات پر لکھی گئی ان کی سینکڑوں تحریریں اس بات کی گواہ ہیں کہ ارشاد العصر جعفری ہر میدان کا کھلاڑی ہے۔ جن کی ذہنی صلاحیتوں نے ہر قاری کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔
ارشاد العصر جعفری کی کتاب آخری ہادی کائنات وہ کتاب ہے جسے ایک بار ہی مکمل پڑھے بغیر چین نہیں آتا۔ نام سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب امام مہدی علیہ السلام کے بارے لکھی گئی ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر غیبت زمانہ تک تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ صاحب کتاب نے عام فہم زبان میں لکھ کر قاری کو اپنا گرویدہ بنا یا ہے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی منتظر ہیں۔ اسی بارے میں مصنف نے ایک جگہ لکھا ہے کہ
"چونکہ تمام مذاہب کی بنیاد ایک ہی ہے اس لئے ان میں کوئی اختلاف ہو ہی نہیں سکتا"
"وہ لوگ جو اقوام عالم کے درمیان نفرت اور تعصب کو پیدا کرتے ہیں، ان سے ایک گزارش ہے کہ تمام مذاہب عالم نے آخری دور میں ایک عظیم رہنما اور نور اول کے نمائندہ و مظہر کامل کے ظہور کے بارے میں یک زبان و یک دل ہو کر پشین گوئی کی ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے ماضی کے اختلاف کو بھلا کر اس آخری الہامی و مقدس رہنما کا انتظار کریں جو سارے مذاہب کو متحد کر کے ساری دنیا کو ایک خاندان بنا دے گا"
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی والدہ حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہا کے بارے بھی تمام تفصیلات انہی کی زبانی بیان کی گئی ہے۔
" جب میری عمر تیرہ سال ہوئی تو میرے دادا قیصر روم نے اپنے خاندان میں ہی میری شادی کا فیصلہ کیا۔ محفل منعقد کی گئی۔ تین سو راہب اور سات سو پادری وہاں موجود تھے۔ نیز ہزار فوجی، سردار، شرفا اور معززین بھی اس محفل میں شریک تھے۔ تخت و تاج کو جواہرات سے سجایا گیا تھا۔جیسے ہی میرے دادا کا بھتیجا جس سے میری شادی ہونی تھی۔ تخت پر بیٹھا اور صلیب کو اس کے گرد گھمایا جانے لگا تو سب لوگ تعظیم میں کھڑے ہو گئے اور انجیل کے صٖفحات کو کھولا گیا۔ جیسے ہی شادی کی رسمیں شروع ہونے لگیں ساری صلیبیں الٹ کر گر گئیں۔ تخت و تاج لرزنے لگے اور وہ نوجوان جس سے میرٰ شادی ہو رہی تھی، بیہوش ہو کر گر پڑا۔ سب کے چہروں کا رنگ اڑ گیا۔ راہبوں کے سردار نے میرے دادا سے کہا، اس نحوست والے عمل کو چھوڑ دو، جس کی وجہ سے مسیحیت نابود ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔میرے دادا قیصر روم نے کہا کہ صلیبوں کو اپنی جگہ پر نصب کردو۔ ساری چیزوں کو ان جگہ پر واپس رکھو۔ پھر اپنے دوسرے بھتیجے کو بلایا تا کہ اس سے میری شادی کر دی جائے۔ لیکن دوسری بار بھی ویسا ہی ہوا۔ سب کچھ درہم برہم ہو گیا۔ اور میرے دادا افسردہ ہو کر اپنے حرم میں چلے گئے"
کتاب میں تمام تفصیلات بیان کی گئی ہیں کہ کس طرح خواب دیکھتی ہیں کہ حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت علی علیہ السلام اور ان کی اولاد کے کچھ لوگ، حضرت عیسی علیہ السلام، حضرت شمعون علیہ السلام اور حواریوں کے ایک گروہ کے ساتھ دادا کی محفل میں آتے ہیں، اور حضرت محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت عیسی علیہ السلام سے ان کے وصی شمعون کی بیٹی ملیکہ کا رشتہ اپنے بیٹے ابو محمد کے لئے مانگتے ہیں۔ پھر ایک اور خواب میں خاتون جنت حضرت بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا ہمراہ حضرت مریم سلام اللہ علیہا انہیں کلمہ پڑھا کر اسلام میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہا کی شادی ہو جاتی ہے۔ بیٹے کی پیدائش ہوتی ہے جسے چھپایا جاتا ہے۔ کیونکہ عباسی حکمران آپ علیہ السلام کے خاندان کے دشمن ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ اس خاندان میہں نیا وارث آئے۔ وہ جاسوسی کرواتے ہیں مگر ناکام رہتے ہیں۔
امام مہدی علیہ السلام کی شکل و صورت کے بارے مصنف نے لکھا ہے کہ
" روایت میں ہے کہ امام مہدی عجل اللہ فرجہ کی بہت سے انبیاء سے شباہت ہے۔ ایک شباہت حضرت موسی علیہ السلام سے ہے کہ جس طرح حضرت موسی علیہ السلام کی ولادت مخفی تھی۔ اسی طرح حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ کی ولادت بھی مخفی ہوئی۔
دوسری شباہت حضرت عیسی علیہ السلام سے ہے۔ جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے آثار ظاہر نہیں ہوئے تھے اسی طرح امام زمانہ کی ولادت کے آثار بھی ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ امام زمانہ کی پیدائش مخفی رکھنے کی وجہ دشمن تاک میں تھے کہ بچے کو اس دنیا میں آنے ہی نا دیا جائے۔
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے امام کی پیدائش کے تین دن بعد محبان اہل بیت کی ایک قابل اعتماد جماعت کو بلا کر انہیں امام زمانہ علیہ السلام کا دیدار کروایا اور لوگوں سے فرمایا
" یہ میرا جانشین اور تمہارا آقا ہے۔ میرے بعد یہی تمہارا سربراہ ہے۔ یہی وہ قائم ہے جس کا انتظار کرتے کرتے آنکھیں تھک جائیں گی۔ مگر اس کا ظہور اس وقت ہو گا جب زمین ظلم و چور سے بھر چکی ہو گی۔ اس کے ظہور کے بعد زمین عدل و انصاف سے بھر جائیگی "
مصنف نے غیبت صغری کے بارے بھی مفصل باتیں لکھی ہیں کہ عام فہم قاری بھی سمجھ سکے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات اور امام زمانہ کی اپنے والد کی نمازہ جنازہ پڑھانے کے واقعہ کو بڑے دلکش پیرائے میں لکھا ہے۔
" خطرات بہت زیادہ تھے۔ حکمران آپ علیہ السلام کے خون کے پیاسے تھے۔ حجت خدا ان کی حکمرانی کے لئے خطرہ تھے سو وہ اس خطرے کا وجود ہی مٹانا چاہتے تھے۔ اسی لئے تو اللہ نے آپ علیہ السلام کو پردہ غیبت میں رکھا ہوا تھا۔ لیکن حجت خدا کا جنازہ تیار تھا۔ نماز جنازہ بھی حجت خدا نے پڑھانی تھی۔ اس موقع پر آپ علیہ السلام کا پردہ غیبت میں رہنا مناسب نہیں تھا۔
حکمران اپنے تمام تر سرکاری وسائل خرچ کر رہے تھے اور اعلان کر رہے تھے کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اس دنیا سے بے اولاد جا رہے ہیں۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کا بھائی جو کہ جعفر کذاب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بہت خوش تھا۔ وہ عباسی حکومت کا حمایت یافتہ تھا، اور عباسی حکومت کی بیساکھیوں سے اس کوشش میں مصروف تھا کہ وہ امام حسن عسکری علیہ السلام کا وارث بن جائے، اور امت اسے امام بنا لے۔ وہ بھی نہیں جانتا تھا کہ حجت خدا کو اس دنیا میں تشریف لائے ہوئے پانچ سال ہو گئے ہیں۔ وہ بھی امام حسن عسکری علیہ السلام کو بے اولاد سمجھتا تھا۔
امام کی نمازہ جنازہ پڑھنے کے لئے سامرہ کے علاوہ اور بھی کچھ علاقوں سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ امام کے جنازے میں لوگوں کی تعداد شمار سے باہر تھی۔ صفیں بندھ گئیں تو جعفر نے تکبیر کے لئے ہاتھ بلند کئے۔ ابھی ہاتھ بلند ہوئے ہی تھے کہ اچانک ایک ہاتھ ظاہر ہوا اور جعفر کے سینے پر پڑا، جس سے وہ لڑ کھڑا گیا۔ اسی لمحے گوشہ بتول مکان سے ایک آفتاب طلوع ہوا۔ دیکھنے والوں نے چشم حیرت سے دیکھا کہ ایک کمسن بچہ نور کا ایک پیکر، شانوں پر لہراتے بال، عظمت کا سربفلک پہاڑ، ہیبت الہیہ کا مجسم پیکر، انتہائی وقار سے چلتا ہوا جعفر کے قریب آیا۔ جعفر کی عبا پکڑ کر فرمایا۔
" چچا جان، یہ میرے باپ کا جنازہ ہے۔ اور ایک معصوم کا جنازہ معصوم ہی پڑھا سکتا ہے۔ میں خود یہ جنازہ پڑھاؤں گا۔ آپ پیچھے صف میں تشریف لے جائیں"
جعفر حیرت کی تصویر بن گیا۔ اس کا ماتھا شرمندگی سے عرق آلود ہو گیا۔ پسینہ پونچھتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا۔ حجت خدا نے آگے بڑھ کر اپنے والد گرامی کی نماز جنازہ پڑھائی۔
اس کتاب میں مصنف نے ہر بات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے اسے بڑی خوبصورتی سے تحریر کیا ہے۔غیبت صغری کے دوسرے دور کو احاطہ تحریر میں لاتے ہوئے لکھا ہے کہ
" امام زمانہ ، ہادی کائنات عجل اللہ فرجہ کے غیبت صغری ٰ کے 74 سال ہیں۔ ان میں سے پانچ سال تو وہ ہیں جو آپ علیہ السلام نے اپنے والد کے زیر سایہ گزارے۔ اور 69 سال آپ علیہ السلام نے اپنے والد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد عالم غیبت میں رہ کر منصب امامت پر جلوہ افروز ہو کر نفاذ احکام کئے۔ بہت سے خوش نصیب افراد ایسے ہیں جنہیں ان 69 سال میں ہادی کائنات عجل اللہ فرجہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوتا رہا۔
ہادی کائنات کے معجزات کے حوالہ سے بھی ان افراد کے نام درج ہیں جنہیں قائم آل محمد کے معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔
بلاشبہ ہادی کائنات ہمارے آخری امام علیہ السلام جو تمام انسانیت کے رہنما ہیں، کے بارے جامع معلومات کی حامل کتاب ہے۔ کتاب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مصنف نے لکھنے کے لئے کتنی عرق ریزی کی ہو گی۔ سبھی معلومات کو مختصر جامع لکھا ہے تاکہ تشنگی نا رہے۔
Read More: درد کی آغوش میں رفیق کاشمیری


بہت ہی خوبصورت مضمون ہے ۔ ایسا خوبصورت تبصرہ لکھنے پر شکریہ ۔ جزاک اللالله
جواب دیںحذف کریں