درد کی آغوش میں رفیق کاشمیری
شاعری پیار کا وہ اظہار ہے جس میں شاعر قانون فطرت کو دیکھ کر انہیں خوبصورت الفاظ کا پیرہن پہناتا ہے۔ شاعر کو پھول،ستارے،چاند،آسمان،سمندر،جھرنا اور قوس قزاح کے حسین رنگوں میں محبوب کا سراپا نظر آتا ہے تو انہیں اپنے الفاظ میں ڈھال کر بیان کرتا ہے تو اسے شاعری کا نام دیا جاتا ہے۔ الفاظ کا بہترین چناؤ اور انداز بیان اچھا ہو تو شاعری دل میں گھر کر جاتی ہے۔ شاعری میں تسلسل کو قائم رکھنا کٹھن مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ شاعری محبوب سے ہمکلامی کا نام ہی نہیں ہے بلکہ آس پاس ہونے والے واقعات کو الفاظ کے قالب میں ڈھالنا بھی شاعری ہے۔ ایک شاعر ایسا بھی ہے جو رنگوں سے کھیلتا ہے۔ دھاگوں میں رنگ بھرے تو زمانہ معترف ہو جائے۔ شاعری میں رنگ بھرے تو سننے والے واہ واہ کر اٹھیں۔ ان کے کلام کا بغور مطالعہ کریں تو اس کے پس پشت جو معاشرتی، نفسیاتی اور شخصٰی عوامل کارفرما ہیں، انہیں اپنے فن میں سموتے ہوئے وہ فنی جمالیات، اسلوب اور اپنی فنکارانہ انفرادیت کو اجاگر کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
شاعری کی پندرہ
کتابوں کا بانکا سجیلا شاعر جسے حرف گیری کا فن آتا ہے، کی شاعری نے ہر صاحب ذوق
کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ ان خوبصورت تخلیقات کے خالق رفیق کاشمیری ہیں، جنہیں
کبھی کسی مشاعرہ میں نہ دیکھا نا سنا۔ یہ گمنام سا شاعر بغیر کسی پذیرائی کے اپنا
کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ شاعری سے انہیں محبت ہے۔ وہ خود کو نہیں بلکہ اپنے شوق
شاعری کو نمایاں کرتے ہیں۔ اپنی کتاب سمندر کی گھنی چھاؤں میں ایک جگہ لکھتے ہیں
میں تجھ سے آج تلک
روبرو ملا بھی نہیں
تعارفی سا
کوئی ایسا رابطہ بھی نہیں
میں تیرے نام کی تصدیق کرنے آیا تھا
تو میرے ہونے نہ ہونے
کو مانتا بھی نہیں
رفیق کاشمیری کی
شاعری میں حسن و عشق کی باتیں اور ہجر و فراق کی داستان گوئی ہی نہیں بلکہ معمولات
زندگی کا عکس بھی نمایاں نظر آتا ہے۔
دلدل سے بھی رفیق تو
نکلے گا کس طرح
جب تک نہ تیرے ہاتھ
کو پکڑے گا دوسرا
زندگی کی طویل
مسافت میں حالات و واقعات پر بڑی گہری نظر رکھی، جن کے اشارے جا بجا ان کی شاعری
میں بھی ملتے ہیں
ضیاء الحق سے کیوں نہ
آج پوچھیں
یہ کیا تھا کون سی یہ
دوستی تھی
یہ چالیس
لاکھ افغانی مہاجر
ہمارے ملک میں یہ ہی
کمی تھی
مسلط ہم پہ وہ جو کر
رہے ہیں
خدا کے نام پر دہشت
گری تھی
مسلماں تھے مگر اپنے
نہیں تھے
یہ پاکستان سے ہی
دشمنی تھی
رفیق کاشمیری کا قلمی سفر
چشم تر (اردو)
ویرانے میں جگنو (اردو)
سانجھے جندرے (پنجابی)
پلکاں ہیٹھ سمندر (پنجابی)
بھلا دینا مجھے تم (اردو)
اوہدے تے ایمان بڑا سی (پنجابی)
ہر اک آنکھ کا اپنا کاجل
(اردو)
سمندر کی گھنی چھاؤں (اردو)
حرفاں دے ہتھ (پنجابی) ایوارڈ یافتہ
مجھ کو کون لکھتا ہے (اردو)
دکھاں دی دوپہر (پنجابی) ایوارڈ یافتہ
عشق بنا نئیں منزل ملدی (پنجابی) ایوارڈ یافتہ
جو بھی تو ہے (اردو) ایوارڈ یافتہ
درد کی آغوش (اردو)
جھرنا (اردو/پنجابی)
اپنی کتاب درد کی آغوش میں ایک اور جگہ سانحہ آرمی پبلک
سکول کے بارے لکھتے ہیں کہ
ہماری نسل پہ ہیں
حملہ آور
وہی تو ہیں جن پر رحم کھایا
وہی نازک مرے معصوم
بچے
بگاڑا تھا انہوں نے کیا تمہارا
علم کے تھے شیدائی تو
کیا تھا
کہ جن کو خون میں
نہلا دیا تھا
0
شرم آ ئی کبھی نہ ان کو اس پر
جو قرآن کے ورق تھے
پھاڑ ڈالے
کئی ماؤں کے سینے پھٹ
گئے تھے
علم بردار تھے جو کٹ
گئے تھے
وہ بہنوں کے دوپٹوں
کے محافظ
جو وحشت نے تمہاری
مار ڈالے تھے
رفیق کاشمیری عام
شاعروں کی طرح صرف شاعر ہی نہیں بلکہ خوبصورت تخلیقکار ہے۔ سائنس میں تعلیم حاصل
کرنے کے بعد مختلف رنگوں کے ملاپ سے نئے رنگ تخلیق کئے کہ دنیا دیکھ کر دنگ رہ
گئی۔ اپنے شہر اوکاڑہ میں ہاتھ سے بنائے گئے قالینوں کا کارخانہ لگایا جس کے بنانے میں رنگوں کا انتخاب خود کرتے ہیں۔ ملکی و غیر ملکی بیوپاریوں نے ان کے قالینوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ذہنی آسودگی کے لئے شعر و نغمہ کا سہارا لیا ۔ سر بکھیرے تو سننے والے معترف
ہوئے۔ شاعری، رنگ اور موسیقی ایک حسین سنگم ہے۔ ان کا تخلیقکار بھی ارفع صفات کا
حامل ہوتا ہے۔ رفیق کاشمیری بھی انہی صفات کا مالک اور خلوص و محبت کا پیکر ہے۔ ان
کی زبان و لباس سے ان کی نفاست پسندی نظر آتی ہے۔
محبوب کی بے رخی کا
گلہ کچھ اس انداز سے اپنی کتاب سمندر کی گھنی چھاؤں میں کرتے ہیں
رابطہ کو بحال کر
لیتے
کچھ تو میرا خیال کر
لیتے
بے زباں تھی تری چاہت
اپنے بازو ہلال کر
لیتے
دوستی کا معیار کیسا ہونا چاہیئے، کتاب سمندر کی گھنی چھاؤں
میں لکھتے ہیں
دوستی کے پیام سے
پہلے
اپنی تلوار تو نیام
کرے
بہت سے مسائل کا تذکرہ شاعرانہ انداز میں اپنی پنجابی کتاب
حرفاں دے ہتھ میں لکھتے ہیں
پانی اکھ دا ہر مسئلے دا حل نہیں ہندا
اہ وی سچ اے یار وچھوڑا
جھل نہیں ہندا
بتی دا وی شعلہ
انج نہیں تڑفی جاندا
پروانے د ا جلنا
اہ تو ٹھل نہیں
ہندا
محبت کرنا فطری عمل
ہے۔ محبت ایک ہی ہوتی ہے۔ عشق میں جدائی ناقابل برداشت ہوتی
ہے۔ اس کا اظہار کچھ اس انداز سے کرتے ہیں
ہور در تے
نہیں جاناں
دو چار یار نہیں بناناں
تیری دید بنا تے
اسی اٹھ کے نہیں
جاناں
ویکھ پیار نال
مینوں
نہیں تے میں
مر جاناں
کسے ہور ول ویکھاں
تینڈی شان گھٹاناں
کول اپنے بٹھالے
ہور کناں تڑپاناں
چاہن والیاں نوں ایناں
چنگا ہندا نہیں
ستاناں
میں رفیق ہاں
تیرا
میں نہیں غیر نال
جاناں
آج کا انسان اس
فرسودہ نظام سے نبرد آزما ہے جو نئی نسل کو آگے بڑہنے سے روکتا ہی نہیں بلکہ ان کے
حقوق بھی سلب کر لیتا ہے۔ اسی فرسودہ نظام کے بارے شاعر نے اپنا درد یوں بیان کیا ہے
پھر یہ کیا سوچ کے
چھینی ہے بیساکھی اس کی
حشر کے روز توپھر بچ کے کہاں جائے گا
وہ جو فٹ پاتھ پہ
سوتا ہے تو زندہ کیوں ہے
اس سے یہ قصر بھی
چھینو گے تو مر جائے گا
اب بھی ہے وقت کہ تو سوچ بدل دے اپنی
ورنہ پھر عدل
خدا دیکھ کے تھرائے
گا
پردیس جانے والوں کے مسائل کی چھب رفیق کاشمیری کے کلام میں
ملتی ہے
اپنے گھر کی کسی
سنگین خواہش کے لئے
کس قدر دور وہ اپنوں
سے چلے جاتے ہیں
رفیق کاشمیری کا شعری سفر کسی بڑے نام سے متاثر یا مرعوب
نظر نہیں آتا۔ ان کی اپنی سوچ ہے
جو ان کی سچی تخلیقی صلاحیت اور امکانات کا پتا دیتی ہے۔
کوچہ جاناں سے ربط و ضبط کی دھن سب پر سوار ہوتی ہے۔ محبت دل کے لطیف تاروں کو
اپنی بے پایاں لمس سے کچھ یوں چھیڑتی ہے کہ انسا ن کہہ اٹھتا ہے
کب دیا تھا مجھے تو
نے محبت کا گلاب
پھر بھی ہر سانس ترے
نام لگا دی میں نے
دوستی کی بھی کوئی
اور قسم ڈھونڈوں گا
اس کی قیمت تو کئی
بار چکا دی میں نے
رفیق کاشمیری کی
شاعری میں ہجر و جدائی وصال کے قصے اور محبوب کے بچھڑنے کے لمحات بھی
ملتے ہیں۔
دم رخصت جو مڑ کے مجھے
دیکھا اس نے
دیکھنا چاہتا ہو گا کہ قیامت کیا ہے
0
بے ساختہ لپٹ
گیا میرے وجود سے
جیسے کہ اس کے بعد
مجھ کو چھوڑ جانا تھا
رفیق کاشمیری کی
شاعری پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے مگر مضمون کی طوالت آڑے آرہی ہے۔ قابل ذکر اشعار
لکھنے سے قاصر ہوں۔ ان کے پورے کلام کو مختصر الفاظ کے احاطہ میں قید کرنے کی سعی کی ہے۔ رفیق کاشمیری کی شاعری میں وہ شگفتگی
ہے جس سے لطف اندوز ہونے کے لئے ایک خاص ذہنی سطح کے قاری کا ہونا ضروری ہے۔
مجھ کو گر ملنا ہے مل
لو آ کے سورج پر
پیار کی دنیا کے سیارے
توڑ دیئے میں نے
مجھے امید ہے کہ
رفیق کاشمیری کے اندر کی بے پایاں لگن اور سچی تخلیقی توانائی انہیں مزید لکھنے پر
اکساتی رہے گی۔ کچھ عرصہ سے رفیق کاشمیری
ناسازی طبیعت کی وجہ سے لکھنے لکھانے سے قاصر ہیں۔ ہماری دلی دعائیں ان کے لئے کہ
وہ جلد نئی تخلیقات لے کر آئیں ۔جو قارئین ان کی شاعری کو پڑھنا چاہتے ہیں ان کی
تشنگی بھی دور ہوتی رہے گی۔
پیڑوں پہ ہم نے سنگ
باری کی مگر پھر بھی







