صحرائی جانور

 

صحرائی جانور

    

صحرا کا نام آتے ہی ذہن میں ہر طرف ریت ہی ریت کا میدان نظر آ جاتا ہے۔ جہاں خشک موسم اور زندگی کے آثار بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں گرم ہواؤں کے جھکڑ چلتے ہیں۔  تمام صحرا گرم نہیں ہوتے۔ انٹارکٹیکا کو بھی صحرا سمجھا جاتا ہے۔  گرم صحرا بھی رات کو ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔  ان صحراؤں میں انسانی زندگی کا رہنا مشکل ہوتا ہے مگر جانوروں نے یہاں رہنا سیکھ لیا ہے۔ صحرا میں اہم جانور کون کون سے ہیں، جو احسن طریقہ سے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔

صحرائی جانور

اونٹ

   اونٹ کو صحرائی جہاز بھی کہا جاتا ہےجو اپنے چوڑے پاؤں کی وجہ سے باسانی ریت پر چل یا دوڑ سکتا ہے۔ اونٹ بغیر پانی پیئے کئی روز تک اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے۔  اونٹ کے کوہان میں 80 پاؤنڈ چربی ہوتی ہے جو اسے پانی نا ملنے کی صورت میں توانائی مہیا کرتی ہے۔ صحرا کے 120 F° درجہ حرارت میں بھی اونٹ بغیر پانی پیئے 100 صحرائی میل تک اپنا سفر جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھاری بوجھ اٹھائے اونٹ روزانہ 25 میل تک سفر کر سکتا ہے۔

     صحرا میں رات کو موسم خوشگوار بھی ہو جاتا ہے۔ موسم سرما میں صحرائی پودوں پر نمی ہوتی ہے جسے کھانے کے بعد اونٹ کو پانی کی زیادہ حاجت محسوس نہیں ہوتی۔ صحرا میں اٹھنے والے ریت کے بگولے بھی اونٹ کو کچھ نہیں کہتے کیونکہ آگے کو بڑھی اس کی ناک ریت کو قابو میں رکھتی ہے ۔ اس کی لمبی پلکیں اور موٹی بھنویں آنکھوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ بڑے ہونٹ پودوں کی شناخت کرنے میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ بڑے بڑے پاؤں ریت پر چلنے میں سہولت مہیا کرتے ہیں۔

  اونٹوں کی کئی اقسام ہیں۔  یہ مختلف اقسام دنیا کے مختلف صحرائی علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ صحارا، افریقہ و آسٹریلیا کے خشک و بنجرعلاقے، مشرق وسطی، پاکستان و بھارت کے صحرائی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔


 
صحرائی جانور

 بچھو

 بچھو بھی صحرا اور خشک و بنجر علاقوں میں رہنے والا جانور ہے۔  بچھو کی تقریباً 2,000 اقسام میں 30 سے 40 اقسام اپنے تیز زہر کی وجہ سے کسی کو مارنے کے قابل 
ہیں۔ بچھو بھی گوشت خور جانور ہے۔ یہ کم درجہ حرارت میں بھی پایا جاتا ہے۔ صحرائی علاقوں، گھاس کے میدان میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔

صحرائی جانور

 یوکا کیڑا

   یوکا کیڑا سفید رنگ کے پروں والا کیڑا ہے جو  اپنے نام کی نسبت یوکا پودے پر رہتا ہے ۔ ان کی عمر بھی کم ہوتی ہے۔ یوکا کیڑا یا کیٹر پلر اکثر کیڑے ،چھوٹے پرندے یا چمگادڑ کھاتا ہے۔  یہ جنوب مغرب ،شمال اورمشرق میں پایا جاتا ہے۔


صحرائی جانور

سائیڈ ونڈر

   سائیڈ ونڈر جسے سینگوں والا سانپ اور ریٹل سانپ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ریت میں ترچھا ہو کر چلتا ہے اور ریت میں ہی چھپ جاتا ہے۔ اکثر ان میں زہریلے بھی ہوتے ہیں۔ چوہے اور چھوٹے کیڑے مکوڑے وغیرہ اس کی خوراک ہیں۔ جنوب مغربی ریاستہائے متحدہ اور شمال مغربی میکسیکو کے صحرا میں پایا جاتا ہے۔


صحرائی جانور

 روڈ رنر

     یہ پرندہ جنوب مغرب میں سب سے زیادہ مقبول ہے جو اپنی لمبی دم کی وجہ سے الگ پہچان رکھتا ہے۔ زمین پر چلتا ہے تو ایسے لگتا ہے جیسے  ٹہل رہا ہو۔ یہ زمین پر دوڑتا بھی ہے اور بوقت ضرورت اڑ بھی لیتا ہے۔ یہ ایک گھنٹہ میں 15 میل تک دوڑ سکتا ہے۔ شکار کی تلاش میں تیز دوڑتا ہے۔ چھوٹے سانپ پرندے، گلہری،چوہےاور رینگنے والے جانوروں کا شکار کرتا ہے۔اور تیز رفتاری سے بھاگتا ہے ، اسی لئے اسے روڈ رنر کہا جاتا ہے۔ یہ صحرائی پودوں کے پتے بھی کھاتا ہے۔

صحرائی جانور

سائگا

     بھیڑ کے قد کے برابر یہ جانور اپنے منہ پر لگی ناک کی وجہ سے پہچان رکھتا ہے۔ ناک کے یہ سوراخ سردی کی ٹھنڈی ہوا میں سانس لینے میں مددگار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ خشک موسم میں اڑنے والی مٹی سے بچاتے ہیں۔ اسی ناک سے بو کو پہچان لیتا ہے۔ سائگا کی کھال کافی موٹی اوراونی ہوتی ہے۔ نر سائگا کے سنہری سینگ 6 سے 10 انچ لمبے ہوتے ہیں۔ انہی سینگ کی وجہ سے ان کا شکار کیا جاتا ہے۔

   سائگا قازقستان کے گھاس کے میدانوں اور صحراؤں کے ساتھ ساتھ ازبکستان، روس اور منگولیا کے کچھ علاقوں میں پایا جاتا ہے۔


صحرائی جانور

ہرن جیکربٹ

    ہرن خرگوش شمالی امریکہ کا خرگوش ہے جس کا نام تیزی سے دوڑنے والے ایلنڈ کے نام پر رکھا گیا ہے جو  دوڑنے اور تیزی سے چھلانگ لگانے کے لیے بھی مشہور ہے۔  یہ خرگوش کی پانچ اقسام میں سے ایک قسم ہے جو شمالی امریکہ کے مختلف مقامات پر پائے جاتے ہیں۔ یہ سب سے بڑے خرگوش ہیں ۔ یہ بھی زیر زمین گھر بنا کر رہتے ہیں۔ ان کے سینے اور گردن پر گہرے بال اور ان کا رنگ سیاہ اور نارنجی ہوتا ہے۔ 3 انچ لمبی دم کے ساتھ تقریبا 22 انچ لمبا ہوتا ہے۔ اس کا وزن 9 پاؤنڈ تک ہوتا ہے۔ اس کے لمبے کان ہوتے ہیں۔ یہ صحرائی پودے وغیرہ کھاتا ہے۔

    سونوران صحرا صحرائی کانٹینینٹل اس کا گھر ہے۔ یہ گھنے جنگل والے علاقوں کو ترجیح دیتا ہے جہاں چھپنے کی بہت سی جگہیں ہیں۔ صحرا کے خشک علاقے، جیسے کریوسوٹ بش فلیٹ، میسکوائٹ گھاس کا میدان، اور جنوبی سونورا میں اور اس سے آگے کیکٹس کے میدان اس کی پناہ گاہیں ہیں۔

صحرائی جانور

    ٹیڈپول کیکڑے
   نوزائیدہ کیکڑے عارضی تالابوں اورجھیلوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے انڈے خشک جھیلوں میں مہینوں بعض دفعہ سالوں پڑے رہتے ہیں۔  جیسے ہی جھیل میں پانی آتا ہے ان کے انڈے انکوبیٹ ہوتے ہیں۔ یہ جب بڑے ہوتے ہیں تو شکاری جانور بھی ان جھیلوں پر آکر ان کا شکار کرتے ہیں۔ مختصر سی زندگی لیکر پیدا ہونے والے جو شکاریوں سے بچ جاتے ہیں ، ان کے انڈوں سے پھر یہ تالاب اور جھیل بھر جاتے ہیں۔  یوں یہ نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہتا ہے۔



صحرائی جانور

کینگرو چوہے

    کینگرو چوہوں کی لمبی دم اور چار انگلیوں کے ساتھ بڑے پچھلے پاؤں ہوتے ہیں۔ ان کے بڑے سر ہیں، بڑی آنکھیں اور چھوٹے کان ہوتے ہیں۔ یہ ریتلی مٹی کے رنگ کے ہوتے ہیں جس کا نیچے سفید رنگ ہوتا ہے۔ کینگرو چوہا صحرا ئی زندگی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔

   کینگرو چوہے پانی نہیں پیتے۔ یہ اپنی خوراک پودوں اور ان کے بیج سے مطلوبہ نمی حاصل کر لیتے ہیں۔  یہ صحرائی گھاس کے ساتھ ساتھ میسکوائٹ پھلیوں کے بیج کھاتے ہیں۔ کچھ کینگرو چوہے سبز پودوں کے ساتھ ساتھ کیڑے بھی کھا لیتے ہیں۔ان کی سماعت بہت تیز ہوتی ہے۔ یہ شکار اور شکاری کی آواز کو پہچان لیتے ہیں۔ ان کی پچھلی لمبی ٹانگیں انہیں شکاریوں سے دور رہنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ ایک ہی چھلانگ میں 9 فٹ تک چھلانگ لگانے کی سکت رکھتا ہے۔

  کینگرو چوہے گھاس کے میدان، ریتلی مٹی  اور صحرائی جھاڑیوں یا درختوں کے پاس بل بنا کر رہتے ہیں۔  جنوب مغربی ریاستہائے متحدہ امریکہ، باجا کیلیفورنیا اور شمالی میکسیکو کے بالائی اور زیریں حصوں میں کینگرو چوہے پائے جاتے ہیں۔


صحرائی جانور

صحرائی بلی

     ریت کی بلی  مبہم پنجوں، تیز کانوں اورغیر معمولی پھرتیلی کی وجہ سے عام بلیوں سے منفرد ہوتی ہے۔ اس کی بظاہر چھوٹی پچھلی ٹانگیں مگرعام طور پر لمبی ہوتی ہیں۔ ان کی کھال زیادہ تر ہلکے ریتیلے رنگ کی ہوتی ہے، عام طور پر سفید پیٹ کے ساتھ۔ ان کے پاؤں گھنے کھردرے ہوتے ہیں۔ 


Read More:ہاتھی گوبر کے فوائد 

Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی