مہذب درندے

 

مہذب درندے 

آج کی دنیا علم و آگہی کی روشنی حاصل کرنے کے بعد مہذب ہونے کا دعوی کرتی ہے لیکن غور کیا 

جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ دعوی صرف دعوی ہی ہے۔

مہذب درندے

''صدیوں سے ہم ان جنگلات میں رہتے آرہے ہیں۔ ہماری زندگی کا دارومدار انہی جنگلات پر تھا مگر ہم ان جنگلات سے بے داخل کر دیے گئے۔ مہذب دنیا میں ہمیں وحشی درندے اور آدم خور سمجھا جاتا ہے۔ انسانی گوشت کھانا ہماری عادت میں شامل نہیں تھا اگر ایسا ہوتا تو پھر آج ہمارے قبیلہ کا کوئی بھی شخص نظر نہ آتا۔ آپ مجھے ہی دیکھ لیں مجھے انسانی گوشت کھائے طویل عرصہ گزر چکا ہے۔آخری دفعہ میں نے گوشت کئی سال قبل اس وقت کھایا تھا جب ہمارے قبیلہ کے لوگ دشمن کے قبیلہ کے ایک آدمی کو مار کر اسے کھا رہے تھے''۔ ابتدائی سطور پڑھتے ہی میں خوف سے لرز اُٹھا اس سے پہلے  کہ  میں مکمل مضمون پڑھتا میں نے لیپ ٹاپ بند کیا اور کچھ دیر بعد پڑھنے کا سوچ کر قالین پر ہی لیٹ گیا.


          مہذب درندے


  ہیرنگا سے میری ملاقات ایک سماجی ویب سائیٹ پر ہوئی تھی۔ ایک سال پرانی یہ دوستی بہت جلد تناور درخت بن گئی۔ میری جب بھی اس سے حالاتِ حاضرہ پر گفتگو ہوتی اس کی باتوں سے ناامیدیوں کا عکس نظر آتا۔ اس نے اپنے مشاغل اور پسند و ناپسند سب کچھ بتا دیا تھا لیکن اپنے گھریلو حالات یا خاندان کے بارے کچھ نہیں بتایا تھا۔ صرف یہ ہی بتایا تھا کہ اس کا تعلق کانگو Congo کے کسی دور افتادہ قبیلہ سے ہے اور وہ چند سال قبل ہی کانگو کے دارلخلافہ میں آکر رہنے لگا ہے۔ یہیں آکر اس نے تعلیم حاصل کی ہے اور آج کل ملازمت کرنے کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کی بھی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ آہستہ آہستہ دوستی کا رشتہ پروان چڑھنے لگا تو میرے بے حد اصرار پر اس نے اپنے بارے میں سب کچھ بتانے کی حامی بھرلی۔ آج صبح اس کی ای میل موصول ہوئی جس میں اس نے اپنے بارے میں سب کچھ بتادیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی کچھ تصاویر بھی تھیں۔ جب میں نے دوبارہ لیپ ٹاپ آن کیا اور بقیہ ای میل پڑھنے لگا۔
مہذب درندے

           یہ باتیں آپ کو حقیقت سے دور نظر آئیں گی لیکن اصل میں حقائق یہی ہیں جنہیں میں آپ کے اصرار پر بتا رہا ہوں۔ میرا تعلق اس اجڈ اور گنوار قبیلہ سے ہے جہاں جدید سہولیات اور تعلیم کی روشنی کی کرن بھی نہیں پہنچی تھی۔ سینکڑوں سالوں سے نسل در نسل چلے آرہے رسم و رواج ہی ہمارا  اوڑھنا بچھونا تھے جن سے ہٹ کر کوئی کام کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ اس ترقی یافتہ دور میں رہ کر بھی انسانی گوشت سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ دوسرے قبیلوں سے لڑائی جھگڑا کرنا معمولی بات تھی۔

         کونگو کے جنگلات میں ہمارا باکا BAKA  قبیلہ تھا۔ ہمارے قبیلہ کی طرز زندگی ترقی یافتہ قوموں سے بہت مختلف تھی۔ ان گھنے جنگلات میں سے گزرنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں تھی، بعض مقامات پر جنگل اتنا گھنا ہے کہ سورج کی کرن بھی زمین تک نہ پہنچتی ہے۔ ہمارے آبائو اجداد ان جنگلات میں صدیوں سے رہتے آئے ہیں اور یہ خطرناک جنگل ہم پر مہربان رہا تھا۔ کیونکہ ہم نے ہمیشہ اس کی عزت اور حفاظت کی۔ ہم اپنی ضرورت کے مطابق شکار کرتے اور درخت کاٹتے تھے ہم نے کبھی بلاوجہ جنگل یا جنگلی حیات کو نقصان نہیں پہنچایا۔

          ہمارے قبیلہ کے لوگ باہر کے لوگوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ باہر کے آدمی کو مقامی زبان میں "لالیو" یعنی بدروح کہا جاتا تھا۔ کیونکہ ہمارے بڑوں کی جو باتیں ہم تک سینہ یہ سینہ پہنچیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ لالیو ہمارے قبیلہ کو فتح کریں گے۔ اس لیے یہ مانا جاتا تھا کہ ایک مرتبہ لالیو آگئے تو پھر ہمارے قبیلہ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ہم باہر کے لوگوں کی آمد پسند نہیں کرتے تھے اور اسے اپنے لئے بد شگونی تصور کرتے تھے۔ اور حقیقت یہی ہے کہ ہمارے بڑوں کی یہ بات سچ ثابت ہوئی اور آج انہی لالیو کی وجہ سے ہمارے قبائل خطرے میں ہیں۔

          کچھ عرصہ قبل مہذب دنیا کے چند لوگ ہمارے پاس آئے جنہیں دیکھ کر ہم بہت حیران ہوئے۔ ان لوگوں کے ساتھ ایک ایسا آدمی بھی تھا جو ہماری بولی سمجھ سکتا تھا۔ ان کی زبانی ہمیں معلوم ہوا کہ ان جنگلات کی حفاظت کے لئے وہاں سے ہمیں نکالا جا رہا ہے، چاہے قبیلہ کے لوگ خوشی سے جائیں یا زبردستی۔ ہم لوگ جو صدیوں سے ان جنگلات مٰیں رہتے آئے ہیں جنگل اور جنگلی حیات کے لیے خطرہ قرار دے دئیے گئے۔ جنگل میں ہمارا داخلہ شجر ممنوع ٹھہرا جس کی حکم عدولی کی صورت میں ہمارے بہت سے قبائیلیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ کچھ جان کی حفاظت اور کچھ اچھی اور مہذب زندگی گزارنے کی لالچ میں بہت سے قبائلی شہر آکر رہنے پر رضامند ہو گئے، جن میں میرا خاندان بھی شامل تھا۔ ہم جب شہر آئے تو ہمیں عجیب و غریب مخلوق کی طرح دیکھا جاتا تھا۔

          ہمیں اس مہذب دنیا میں آئے کچھ سال ہو چکے ہیں۔ تعلیم کی وجہ سے دنیا کے حالات و واقعات پر بھی کڑی نگاہ رکھتا ہوں۔ یہاں آکر معلوم ہوا کہ درندے صرف جنگلات میں ہی نہیں یہاں مہذب دنیا میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ہم تو غیرمہذب تھے تو ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا گیا، لیکن یہ مہذب لوگ اپنے جیسوں کے ساتھ بھی درندوں کا سا ہی سلوک کرتے ہیں۔ امریکہ میں رونما ہونے والے واقعات کے بعد افغانستان پر ہونے والی بمباری سے کتنا نقصان ہوا۔ فلسطین ہو یا کشمیر کے لوگ ان پر ہونے والے مظالم پر اقوام متحدہ کہاں جا سوئی ہے؟ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کسی طاقت رکھنے والے ملک میں ایک آدمی قتل ہو جائے تو اقوام متحدہ اجلاس بلا لیتی ہے لیکن جہاں غریب ممالک میں روزانہ کئی قتل اور کتنے زخمی ہوئے ہیں وہاں اقوام متحدہ آنکھیں اور کان بند کر لیتی ہے۔ یہاں قانون بھی صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے۔ بقول افلاطون، قانون وہ مکڑی کا جالا ہے جس میں صرف کیڑے مکوڑے ہی پھنستے ہیں بڑے جانور اسے پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔

          ہم جب جنگل سے شہر آئے تو ہمیں درندہ، جنگلی اور نہ جانے کیا کیا کہا گیا تھا کہ ہم لوگ خون سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں، کیا اس مہذب معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کاخون نہیں پیتے؟ ہم لوگ انسانوں کو کھاتے تھے تو آج ان لوگوں کے آگے انسانی جان کی کیا وقعت ہے؟ ہم قبیلہ کے لوگ صدیوں کے اجڈ اور گنوار تھے لیکن یہ ترقی یافتہ قوم تو سب کچھ جانتے ہوئے بھی اجڈ اور گنوار سے بھی بدتر ہے۔ ہمیں مجرم ٹھہرا کر خود معصومیت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ اس ترقی یافتہ معاشرے میں تہذیب کا چولا پہن کر انسانیت کا قتل کرنے والوں کو آپ کیا نام دیں گے؟ جھوٹ فریب کاری اور بددیانتی کا پیکر ہم لوگ نہیں تھے لیکن اس تہذیب یافتہ معاشرے نے ہمیں یہ سب سکھا دیا ہے۔ قتل و غارت، عورتوں کی بے حرمتی اور انسانی اعضا کا  کاروبار اس مہذب معاشرے کا طرہ امتیاز ہے۔ اس معاشرے میں وہ سب کچھ ہو رہا ہے جن باتوں پر ہمیں بدنام کیا گیا تھا۔ ان شہری علاقوں میں جو مکروفریب کے جال بنے جاتے ہیں ان سے بے نیاز ہم جنگلات میں اچھا وقت گزار رہے تھے۔ یہ سب تو ایک طرف وہ جنگل جس کی حفاظت کے لئے ہمیں وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا وہی جنگل آج ان مہذب لوگوں کی مہربانی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ مہذب معاشرے کی اس دوغلی پالیسی سے دل کُڑھتا تو ہے لیکن ہم بھی اس معاشرے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ زخم مندمل ہو جائیں گے اور جب ہم بھی اس رنگ میں رنگ جائیں گے تو کوئی بھی ہمیں آدم خور نہ کہہ سکے گا! میرے قبیلہ کے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں ان مہذب درندوں اور جنگلی درندوں میں کیا فرق ہے آپ کیا کہتے ہیں؟  آپ بھی تو اسی مہذب معاشرے کا حصہ ہیں۔ ہیرنگا کے ان آخری الفاظ نے مجھے خود اپنی نظروں سے گرا کر بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔    

          

Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی