ادھوری عورت

 

ادھوری عورت 

 

ادھوری عورت

       ناظرین آج ہمارے سٹوڈیو میں جو مہمان ہے وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ایک وقت تھا جب اس مہمان نے موت کے کنواں پر اپنے فن اور حسن کے جلوؤں کو بیچ بیچ کر بہت پیسہ کمایا۔ اس وقت یہ مہمان اپنے فن کی بلندیوں پر 500 واٹ کے ایل ای ڈی کی طرح روشن تھی۔ اس نے وولٹیج پورے رکھنے کے لئے جسمانی بجلی کا بھی بھرپور استعمال کیا جس سے کئی منچلوں کے دل شارٹ سرکٹ ہو کر جل بھی گئے۔ اس نے کئی بندوں کے ساتھ تعلقات کی تاریں جوڑ کر ہائی سپیڈ موٹر پمپ چلا کر مزے سے حمام میں سب ننگے ہیں، کی مثال کو حقیقت میں ڈھالا۔ کئی لوگوں نے سرد آہوں سے اس کے ٹرانسسٹر جلانے کی کوششش کی مگر کامیابی کسی کو نا ملی کیونکہ  اس کے  ارد گرد اس کے اتنے فین تھے کہ موسم سرما میں بھی ایئرکنڈیشنڈ میں زندگی گزارتی تھی کہ کہیں حسن کا فیوز نہ اڑ جائے۔ اس نے سولر سسٹم کا سہارا لے کر اپنے فن کو تھری فیزسپلائی جاری رکھی ہوئی تھی۔ اور آج بھی اپنے حسن کی سکرین پر کئی لوگوں کی بلیک اینڈ وائیٹ زندگی کی فلموں میں رنگ بکھیرے ہوئے ہے۔

    آج کی ہماری مہمان ہے پروین عرف پینو۔

 میزبان: بہت بہت شکریہ پینو جی کہ آپ نے ہمارے اسٹوڈیو میں قدم رکھا۔

 پینو: بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میرے لئے تعریفی کلمات کہے۔ (تالی بجاتے ہوئے) میرے چاہنے والے یقینآ یہ سب سن کر بہت خوش ہوں گے۔

  میزبان: پینو جی، آج کل آپ کہاں ہوتی ہیں ۔ میں نے کئی موت کے کھوہ دیکھے مگر آپ کہیں بھی نظر نہیں آئیں۔

 پینو: موت کا کھوہ تو آپ اپنے شوق کی خاطر دیکھنے گئے ہوں گے۔ مجھے سرکاری نوکری مل گئی تھی اس لئے میں نے موت کا کھوہ پر کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ گھر پر ہی اپنا شوق پورا کر لیتی ہوں۔

 میزبان: ارے واہ پینو جی، آپ کو سرکاری نوکری ملی، آپ نے بتایا ہی نہیں۔

  پینو: نوکری ملنے پر ڈھنڈورا پٹواتی یا موت کے کھوہ پر اعلان کرواتی۔

 میزبان: میرا مطلب اس سے پہلے آپ سے جب رابطہ ہوا تھا تو آپ نے بتایا ہی نہیں۔ آپ کو بہت بہت مبارک ہو۔ یہ سرکاری نوکری آپ کو آسانی سے مل گئی ہو گی۔

 پینو: (تالی بجاتے ہوئے) آسانی سے کہاں ملی۔ میں نے کئی جگہ نوکری کے لئے انٹرویوز دیئے۔ سارے لوگوں کے سامنے تماشا بنی رہی۔ انٹرویو میں ایسے ایسے سوالات پوچھے گئے کہ میں آنے والی نسل کو بھی کہوں گی کہ سرکاری نوکری نا کرنا۔

 میزبان: پینو جی، آپ سے کون کون سے سوالات پوچھے گئے۔

 پینو: (تالی بجاتے ہوئے) محکمہ تعلئم میں انٹرویو دینے گئی تو پوچھا گیا کہ دنیا کا پہلا خواجہ سرا کون تھا اور اس کی پیدائش کب ہوئی تھی۔ اب مجھے خواجہ سراؤں کی تاریخ کے بارے تو علم نہیں تھا، چپ رہی۔ اسی بات پر مجھے نوکری نہیں دی گئی۔

  محکمہ زراعت میں انٹرویو دینے گئی تو پوچھا گیا (تالی بجاتے ہوئے) خواجہ سرا صرف انسانوں میں ہی پائے جاتے ہیں یا جانوروں اور پودوں میں بھی۔ پھر ایک اور جگہ مجھ سے پوچھا گیا کہ خواجہ سراؤں کا ماضی،حال اور مستقبل کیسا ہوتا ہے۔ ایک اور جگہ مجھ سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے قیام اور ترقی میں خواجہ سراؤں کا کیا کردار رہا ہے۔

 ایک افسر نے مجھ سے سوال کیا کہ خواجہ سرا ہونے کے کیا فوائد اور نقصانات ہیں؟ مثال دے کر بتائیں۔ؐ

(تالی بجاتے ہوئے) آپ خواجہ سرا کا روپ دھار کرکچھ عرصہ گزاریں آپ کو اس سوال کا جواب تفصیل سے مل جائے گا۔

 میرا جواب سن کر افسر غصہ میں آگیا اور مجھے وہاں سے نکال دیا۔

 میزبان: یہ تو بڑی دکھ بھری داستان ہے ۔ اور کون کون سے سوالات پوچھے گئے؟

 پینو: (تالی بجاتے ہوئے) ان سرکاری اداروں میں انٹرویو لینے والے ایسے ایسے برائے نام کے عقلمند ہوتے ہیں کہ ایک بڑی توند والے نے مجھ سے سوال کیا کہ مرد و عورت کی آبادی تو بڑھتی ہے۔ خواجہ سراؤں کی آبادی نہ بڑھنے کے اسباب کیا ہیں؟

 پھر اسی نے ایک اور سوال پوچھا کہ خواجہ سرا کس گھر میں اور کیوں پیدا ہوتا ہے؟

 مجھے اس افسر کی کم علمی پر (تالی بجاتے ہوئے)وقتی غصہ تو آیا مگر خاموش رہی۔

 ایک بینک میں انٹرویو لیتے ہوئے خاتون افسر نے پوچھا کہ

 کیشیئر کی سیٹ کے لئے مرد اور عورت موزوں ہیں یا خواجہ سرا؟

 عورتیں خواجہ سراؤں کی جانی دشمن کیوں ہوتی ہیں؟

 پیدائش کی تکلیف عورت جھیلتی ہے مگر ودھائی لینا خواجہ سرا اپنا حق کیوں سمجھتے ہیں؟

 اور تو اور ایک جگہ مجھے پچاس ٹھمکے لگانے کا کہا گیا اور شرط رکھی کہ جسم حرکت بھی نا کرے۔ پھر مجھے ایک ہاتھ سے تالی بجانے کو کہا گیا۔

 میں نے  ایک ہاتھ کا تھپڑ اس سوال پوچھنے والے کے منہ پر مارا، جس کی زور دار آواز پورے ہال میں سنی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے میرے ساتھ جو سلوک کیا ، وہ بتانے کے قابل نہیں ہے۔

 میزبان: یہ تو آپ کے ساتھ واقعی زیادتی ہوئی ۔ پھر یہ نوکری کیسے ملی؟

 پینو: انٹرویو دے دے کر میں کافی سمجھدار ہو گئی تھی۔ ایک جگہ میں نے سابقہ پوچھے گئے تمام سوالات بھی اپنی درخواست کے ساتھ لکھ دیئے کہ ان کے علاوہ اور سوالات ہوں تو پوچھ کر میرے انٹرویو کی کامیاب نا ہونے والی سنچری مکمل کروادیں۔

 انٹرویو لینے والا اچھا افسر تھا، اس نے میرے سوالات غور سے پڑھے اور ہلکی سی مخصوص تالی بجائی، جسے سن کر میں بہت حیران ہوئی۔ یوں وہاں مجھے نوکری مل گئی۔ (تالی بجاتے ہوئے)

 میزبان: اس کا مطلب جو آپ کا انٹرویو لے رہا تھا وہ بھی کھسرا تھا۔

 پینو (غصہ سے)(تالی بجاتے ہوئے) کس اونتر جانے نے خواجہ سرا کے معزز نام کو کھسرا کہا۔ کس ٹٹ پینے نے ہیجڑا نام ایجاد کیا؟ اچھا بھلا ہمارا نام خواجہ سرا ہے۔ ہماری خواجہ سرا برادری نے سوچا ہے کہ ان نامعقولوں کی شان میں اتنی گستاخیاں کی جائیں کہ ان کی روحیں تڑپ تڑپ کر کھسرا اور ہیجڑہ بن جائیں جنہوں نے یہ نام رکھیں ہیں۔

 (تالی بجاتے ہوئے غصہ سے)خبردار جو آئندہ ہمیں کھسرا کہا۔

 اچھا خاصا میرا انٹرویو چل رہا تھا، بیچ میں آپ نے ہمیں کھسرا کہہ کر ہمارے غصہ کو 100 کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار سے آواز دی ہے۔ میں جا رہی ہوں۔ مجھے نہیں دینا انٹرویو۔ ( یہ کہہ کر پینو کرسی سے اٹھ کر باہر کی طرف جاتی ہے)

 میزبان: پینو جی ، سنیئے تو سہی، انٹرویو ادھورا چھوڑ کر نہیں جاتے۔ ( ہنستے ہوئے)

 جی ناظرین، ایک چھوٹی سی بات پر ادھورا انٹرویو چھوڑ کر جانا اچھی بات نہیں ہوتی۔ پھر بھی اس ادھوری عورت کو ہم منا ہی لیں گے کہ ان ادھورے لوگوں کی ناراضگیاں بھی ادھوری ہی ہوتی ہیں۔

 

Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی