چوڑیاں چڑھا لو کڑیو
دیہاتوں میں ختم ہوتی ایک خوبصورت
روایت کی کہانی
چوڑیاں چڑھا لو کڑیو
“چوڑیاں چڑھا لو کڑیو… چوڑیاں لے لو چوڑیاں… ونگاں نی کڑیو…”
یہ آوازیں کبھی ہمارے گلی کوچوں کی پہچان ہوا کرتی تھیں۔ ایک مخصوص لے، ایک اپنائیت بھرا انداز، اور ایک ایسا جذبہ جو صرف خرید و فروخت تک محدود نہ تھا بلکہ ایک روایت، ایک ثقافت اور ایک احساس کا حصہ تھا۔
گاؤں کی خاموش دوپہروں میں جب یہ آواز گونجتی تو گھروں کے دروازے خود بخود کھل جایا کرتے تھے۔ بچیاں خوشی سے دوڑتی ہوئی آتیں، نوجوان لڑکیاں شوق سے چوڑیاں دیکھتیں اور بزرگ خواتین ماضی کی یادوں میں کھو جاتیں۔
یہ صرف چوڑیاں نہیں ہوتیں تھیں، یہ رنگوں میں لپٹی خوشیاں ہوتیں تھیں۔
چوڑیاں فروخت کرنے والی خواتین
چوڑیاں فروخت کرنے والی خواتین اپنے سروں پر رنگ برنگی چوڑیوں سے بھری ٹوکریاں رکھے گلیوں اور بازاروں میں گھوما کرتی تھیں۔ ان کے قدموں میں تھکن ضرور ہوتی تھی مگر ان کے چہروں پر ایک عزم اور آنکھوں میں زندگی کی چمک ہوتی تھی۔
یہ خواتین عموماً دو یا تین کے گروپ کی صورت میں مختلف دیہاتوں اور شہروں کے نواحی علاقوں میں جا کر چوڑیاں فروخت کرتی تھیں۔ ان کے پاس ہر سائز، ہر ڈیزائن اور ہر قیمت کی چوڑیاں موجود ہوتیں ۔سادہ بھی، شوخ بھی، مہنگی بھی اور سستی بھی۔
مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ منظر دھندلانے لگا ہے۔
اب وہ آوازیں کم سنائی دیتی ہیں۔ گلیاں خاموش ہیں اور دروازے بھی جیسے ان آوازوں کے منتظر رہتے رہ گئے ہیں۔
آخر ایسا کیوں ہوا؟
چوڑی فروش عورتیں
اسی سوال کا جواب جاننے کے لیے ہم پہنچے ساہیوال کے نواحی گاؤں 132 نو ایل، جہاں ہماری ملاقات ہوئی چوڑیاں فروخت کرنے والی محنتی خاتون سلمیٰ بی بی سے۔
سلمیٰ بی بی کے چہرے پر وقت کی لکیریں ضرور تھیں، مگر ان کی آنکھوں میں اب بھی وہی محنت کی روشنی تھی۔
وہ بتاتی ہیں:
“میں پچھلے 25 سال سے ساہیوال کے مختلف دیہاتوں میں جا کر چوڑیاں فروخت کر رہی ہوں۔ پہلے یہ کام بہت اچھا چلتا تھا، گاؤں کی خواتین بڑی خوشی سے چوڑیاں خریدتی تھیں۔”
وہ ایک لمحے کو رکتیں ہیں، جیسے ماضی کو چھو رہی ہوں۔
“پہلے میں ایک گاؤں میں 50 سے 60 درجن چوڑیاں فروخت کر لیتی تھی۔ اس سے روزانہ سات سو سے ایک ہزار روپے تک منافع ہو جاتا تھا۔ مگر اب…”
ان کی آواز میں ہلکی سی اداسی در آتی ہے۔
“اب بمشکل اڑھائی سو سے تین سو روپے کما پاتی ہوں ۔”
سلمیٰ بی بی کا خاوند شہر میں ایک چھوٹی سی دکان پر چوڑیاں فروخت کرتے ہیں، مگر وہ خود آج بھی گاؤں گاؤں جا کر یہ کام کرتی ہیں۔
“اب تقریباً ہر گاؤں میں چوڑیوں کی دکان بن گئی ہے، یا گھروں میں ہی خواتین یہ کام کرنے لگ گئی ہیں۔ اس وجہ سے ہمارا کام کم ہو گیا ہے۔”
ان کے چھ بچے ہیں—تین بیٹے اور تین بیٹیاں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اب ان کے بچوں میں سے کوئی بھی اس پیشے کو اپنانا نہیں چاہتا۔
“اس میں اب وہ کمائی نہیں رہی کہ نئی نسل اسے اختیار کرے۔”
یہ صرف ایک عورت کی کہانی نہیں، بلکہ ایک پورے پیشے کے زوال کی داستان ہے۔
چوڑی فروش عورتوں کی زندگی اور مسائل
اسی طرح فتح شیر کالونی کی رہائشی نسیم بی بی بھی گزشتہ 25 سال سے چوڑیاں فروخت کر رہی ہیں۔
وہ بتاتی ہیں:
“پہلے ہمارے خاندان کی تقریباً 10 خواتین یہ کام کرتی تھیں۔ ہم سب مختلف دیہاتوں میں جاتی تھیں اور اچھی کمائی ہو جاتی تھی۔”
مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔
“اب اتنی آمدنی بھی نہیں ہوتی کہ سکون سے گزارا ہو سکے۔ صرف اتنا کما پاتے ہیں کہ روزمرہ کے اخراجات بڑی مشکل سے پورے ہوتے ہیں۔”
نسیم بی بی کے شوہر 10 سال پہلے وفات پا چکے ہیں۔ تین بیٹیوں کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔
“میں اب دور دراز دیہاتوں میں نہیں جا سکتی۔ صرف قریبی محلوں میں جا کر چوڑیاں فروخت کرتی ہوں۔”
ان کی باتوں میں تھکن بھی ہے اور ہمت بھی۔
اوکاڑہ کی ارشاد بی بی
نصف صدی پر محیط محنت
اوکاڑہ شہر کی 70 سالہ ارشاد بی بی کی کہانی تو اس پیشے کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔
وہ گزشتہ 50 سال سے چوڑیاں فروخت کر رہی ہیں۔
“ہماری برادری کی تمام خواتین یہی کام کرتی ہیں۔ اوکاڑہ میں اب بھی تقریباً 30 خواتین اس پیشے سے وابستہ ہیں۔”
بیماری، عمر اور ذمہ داریاں
مگر عمر اور بیماری نے اب ان کے قدم سست کر دیے ہیں۔
“چھ سال سے میں بیمار ہوں۔ ٹانگوں میں درد رہتا ہے، زیادہ چل نہیں سکتی۔”
ان کے شوہر بیمار اور ضعیف ہیں، کوئی کام نہیں کر سکتے۔ گھر کا بوجھ اب بھی انہی کے کندھوں پر ہے۔
“اگر میں کام نہ کروں تو گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔”
عید اور شادیوں میں وقتی خوشحالی
وہ کہتی ہیں کہ شادیوں اور عید کے دنوں میں کچھ بہتری آتی ہے۔
“ان دنوں میں آمدنی میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے، مگر باقی دنوں میں گزارا مشکل ہوتا ہے۔”
ارشاد بی بی کی باتوں میں ایک سچائی ہے، ایک درد ہے، اور ایک سوال بھی—
کیا یہ خوبصورت روایت واقعی ختم ہو رہی ہے؟
چوڑیاں بیچنے کا پیشہ کیوں ختم ہو رہا ہے؟
وقت نے جہاں بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں کچھ روایات کو خاموشی سے ہم سے چھین بھی لیا ہے۔
دکانوں اور جدید مارکیٹ کا اثر
آج ہر گاؤں، ہر شہر میں چوڑیوں کی دکانیں موجود ہیں۔ جدید ڈیزائن، چمکتی روشنیوں والے شاپنگ سینٹرز اور آسان رسائی نے لوگوں کی ترجیحات بدل دی ہیں۔
اب لوگ گھر بیٹھے بھی چیزیں خرید سکتے ہیں، مگر اس سہولت نے اس اپنائیت کو کہیں کھو دیا ہے جو ان خواتین کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔
معاشرتی تبدیلی اور ثقافتی زوال
چوڑیاں بیچنے والی یہ خواتین صرف تاجر نہیں تھیں، بلکہ ایک چلتی پھرتی ثقافت تھیں۔ وہ گھروں میں خوشیاں لے کر آتی تھیں، باتیں کرتیں، ہنستیں، اور ایک تعلق بنا کر چلی جاتیں۔
آج وہ تعلق کمزور پڑ گیا ہے۔
یہ آرٹیکل صرف ایک پیشے کی کہانی نہیں، بلکہ ایک معاشرتی تبدیلی کی عکاسی بھی ہے۔
روایات سے دوری کا نقصان
یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم ترقی کی دوڑ میں کیا کچھ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔
کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں، یا صرف اپنی جڑوں سے دور ہو رہے ہیں؟
ان خواتین کی اہمیت
ان خواتین کی زندگی ہمیں صبر، محنت اور حوصلے کا درس دیتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، انسان اگر ہمت نہ ہارے تو زندگی کا سفر جاری رہتا ہے۔
کیا یہ روایت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی؟
مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ہم نے اپنی روایات کو نہ سنبھالا تو وہ صرف کہانیوں میں رہ جائیں گی۔
آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ:
“چوڑیاں چڑھا لو کڑیو” صرف ایک آواز نہیں، بلکہ ایک دور کی یاد ہے…
ایک ایسا دور جو آہستہ آہستہ ہم سے رخصت ہو رہا ہے۔
Tags:
HistoricalEvents


