آزادی
آزادی کی اہمیت کا احساس دلاتی تحریر
جانوروں اور پرندوں سےمجھے بچپن سے پیار
ہے۔ خوبصورت مختلف رنگ اور نسل کی بلیاں، کتے اور مٹیالے سے رنگ کے بندر ۔۔۔ گھر
میں چھوٹے بڑے کتنے پنجرے ہیں جن میں رنگ برنگے طوطے، شور مچاتی چڑیاں، مختلف نسل
کے کبوتر، مرغیاں، مور اور بہت سے مختلف پرندے،جو اپنی مثال آپ ہیں۔ میں ان سب
جانوروں کو قدرتی ماحول دینے کے لیے پنجروں کے اندر مختلف پودوں کی ٹہنیاں اور
گملوں میں لگے پودے رکھتا ہوں۔ بعض پنجروں میں تو چھوٹے بڑے پتھر بھی رکھے ہیں جن
میں یہ پرندے چھپ کر بیٹھتے ہیں تو بہت اچھے لگتے ہیں۔ یہ سب پرندے میری تنہائیوں
کے ساتھی ہیں۔ میں گھنٹوں انہیں دیکھتا رہتا ہوں۔ ان
کی معصوم حرکتیں مجھے بہت اچھی لگتی ہیں۔ طوطوں کا چھڑ چھاڑ کرنا، جھولا جھولنا
اور لکڑی اور مٹی کے گھر میں سر باہر نکالنا کتنا اچھا لگتا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ کچھ ماہ پہلے طوطوں کے پنجرے میں خوراک ڈالتے ہوئے ایک طوطا اڑ گیا تھا لوبرڈ نامی نسل کا یہ قیمتی اور خوبصورت جوڑا کراچی کی صدر مارکیٹ سے خریدا تھا۔ یہ طوطا یوں اڑ جائے گا میں نے سوچا بھی نہ تھا۔ طوطے کے اُڑ جانے سے میں کئی دن تک اداس رہا۔ اُڑنے والے طوطے کے دوسرے ساتھی کی تنہائی مجھ سے دیکھی نہیں جاتی تھی۔ اس کا بار بار پنجرے کے اندر کبھی اوپر کبھی نیچے آنا اور زور زور سے بولنا مجھے
پریشان کر دیتا تھا لیکن دل کے ہاتھوں مجبور تھا اس کو چھوڑ بھی نہیں سکتا تھا۔
شوق سے پالے یہ پرندے میرے شوق کو وسعت
دینے کے بھی کام آتے ہیں کتنے ہی پرندوں کے جوڑے ہیں جو اپنی نسل کو بڑھا رہے ہیں
ان کے بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو میں انہیں فروخت کر کے مزید دیگر نسل کے پرندے خرید لیتا ہوں اور ان
پیسوں سے ان کے لیے خوراک وغیرہ بھی خرید لیتا ہوں۔ ہمارا پورا گھر ان پرندوں کی
مختلف بولیوں سے گونجتا رہتا ہے۔ گھرمیں چھوٹے بڑے پنجرے لٹکتے یا اسٹینڈ پر رکھے
نظر آئیں گے، باللکنی میں جہاں جھومر بیل اوپر تک جا رہی ہے وہاں ساتھ ساتھ طوطوں
اور چڑیوں کے پنجرے رکھے ہیں، ایک طرف مور بھی آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ باہر ٹیرس پر
بعض دفعہ مور پنکھ پھیلاتا ہے تو باہر ہر آنے جانے والے کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔
شروع شروع میں گھر والے میرے شوق کو اچھی
نظر سے نہیں دیکھتے تھے ان معصوم اور خوبصؤرت پرندوں کا یوں قیدی بننا انہیں اچھا
نیں لگتا تھا۔ دوسرا گھر مین پرندوں کے شورسے سب ہی نالاں تھے اور جب گھر میں بندر
کا بچہ لایا تھا تو گھر والوں نے کھل کر مخالفت کی۔
دیکھو حیدر، جب تم نے ان معصوم پرندوں کو قید کر
کے یہاں رکھا تو ہمیں بہت دکھ ہوا میں پھر بھی خاموش رہا۔ اب تم یہ بندر کا بچہ لے
آئے ہو یہ بچہ بڑا ہو گا تو تم اسے باندھ کر رکھو گے۔ یہ جانور کافی شرارتی ہے پھر
اس کا گند کون صاف کرے گا۔ اس گھر کو گھر ہی رہنے دو چڑیا گھر نہ بنائو۔ اباجان نے
آخری فقرہ غصہ سے کہا
"غضب خدا کا پہلے ہی محلے
میں پرندوں کی وجہ سے مشہور ہوئے ہیں۔ اب یہ بندر کا بچہ بھی اٹھا لائے
ہو تو اب لوگ تمہارے نام کے آگے بندر والا کہیں گے۔ آج بندر اٹھا لائے ہو کل کتا اور
گدھا اٹھا لائو گے۔ میں پوچھتی ہوں تمہیں یہ کیا الٹے الٹے شوق پڑےہیں میری مانو
تو اس بندر کے ساتھ بکری بھی خرید لو اور ڈگڈگی بھی خرید کر باہر گلی میں بچوں کو
جا کر تماشا دکھایا کرنا۔ ان معصوم جانوروں کو قیدی بناتے ہوئے تمہیں ترس نہیں آتا۔ کیوں ان کی بددعائیں لیتے ہو۔
خود تو سارا دن گھر میں بیٹھ نہیں سکتے اور انہیں قیدی بنا رکھا ہے ان سب کو آزاد
کردو۔" امی جان نے کچن کے دروازے میں کھڑے ہو کر کہا۔
سب گھر والوں کی ناراضگی مول لے کر میں نے بندر کو گھر میں رکھ لیا اور اس کی تربیت شروع کردی۔ آج مجھے ضروری کام سے گائوں جانا تھا۔ اکیلے جانے کو جی نہیں چا رہا تھا۔ موٹر سائیکل گھر سے باہر نکالی ہی تھی کہ اپنا دوست سہیل آتا دکھائی دیا۔ اسے ساتھ چلنے کو کہا لیکن اس نے ساتھ جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ "نہ بھئی ڈبل سواری پر پاندی ہے اس لئے ایک ہی موٹرسائیکل پر ہم دونوں نہیں جا سکتے۔ ارے بھئی ہم دوسرے راستے سے جائیں گے جہاں پولیس وغیرہ نہیں ہوتی، میں اس راستے سے کئی بار گیا ہوں لیکن کبھی پولیس والوں کو اس راستے مین نہیں دیکھا۔میں نے جواب دیا اور بڑی مشکل سے سہیل کو ایک ہی موٹر سائیکل پر ساتھ لے جانے پر راضی کیا۔ غرض ہم دونوں موٹرسائیکل پر بیٹھ کر گائوں جانے والے راستے پر ہولیے۔ اس دن شائد ہماری بدقسمتی تھی کہ ایک گشت پر موٹرسائکل سوار پولیس والے نے ہمیں پکڑ لیا۔ ہم نے بہت منت سماجت کی رشوت جیسی لعنت آخری ہتھیار سمجھتے ہوئے آزمانے کی کوشش بھی رائیگاں گئی اور ہمیں پولیس اسٹیشن لا کر اسی وقت ڈبل سواری کے جرم میں ایف آئی آر درج کر کے ہمیں حوالات بھیج دیا۔ ایک پولیس والے کو سرخ نوٹ دکھا کر گھر فون کروایا۔
کچھ دیر میں اباجان، بھائی جان اور سہیل کے والد تھانہ آگئے۔ ہماری رہائی کے مطالبہ پر پولیس والوں کا ایک ہی جواب تھا کہ ان کے خلاف فوری پرچہ درج ہو چکا ہے۔ جس انسپکٹر نے انہیں پکڑا ہے وہ گشت پر چلا گیا ہے اس لئے اب ان کی ضمانت کل کچہری میں فلاں افسر کے آفس میں ہوگی۔ ادھر اُدھر سے کروائے گئے سفارشی فون بھی کسی کام نہ آسکے۔ حوالات میں ہم دونوں کے علاوہ اور بہت سے لوگ ڈبل سواری کے جرم میں بند تھے۔ سردیوں کی وہ ٹھٹھرتی رات حوالات میں بہت مشکل گزری، ہر طرف پھیلی بو نے ناک میں دم کئے رکھا۔ تھانے میں ہر آنے جانے والا ہمیں عجیب نظروں سےدیکھتا۔ ان باہر گھومنے والوں کو دیکھ کر قیدی کا مطلب سمجھ میں آیا۔ کرب کی کس اذیت سے ہم دوچار تھے یہ ہم دونوں ہی جانتے تھے دوسروں کا حال بھی ہم دونوں سے مختلف نہیں ہوگا۔ حوالات کا یہ کمرہ ہمارے لیے کسی پنجرے سے کم نہیں تھا۔ بہرحال اس قید سے رہائی اگلے روز ملی تو سب سے پہلے گھر آکر ان پرندوں کو آزاد کیا جو کھلی فضا کے باسی ہیں۔ انہیں قید میں رکھنا کتنا بڑا ظلم ہے اس کا احساس مجھے اسی شب ہو گیا تھا۔ ان پرندوں کی حرکات و سکنات کے ساتھ ساتھ میں اس کے احساسات کو بھی بخوبی جان گیا تھا کہ آزادی تو ایک نعمت
ہے۔
حیدر سید