ریڈیو کا عالمی دن

ریڈیو کا عالمی دن


ریڈیو کا عالمی دن

 

 ریڈیو صوتی اثرات کی حامل وہ ایجاد ہے جو ابتداء سے اب تک اپنی مقبولیت میں کمی نہیں لا   سکی۔ریڈیو  کی تخلیق جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق  کا حسیں امتزاج ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ ریڈیو اپنی اشکال تبدیل کرتا رہا ہے۔آج کے ڈیجیٹل دور میں  ریڈیو  کھیت کھلیانوں ، ریگستانوں، بیابانوں، پہاڑوں اور پوش علاقوں میں ہر جگہ سنا جاتا ہے۔   اس کی آفاقی لہریں معلومات اور تفریح  کا  باعث بنتی ہیں۔ریڈیو ترقی یافتہ اور  سستا ترین  ذرائع  ابلاغ  ہےجو دنیا بھر میں خبریں، تعلیم اور تفریحی موادبذریعہ  آواز  دور دراز علاقوں تک پہنچانے کا   تیز ترین ذرائع  ہے ۔ریڈیو اس وقت  انسانی زندگی کا   اہم حصہ بن چکا ہے۔ریڈیو کی اہمیت کو   مدنظر رکھتے ہوئے  یونیسکو  کا ایک اجلاس  جو 25  اکتوبر  2011 کو ہوا، میں ریڈیو  کا عالمی دن منانے کی قرار داد پیش کی گئی۔ یہ قرار داد 10  نومبر 2011  کو پیرس میں منظور ہوئی کہ  ہر سال  13  فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منایاجائے گا۔ 13 فروری 2012 کو پہلی بار ریڈیو کا عالمی دن منایا گیا۔اس دن کو منانے کا مقصد  عالمی سطح پر ریڈیو کی اہمیت کے بارے عوام میں شعور و آگہی  مہیا کرنا تھا۔

  اس بار ریڈیو کا   دن منانے کے لئے ساہیوال میں بھی ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ ساہیوال میں  آواز ریڈیو لسنرز کلب  کے روح رواں حیدر سید     جو بطور  سامع  (ایس۔ایس۔اے حیدر) 1976ء سے ریڈیو  سن رہے ہیں، نے یہ دن منانے کا ایک سال قبل ہی اعلان کر دیا تھا۔ 13 فروری سے دو ماہ قبل ہی اس تقریب کی سوشل میڈیا پر تشہیر ہونے لگی۔ پی سی آر ایم ( پاکستان کرسچیئن ریکارڈنگ منسٹری) فیصل آباد سے بھی مشاورت ہوئی۔ انہوں نے بھی مل کریہ تقریب  منانے کی خواہش کی۔ یوں یہ تقریب اکٹھے منانے کی تیاری ہونے لگی۔  اسی دوران ساہیوال کے ایف ایم ریڈیو کی آر جے نجمہ نے رابطہ کر کے کہا کہ کیوں نہ یہ تقریب  

 ساہیوال کے تینوں ایف ایم ریڈیو کے آر جے   مل کر اس تقریب کو منائیں۔ سبھی آر جے کو اکٹھا کیا گیا۔ میٹنگ میں ساری باتیں طے ہوئیں ۔ یوں اس  تقریب  میں 

ریڈیو کا عالمی دن
 آر جے  بھی شامل ہو گئے۔   

   ساہیوال آرٹس کونسل کے ہال میں تقریب  کی منظوری کے لئے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید ریاض ہمدانی  کو درخواست دی گئی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ تقریب کو خوبصورت بنانے کے لئے   ساتھ ریڈیو  سیٹ کی نمائش بھی کریں تا کہ نئی نسل کو ان کے بارے بھی آگاہی مل سکے۔ ان کی تجویز  سبھی کو پسند آئی۔

ریڈیو کا عالمی دن


 نمائش میں رکھنے کے لئے ریڈیو سیٹ کہاں سے لئے جائیں؟

یہ سوال اپنی  جگہ  مسلمہ تھا۔ ریڈیو سامعین  دوستوں  سے روابط ہوئے  اور ان سے  ریڈیو سیٹ  مستعار لئے گئے۔  اکرم سیال (ننکانہ صاحب) ظفراللہ ضیاء (کمالیہ) اعجاز کریم (شیخوپورہ) ابن بہاول، رانا جی (بہاولنگر) عامر جمیل (ساہیوال)سے ریڈیو اکٹھے کئے گئے۔دور دراز شہروں سے آنے والے کچھ دوستوں نے وعدہ کیا کہ وہ تقریب میں آتے ہوئے ریڈیو سیٹ بھی لیتے آئیں گے۔ یوں ان کی طرف سے بھی وعدہ وفا ہوا۔

ریڈیو کا عالمی دن


    تقریب کی تیاریاں بھی جاری تھیں۔ سوشل میڈیا پر تشہیر بھی جاری تھی۔ بہت سے گمنام ریڈیو  سامعین اور صداکاروں نے رابطہ کر کے تقریب میں شمولیت کا اظہار کیا۔  انہی دنوں ساہیوال آرٹس کونسل میں 7، 8 فروری کو  دو روزہ   پروگرام تھا جس میں ایک پنجابی ڈرامہ بھی تھا، جس کے دو مرکزی کردار آر جے اقبال حیدر اور آر جے نجمہ ادا کر رہے تھے۔ ان کی تمام تر توجہ ڈرامہ کی طرف تھی۔  اس  ڈرامہ کےبعد ان کی توجہ تقریب کی طرف ہوئی۔  آر جے ذیشان کو 13 اور 14 فروری کو  محکمانہ طور پر تربیت کے لئے دوسرے شہر جانا تھا۔  آر جے ندیم جاوید بنک ملازم، 13 فروری کو بنک میں ہیڈ آفس سے ٹیم آرہی تھی، تقریب میں شمولیت سے معذرت کر لی۔ آر جے عرفان چوہدری بھی تقریب کا حصہ نہیں بن سکتے تھے کہ جس ادارہ میں ملازم تھے، اس ادارہ کی آڈٹ ٹیم آرہی تھی۔ اس لئے ان کی  چھٹی کینسل ہوئی۔

ریڈیو کا عالمی دن


   13 فروری کا دن آپہنچا۔ صبح 9 بجے ہی ساہیوال آرٹس کونسل پہنچ گئے تاکہ انتظامات مکمل کر سکیں۔ ہال میں لگانے کے لئے فلیکس رات ہی پہنچا دی گئی تھیں۔جسے آرٹس کونسل کے عملہ نے لگا دیا تھا۔   آرٹس کونسل کی آرٹ گیلری میں ریڈیو سیٹ  سجا دیئے گئے جو سب کی مرکز نگاہ  بنے۔

ریڈیو کا عالمی دن


  مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی تھی۔ پی سی آر ایم  فیصل آباد کے ڈائریکٹر آکاش  عمانویل، انچارج تعلقات عامہ امجد رشید  و  دو اور دوست بھی آگئے۔کیونکہ یہ بھی اس تقریب کے میزبان تھے۔  پنجاب و  سندھ سے آئے ریڈیو سامعین کو دیکھ کر  مسرت ہوئی۔ کچھ دوست حسب وعدہ ریڈیو سیٹ بھی لائے تھے جو نمائش میں رکھ دیئے گئے۔

ریڈیو کا عالمی دن


   تقریب کا آغاز صبح دس بجے ہونا تھا مگر کچھ دوستوں کی سفری مجبوری کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک گھنٹہ دیر سے کرنا پڑا۔

ریڈیو کا عالمی دن


   تقریب کا آغاز کلام پاک کی تلاوت اور نعت سے ہوا۔ آر جے عتیق الرحمان نے تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول آر جے حنا چوہدی اور آر جے محمد سرفراز کے حصے میں آئی۔ اس کے بعد پی سی آر ایم  کے ڈائریکٹر آکاش   عمانویل  نے دعا کرائی۔ پھر باقاعدہ تقریب کا آغاز ہوا۔  ریڈیو صداکاروں اور سامعین کی ملی جلی تقریب میں سبھی اہمیت کے حامل تھے۔

ریڈیو کا عالمی دن


   "ریڈیو اور ماحولیاتی تبدیلیاں" اس سال کا موضوع تھا۔ مقررین نے ریڈیو سے جڑی کچھ یادیں  اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے  تقاریر مختصر اور جامع تھیں کہ سبھی حاضرین بڑے انہماک سے سن رہے تھے۔ آر جے اقبال حیدر کا  پنجابی  لب و لہجہ سبھی  کو متاثر کر گیا۔تقریب کا ہال بھی مہمانوں سے بھر چکا تھا۔

ریڈیو کا عالمی دن


    گیلری میں لگی ریڈیو سیٹ کی نمائش بھی لگائی تھی۔ نوجوان نسل کے لئے ریڈیو سیٹ  نئی بات تھی۔  کچھ لڑکوں نے  براہ راست   ریڈیو سیٹ سوشل میڈیا پر دکھائے تو دیکھنے والے  نمائش دیکھنے آگئے۔مختلف اقسام کے ریڈیو ان کے لئے دلچسپی کا باعث  بن گئے تھے۔

ریڈیو کا عالمی دن


 تقریب میں شمولیت پر  حاضرین میں  اسناد اور  تحائف تقسیم کئے گئے۔

ریڈیو کا عالمی دن


   اختتامی کلمات کے بعد خوبصورت  تقریب  یادگار تقریب بن گئی۔

ریڈیو کا عالمی دن


    دوسرے شہروں سے آئے احباب کے چہرے شادماں تھے۔ جبکہ میزبانوں کے چہروں پر جانے والوں کی جدائی کا رنگ نمایاں تھا۔ ریڈیو کے عالمی دن کے موقع پر ساہیوال میں منعقد ہونے والی یہ تقریب خوشیوں اور جدائی کے دکھ کے امتزاج کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔    

ریڈیو کا عالمی دن

ریڈیو کا عالمی دن


ریڈیو کا عالمی دن

ریڈیو کا عالمی دن


ریڈیو کا عالمی دن

ریڈیو کا عالمی دن

ریڈیو کا عالمی دن

ریڈیو کا عالمی دن

ریڈیو کا عالمی دن

ریڈیو کا عالمی دن

ریڈیو کا عالمی دن




ریڈیو کا عالمی دن

ریڈیو کا عالمی دن

ریڈیو کا عالمی دن

ریڈیو کا عالمی دن



ریڈیو کا عالمی دن

Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی