روحانیت میں علم باطنی کی منازل
علم باطنی وہ علم
ہے جو اللہ تعالی کی طرف سے براہ راست
فقیر کو عطا ہوتا ہے۔ یہ علم اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوتا۔ جسے یہ علم حاصل ہوجائے اسےکسی اور چیز کی طلب
نہیں ہوتی۔ اور نا ہی وہ اس کے بارے
کسی کو بتاتاہے۔ روحانیت میں علم باطنی کی منازل 19 ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
1۔رجال اللہ
پہلی منزل پر وہ
لوگ ہوتے ہیں جنہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس علم کی راہ پر ہیں۔ ان کی تعداد چالیس ہزار ہے۔ ان کو رجال
اللہ ، اہل اللہ اور اہل ارشاد
کہا جاتا ہے۔یہ ہر وقت اپنی ڈیوٹی پر رہتے ہیں۔ چھٹی کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ خدانخواستہ اگر کوئی غیر حاضر ہو تو اس کی جگہ
دوسرا آدمی بٹھا دیا جاتا ہے۔ یوں ان کی تعداد چالیس ہزار پوری رہتی ہے۔
2۔اہل عمران
دوسری منزل پر
موجود لوگ اہل عمران یا اہل حق
کہلاتے ہیں۔ ایک وقت میں ان کی تعداد 272 ہوتی ہے۔ ان میں سے کچھ حالت
سکر اور کچھ حالت صحو میں ہوتے ہیں۔ حالت سکر وہ حالت جس میں انسان اپنے
ہوش و حواس سے بے نیاز ہو جائے اور ذہن پر اس کا کنٹرول ختم ہو جائے۔ جبکہ حالت
صحو میں ذہن پر پورا کنٹرول رہتا ہے۔
3۔اوتار
تیسری منزل پر فائز
لوگوں کو اوتار کہتے ہیں۔اوتار کی تعداد ایک وقت میں 333 ہوتی ہے۔ اور یہ
زمین کے گرد قائم برجوں پر پہرے دار ہوتے ہیں۔
4۔صالحین
چوتھی منزل پر فائز لوگوں کو صالحین، خاشعین یا خالصین
کہا جاتا ہے۔ ان کی کل تعداد ایک وقت میں 673 ہوتی ہے۔ان میں سے کچھ حالت سکر اور کچھ حالت صحو میں ہوتے ہیں۔
5۔
اوتاد
پانچویں منزل پر
فائز لوگ اوتاد کہلاتے ہیں۔یہ مقام
لاہوت تاہوت کے نگران ہوتے ہیں۔ان کی کل تعداد 233 ہے۔ یہ وہ منزل ہے جہاں سے فقر
کی اصل روح نکلتی ہے۔اور فقر کی اصل ابتدا ہوتی ہے۔
6۔اخیار
چھٹی منزل کے لوگ
اخیار کہلاتے ہیں۔یہ حالت سکر و صحو
دونوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی کل
تعداد 313 ہے۔
7۔ابدال
ساتویں منزل پر
فائز لوگ ابدال کہلاتے ہیں۔ ایک
وقت میں ان کی تعداد 72 ہوتی ہے۔ان میں سے کچھ لوگ حضرت خضر علیہ السلام کے
ساتھ گھومتے ہیں۔ یہ 7،7 کی ٹولیوں میں زمین کے ارد گرد پرواز کرتے ہیں۔ حضرت
علی علیہ السلام کے روضہ پر ایک وقت میں 11 ابدال ڈیوٹی دیتے ہیں۔
8۔
مقرب الحق
آٹھویں منزل پر
فائز لوگ مقرب الحق کہلاتے ہیں۔یہ بہت اہم پوزیشن ہے۔ مقرب الحق وہ
لوگ ہیں جو درس و تدریس اور لوگوں میں علم
پھیلانے پر مامور ہوتے ہیں۔ ان کی کل تعداد 40
ہوتی ہے۔یہ اپنی نوعیت میں بضاہر ایک طرح ابدال ہی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت
ان سے ایک قدم آگے ہوتے ہیں اور لوگوں میں علم پھیلاتے ہیں۔
9۔
ابرار
نویں منزل پر فائز
لوگوں کو ابرار کہا جاتا ہے۔ یہ تعداد میں 227 ہوتے ہیں جن میں سے تین ہر
وقت حضوری میں اور 224 ڈیوٹی پر رہتے ہیں۔
10۔غوث
دسویں منزل پر موجود لوگ غوث کہلاتے ہیں۔ غوث بظاہر تو ایک وقت میں ایک ہوتا
ہے جسے غوث الثقلین کہا جاتا ہے۔ لیکن درحقیقت یہ تین ہوتے ہیں جن میں سے
دو ڈیوٹی پر نہیں آتے۔
11۔ نقیب اعلی
گیارہویں منزل نقیب
اعلی ہے۔یہ ایک وقت میں دو ہوتے ہیں۔یہ ہمیشہ حالت صحو میں ہوتے ہیں۔حالت صحو
حالت سکر سے کہیں زیادہ برتر گنی جاتی ہے۔حالت صحو میں رہنے والا ولی اللہ
بلند ہے کیونکہ اس کی زبان سے خلق خدا کے فائدے کی بات نکلتی ہے۔اسے اپنی
زبان پر عموما قابو رہتا ہے تاوقتیکہ وہ
جذبات میں بہہ کر حالت سکر میں میں نہ چلا جائے۔ اور حالت جذب میں کوئی ایسی بات
نہ کہہ دے جس سے خلق خدا کے نقصان کا
اندیشہ ہو۔ نقیب اعلی ہمیشہ حالت صحو میں ہو گا۔
12۔رقیب علی الحق
بارہویں منزل پر رقیب
علی الحق ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں منصور حلاج فائز تھے۔رقیب علی الحق
کبھی اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے۔ اپنے بارے میں کبھی کوئی بیان نہیں دیتے لیکن رب
تعالی ایسا علم رکھنے والے اشخاص کی خوشبو خود زمین پر پھیلا دیتا ہے۔ان پر جب
حالت جزب طاری ہوتی ہے تو ان کا اپنا مقام ان کی نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے اور وہ
بے ساختہ کہہ اٹھتے ہیں اناالحق۔ پھر یہ لوگوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ رقیب
علی الحق یہ ایسا اعلی مقام ہے جہاں اولیاء اللہ کی حضوری میں رہ رہ کر اس سے اس قدر پیار کرنے
لگتے ہیں کہ پھر دوری دوری نہیں رہتی یہاں تک کہ وہ بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں اناالحق۔
اس کا انجام موت ہے جیسا کہ منصور حلاج
کے ساتھ ہوا۔ حضرت بایزید بسطامی رحمت اللہ کے ساتھ بھی تین مرتبہ حالت جذب میں ایسا ہی ہوا
اور وہ دعوی کر بیٹھے لیکن اتفاقا بچ گئے۔
13۔قطب
تیرہویں منزل پر وہ مقام ہے جس کے بارے میں لوگ سب سے زیادہ
جانتے ہیں اور کم از کم نام کی حد تک واقف ہیں۔اور اسی منزل کے دنیا میں سب سے
زیادہ دعوی دار ہیں۔یہ قطب کی منزل ہے جو ایک وقت میں تین ہوتے ہیں اور
زمین کے چاروں کونوں کی نگرانی کرتے ہیں۔نگرانی کے وقت یہ اپنی جان سے بھی چلے
جاتے ہیں۔قطب بہت بڑا مقام ذمہ داری ہے کیونکہ ہر قطب ایک تہائی
زمین کا نگران ہے اور وہ ایک تہائی زمین پر اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتا ہے۔
14۔ قطب الاقطاب
چودہویں منزل قطب
الاقطاب کی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت قطب الدین بختیار کاکی تھے۔ایک روایت
کے مطابق ان کے دائیں بازو کا اگلا حصہ
جھلسا ہوا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے ہم عصر قطب جو سید
تھے اوربے حد حسن و جمال کے مالک تھے۔ان
کا مقام نشست پشاور تھا۔ جب حضرت بختیار کاکی پشاور تشریف لے گئے تو ان قطب
نے اپنے علاقے کی حدود شروع ہوتے ہی قطب الاقطاب کا استقبال آگ سے کیا۔تب
حضرت بختیار کاکی نے اپنا بازو آگ میں ڈال
کر اسے ٹھنڈا کر دیا۔ جب کوئی شخص قطب کی منزل پر آتا ہے تو وہ درجہ بدرجہ سیڑھی
اوپر چڑھتا جاتا ہے حتی کہ قطب الاقطاب کی منزل تک جا پہنچتا ہے۔قطب
الالقطاب کی منزل سے پہلے قطب
ابدال، قطب الارشاد، قطب مسئلہ عین کا درجہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک درجہ قطب
المدار کا ہے جو خاصا سینئر ہے۔ قطب العالم، قطب الاوتار اور قطب
القلندر کا درجہ بھی قطب الاقطاب
کی منزل کا سنگ میل ہے۔اسی طرح اس میں ایک درجہ قطب شاہ کا ہے۔یہ لوگ ایک
وقت میں 13 مقامات پر پائے جاتے ہیں۔دوران حج کثرت سے بالخصوص مسجد الحرام میں
خانہ کعبہ کے قریب اور بالعموم پوری زمین پر پھیلے ہوتے ہیں۔حجر اسود پر ان میں سے
کوئی نہ کوئی ضرور موجود رہتا ہے۔
15۔نگران اعلی
پندرھویں منزل پر
فائز آدمی نگران اعلٰی کہلاتا ہے۔نگران اعلٰی ایک وقت میں ایک ہی
ہوتا ہے۔
16۔امام
سولھویں منزل امام کی ہے۔امام طریقت کے سلسلوں کے والی اورنگران ہوتے ہیں۔اور ایک وقت میں ان کی تعداد چار ہوتی
ہے۔یہ اپنا وقت پوراکرکے بدلتے رہتے ہیں۔جب ایک امام دنیا سے چلاجاتاہے
تونیا امام اس کی جگہ لےلیتاہے۔
17۔امام
سترھویں منزل بھی امام
ہی کی منزل ہے لیکن یہ بارہ امام
وہ ہیں جن میں سے حضرت امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو سب سے زیادہ فضیلت
حاصل ہے۔ ان دونوں کا مقام بے حد بلند ہے۔
18۔ باب علم
اٹھارویں منزل حضرت علی ؑ کی ہے۔ یہ منزل حضرت علی ؑ کے لقب اور کنیت کی نسبت سے باب
علم اور باب ابوتراب کہلاتی ہے۔
19۔حضرت محمدؐ
انیسویں اور آخری منزل
آپؐ کی ہے۔ آپؐ اس کونسل کی نگرانی کرتے ہیں جہاں طریقت کے
تمام معاملات کے حتمی فیصلے ہوتےہیں۔
