اسلامی سال کے حیرت انگیز تاریخی واقعات

 

اسلامی سال کے حیرت انگیز تاریخی واقعات

    

            محرم سے ذوالحجہ تک مکمل معلومات


اسلامی کیلنڈر کے اہم دن، محرم سے ذوالحجہ تک تمام اسلامی مہینوں کے تاریخی واقعات، عاشورا، میلاد النبی ﷺ، واقعہ کربلا اور دیگر اسلامی شخصیات کے اہم ایام کی مکمل معلومات اس جامع مضمون میں پڑھیں۔


      اسلامی تاریخ اور تہذیب میں ہجری کیلنڈر کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔ مسلمان اپنی عبادات، مذہبی تہواروں اور تاریخی واقعات کو اسلامی  کیلنڈر کے  اہم دن کے مطابق یاد رکھتے ہیں۔ ہجری سال   بارہ مہینوں کی مکمل تاریخ  پر مشتمل ہے اور  ہجری مہینوں  میں  کئی ایسے اہم دن موجود ہیں جن کا تعلق اسلامی تاریخ، انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل بیت اطہار سے جڑا ہوا ہے۔ 

   اسلامی مہینوں کی  تاریخ کے یہ ایام نہ صرف مسلمانوں کے لیے روحانی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ یہ ہمیں ماضی کے عظیم واقعات محرم الحرام سے ذوالحجہ تک اسلامی تاریخ  اور عاشورہ اور کربلا کی تاریخ  سے ایثار و قربانی جیسے واقعات ہماری زندگی کے لئے مشعل راہ ہیں۔  ان واقعات میں قربانی، صبر، ایمان، عدل اور حق کے لیے جدوجہد جیسے اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی مثالیں موجود ہیں۔ اس مضمون میں ہجری سال کے مختلف مہینوں میں پیش آنے والے اسلامی  تاریخی  واقعات کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔

   ہجری سال کا آغاز اور اس کی تاریخی حیثیت

   ہجری کیلنڈر کا آغاز رسول اکرم ﷺ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے واقعے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ہجرت کا واقعہ ربیع الاول میں پیش آیا تھا، لیکن بعد میں اسلامی خلافت کے دور میں محرم الحرام کو ہجری سال کا پہلا مہینہ قرار دیا گیا۔

اسلامی تاریخ میں ہجرت کا واقعہ ایک عظیم انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسی کے بعد مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی اور اسلام کو باقاعدہ سیاسی اور معاشرتی نظام کی صورت میں فروغ ملا۔


محرم الحرام کے اہم واقعات

 

    محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور اسے حرمت والا مہینہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس مہینے میں کئی اہم تاریخی واقعات پیش آئے جس سے   اسلامی تاریخ کے  گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

سب سے اہم واقعہ 10 محرم یعنی عاشورا کا ہے جس دن حضرت امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں نے کربلا کے میدان میں حق اور انصاف کے لیے عظیم قربانی دی۔

اس کے علاوہ محرم میں کئی دیگر تاریخی واقعات بھی بیان کیے جاتے ہیں، جیسے:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون سے نجات پانا

حضرت یوسف علیہ السلام کا اپنے والد سے جدا ہونا

اہل بیت کے قافلے کا کوفہ اور شام کی طرف روانہ ہونا

واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا وہ باب ہے جو صبر، قربانی اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

٭ یکم محرم الحرام

آغاز سال نوہجری

عاشورہ محرم کا آغاز

غزوہ ذات الرفاع میں نماز خوف کا حکم نازل ہوا۔6ھ

روز ہلاکت اصحاب الفیل

وصول زکوۃ کا اولین حکم رسول اللہﷺ

 ٭ 2 محرم الحرام

حضرت امام حسینؑ  کی کربلا  آمد۔61ھ

امام حسین ؑ نے زمین کربلا خریدی۔

حضرت یوسفؑ حضرت یعقوبؑ سے جدا ہوئے۔

٭ 4محرم الحرام

کوفہ میں مظلوم کربلا سید الشہدا  علیہ السلام  کے خلاف نیزے اور

 تلواریں تقسیم کی گئیں۔

نمرود  واصل جہنم ہوا۔

٭ 5 محرم الحرام

بروایت حضرت موسیؑ اور ان کے ساتھیوں نے دریائے نیل عبور

 کیا اور فرعون اپنے

 لشکر سمیت ان کا پیچھا کرتے ہوئے دریا میں غرق ہوا۔

 ٭ 6 محرم الحرام

30 ہزار یزیدی فوج قتل حسین ؑ کے لئے کربلا بتدریج جمع ہو گئی۔61ھ

حضرت یحییؑ نبی شہید ہوئے۔

٭ 7 محرم الحرام

کربلا میں امام حسینؑ اور اہل بیتؑ و اصحاب رضی اللہ عنہ  حسینؑ پر

 یزیدیوں نے پانی بند کر دیا۔

حضرت موسیؑ کوہ طور سینا پر گئے۔

٭ 9 محرم الحرام

شب عاشور، امام حسین علیہ السلام کا خطبہ شب عاشورہ، تا سوعا محرم۔

ورود شمر ملعون در کربلا۔

ولادت حضرت موسیؑ ابن عمران کلیم اللہ علیہ السلام

ولادت حضرت مریم رضی اللہ عنہ والدہ حضرت عیسی علیہ السلام

حضرت یونسؑ مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے۔

شمر ملعون نے حضرت عباسؑ اور ان کے  بھائیوں کے لئے امان نامہ

 پیش کیا، جسے قمر بنی ہاشم نے مسترد کرتے ہوئے اس کے منہ پر دے

 مارا۔

  ٭ 10 محرم الحرام

عاشورہ محرم 

شہادت حضرت امام حسینؑ 61ھ

خیام حسینیؑ بنی امیہ کی آگ  کی لپیٹ میں۔

 ٭ 11 محرم الحرام

روانگی اسیران کربلا بطرف کوفہ

وفات حضرت آدم علیہ السلام

 ٭ 12 محرم الحرام

سوئم شہداء کربلا

ورود اسیران کربلا در کوفہ

خطبہ جناب زینب سلام اللہ علیہا  و امام سجاد ؑ بازار کوفہ میں۔

کوفہ میں نوک نیزہ پر بلند سر امام حسین ؑ کا تلاوت سور ہ کہف کرنا۔

دفن شہدائے کربلا بدست امام سجادؑ بہ اعجاز امامت۔

٭ 13محرم الحرام

خطبہ جناب زینب سلام اللہ علیہا دربار ابن زیاد میں۔

شہادت حضرت عبداللہ ابن عفیف رضی اللہ عنہ بجرم محبت آل

 محمد

٭ 14 محرم الحرام

خبر شہادت حضرت امام حسین ؑ مدینہ پہنچی۔

٭ 16 محرم  الحرام

نماز ظہر کے دوران بحکم الٰہی پیغمبر اکرم ﷺ نے بیت المقدس

 سے کعبہ کی طرف رخ پھیر لیا اور مامومین میں سے حضرت علیؑ نے

 آپ کی پیروی کی۔

بروایت تحویل قبلہ از بیت المقدس بطرف خانہ کعبہ

 ٭ 17 محرم الحرام

عام الفیل یمن کا بادشاہ ابرہہ ہاتھیوں کا لشکر لے کر خانہ کعبہ کو گرانے

 آیا لیکن اللہ نے ابابیلوں کا لشکر ترتیب دیا جنہوں نے کنکریاں

 پھینکیں اور ابرہہ اور اس کا لشکر تباہ ہو گیا۔

٭ 19 محرم الحرام

فوج یزید اسیران کربلا کو کوفہ سے شام کی طرف لے کر چلی۔61ھ

٭ 20 محرم الحرام

وفات حضرت بلال رضی اللہ عنہ مؤذن

٭ 24 محرم الحرام

تین سو سال کے بعد اصحاب رضی اللہ عنہ کہف  نیند سے بیدار ہوئے۔

٭ 25 محرم الحرام

شہادت حضرت امام زین العابدینؑ 95ھ

وفات کنیز زہراؑ جناب فضہ رضی اللہ عنہ 95ھ

معرکہ قادسیہ 14ھ

٭ 28 محرم الحرام

آخری عباسی خلیفہ معتصم ہلا کو خان کے ہاتھوں بغداد میں قتل ہوا۔

عباسی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

وفات صحابی رسول حذیفہ یمانی رضی اللہ عنہ 38ھ۔

٭ 30 محرم الحرام

آغاز جنگ صفین از طرف معاویہ بمقابلہ خلیفہ راشد امام علیؑ 37ھ

شہادت حضرت زید بن زین العابدینؑ


صفر کے تاریخی واقعات


   صفر کے مہینے میں بھی اسلامی تاریخ کے کئی اہم واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ اس مہینے میں اہل بیت کے قافلے کے شام پہنچنے اور کئی اہم شخصیات کی شہادت کا ذکر ملتا ہے۔

اسی مہینے میں بعض روایات کے مطابق 20 صفر کو اربعین منایا جاتا ہے جو واقعہ کربلا کی یاد میں ایک اہم دن سمجھا جاتا ہے۔

صفر کے واقعات ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ کے تلخ لمحات بھی انسان کو صبر اور استقامت کا درس دیتے ہیں۔

٭  یکم صفر

قافلہ اسیران کربلا  دمشق  کی طرف روانہ  61ھ

بتولؑ زادیوں پر پتھروں کی بارش۔

خطبہ امام سجادؑ اور زینبؑ بازار شام میں۔

٭ 2  صفر

شہادت حضرت زید رضی اللہ عنہ شہید

٭ 3 صفر

یزید کی فوج نے خانہ کعبہ پر آتش بازی کی اور غلاف کعبہ کو آگ لگ

 گئی۔63ھ

٭ 5 صفر

وفات اموی خلیفہ عمر بن  عبدالعزیز رضی اللہ عنہ  101ھ

٭ 6صفر

امام حسین ؑ اور شہدائے کربلا کے سر ھائی مقدس کے ساتھ قافلہ

 اسیران اہل بیتؑ کا  دمشق میں داخلہ 61ھ

٭7  صفر

ولادت حضرت امام موسیٰ کاظمؑ 128ھ

٭ 8 صفر

حضرت ایوبؑ کی دعا قبول ہوئی۔

٭ 9 صفر

حضرت سلمان محمدی رضی اللہ عنہ (فارسی) کی وفات 35ھ

شہادت حضرت  عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ  38 ھ

جنگ نہروان

٭ 11  صفر

وفات حضرت  اویس قرنی رضی اللہ عنہ 27ھ

 ٭ 12 صفر

وفات حضرت ہارون ابن عمران ؑ برادر  و  وزیر حضرت موسیٰؑ

٭ 13 صفر

شہادت حضرت سکینہ بنت الحسینؑ

٭ 24 صفر

شہادت محمد ابن ابی بکر رضی اللہ عنہ برادر ام المومنین حضرت عائشہ

 38ؒ ھ

٭ 17 صفر

بروایت شہادت امام  علی رضاؑ 203ھ

٭ 20صفر

چہلم حضرت امام حسینؑ

شام میں قید سے رہا ہو کر اہلبیتؑ کا قافلہ کربلا پہنچا 62ھ  (بحوالہ شیخ مفید)

٭ 23صفر

رسول اللہ ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سپہ

 سالار لشکر قرار دیا 11ھ

آغاز حکومت بنی عباس

٭ 24صفر

وفات حضرت  ام کلثوم سلام اللہ علیہا

رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے کاغذ اور قلم مانگا۔

(حدیث قرطاس کا بیان)

٭ 25صفر

حضرت مریم رضی اللہ عنہ بنت عمران والدہ  حضرت عیسیٰؑ کی وفات

رسول اللہ ﷺ نے اہل جنت البقیع کی مغفرت کے لئے دعا کی

 10 یا 11ھ

رسول اللہﷺ  نے حضرت علیؑ کو ایک ہزار باب علم تعلیم کئے۔

٭ 27صفر

شہادت حضرت یحییٰؑ

٭ 28صفر

رحلت رسول خدا ﷺ 11ھ

شہادت حضرت امام حسنؑ (جنازہ امام حسنؑ پر تیروں کی بارش) 50ھ

حضرت علیؑ نے باغوں میں مزدوری کر کے مزدوروں کو سربلند کرنے کا

 موقع فراہم کیا۔


ربیع الاول کی اہمیت


   ربیع الاول اسلامی تاریخ کا انتہائی مبارک مہینہ ہے کیونکہ اسی مہینے میں رسول اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔

12 ربیع الاول کو دنیا بھر کے مسلمان عید میلاد النبی ﷺ کے طور پر مناتے ہیں۔ اس دن مسلمان حضور اکرم ﷺ کی سیرت، اخلاق اور تعلیمات کو یاد کرتے ہیں اور ان کی زندگی سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

اسی مہینے میں ہجرت کے بعد رسول اکرم ﷺ مدینہ منورہ پہنچے اور اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی۔

  ٭ یکم  ربیع الاول

شب ہجرت۔ رسول خدا ﷺ نے حضرت علیؑ کو اپنے بستر پر سلا

 کر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔

غزوہ دومتہ الجندل 5ھ

٭  2 ربیع الاول

اہلبیت رسول ﷺ کی شام کی قید سے رہائی کے بعد مدینہ منورہ

 واپسی 62ھ

٭  3 ربیع الاول

رسول اکرم ﷺ غار ثور میں پناہ لینے کے بعد عازم مدینہ منورہ

 ہوئے۔

٭  5 ربیع الاول

سلیمان رضی اللہ عنہبن صرد خزاعی کی سربراہی میں توابین نے انتقام

 خون امام حسینؑ کے لئے علی الاعلان تحریک کا آغاز کیا 65ھ

٭  6  ربیع الاول

وفات حضرت ام رباب ؑ

٭  8 ربیع الاول

شہادت  حضرت امام حسن عسکریؑ 260ھ

آغاز امامت حضرت امام مہدیؑ (بعمر 5سال)

٭  9 ربیع الاول

عید شجاع۔امیر مختار رضی اللہ عنہ    کے قاصد نے شہدائے کربلا کے

 سر امام زین العابدین ؑ کی خدمت میں پیش کئے۔

٭  10 ربیع الاول

ازدواج رسول اکرم ﷺ ہمراہ حضرت خدیجتہ الکبریٰ سلام اللہ

 علیہا 25 سال عام الفیل

٭ 12ربیع الاول

عید میلادالنبی ﷺ (اہلسنت کے نزدیک)

نبی اکرمﷺ  ہجرت کر کے یثرب (مدینہ منورہ) داخل ہوئے۔ 13

 سال بعثت

بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ اور بنی  عباسیہ کی حکومت کا قیام132ھ

 ٭  14ربیع الاول

روز مرگ یزید ابن معاویہ

 ٭  15ربیع الاول

اسلام کی سب سے پہلی مسجد (مسجد قبا) کی تعمیر 1ھ

٭  17ربیع الاول

عید میلادالنبی روز ولادت رسول خدا ﷺ 1ھ عام الفیل

 ولادت حضرت  امام جعفر صادقؑ 83ھ

٭  18ربیع الاول

ولادت حضرت ام کلثوم  رضی اللہ عنہ بنت حضرت علیؑ

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی بنیاد رکھی گئی۔

٭  21ربیع الاول

بروایت ازدواج پیغمبرﷺ  و حضرت خدیجہ علیہا السلام

٭  22ربیع الاول

غزوہ بنی نضیر 3ھ

٭ 26 ربیع الاول

وفات  حضرت ابوطالب ؑ

معاہدہ صلح  مابین حضرت امام حسن ؑ و معاویہ بن ابی سفیان  41ھ


ربیع الثانی اور دیگر تاریخی واقعات


    ربیع الثانی کے مہینے میں بھی کئی اہم شخصیات کے واقعات اور شہات کا ذکر ملتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس مہینے کے واقعات ہمیں یہ یاد  دلاتے ہیں کہ ہر دور  میں  دین کی خدمت کرنے والی شخصیات نے بڑی قربانیاں دی  ہیں۔

٭  10 ربیع الثانی

وفات حضرت معصومہؑ قم 201ھ

٭ 12ربیع الثانی

نماز فرض ہوئی 1ھ

٭ 13 ربیع الثانی

بروایت شہادت سیدہ کونین بنت رسولﷺ

٭  14ربیع الثانی

حضرت امیر مختار رضی اللہ عنہ  ثقفی کی تحریک کا قاتلان امام حسینؑ

 سے انتقام کا آغاز ہوا 66ھ

٭  21ربیع الثانی

وفات معتزباللہ (عباسی خلیفہ) 289ھ

٭  22ربیع الثانی

شہادت موسیٰ مبارکہؑ بن امام محمد تقیؑ   296 ھ (امام علی نقیؑ کے

 بھائی)

٭  24ربیع الثانی

معاویہ ثانی بن یزید نے اپنے باپ کے تخت کو ٹھکرایا اور اس کے

 جرائم کی مزمت کی۔ 64ھ

٭  27ربیع الثانی

وفات معتمد باللہ (عباسی خلیفہ) 279ھ


جمادی الاول


     جمادی الاول کے مہینے  میں بھی اسلامی تاریخ کے اہم واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ اس مہینے  میں اہل بیت اور دیگر اسلامی شخصیات کے حالات اور واقعات کا ذکر ملتا ہے۔

٭  یکم  جمادی الاول

بروایت ولادت ملکہ لاہور بنت علیؑ ہمسفر سرکار مسلمؑ 24 ھ

وفات خلیفہ ہارون رشید عباسی 193ھ

٭  5جمادی الاول

ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا بنت  حضرت علیؑ 5ھ

٭  6جمادی الاول

شہادت حضرت جعفر طیارؒ  

٭ 7 جمادی الاول

جنگ موتہ  8 ھ

٭  10 جمادی الاول

جنگ جمل  36ھ

٭  11 جمادی الاول

(بروایت)شہادت سیدہ عالمین سلام اللہ علیہا 11ھ

٭  12جمادی الاول

شہادت عبداللہ ؑ ابن عبدالمطلبؑ

٭  15جمادی الاول

ولادت حضرت امام زین العابدینؑ 38ھ

٭  26جمادی الاول

وفات حضرت ابراہیم ؑ

٭  28جمادی الاول

ولادت حضرت عبدالمطلبؑ

٭  29جمادی الاول

وصال محمد بن عثمان عامریؑ   (دوسرے سفیر مولا ولی العصر) 305ھ


جمادی الثانی

    جمادی الثانی مہینہ  میں کئی ایسی شخصیات کی ولادت اور شہادت کے واقعات بھی بیان کیے جاتے ہیں جنہوں نے اسلامی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔

٭  3جمادی الثانی

شہادت حضرت سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا 11ھ

٭  10جمادی الثانی

فتح جنگ جمل 37ھ

٭  13جمادی الثانی

وفات حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا  زوجہ  حضرت علیؑ  (والدہ

 حضرت عباسؑ) 94ھ

٭  14جمادی الثانی

یزیدی فوجوں کے ہاتھوں انہدام خانہ کعبہ کے بعد عبداللہ  ابن زبیر

رضی اللہ عنہ  نے کعبہ کو دوبارہ تعمیر کرایا۔

٭  20جمادی الثانی

ولادت حضرت فاطمتہ الزہرا  سلام اللہ علیہا  5 بعثت

ولادت امام خمینی رضی اللہ عنہ 

٭  22جمادی الثانی

دستر خوان امام حسنؑ

وفات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ13ھ


 رجب کا مقدس مہینہ

 رجب اسلامی سال کے چار مقدس مہینوں میں شامل ہے۔ اس مہینے میں عبادت اور نیکی کی خاص فضیلت بیان کی جاتی ہے۔

27 رجب کو شب معراج کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے جس میں رسول اکرم ﷺ کو معراج کا شرف حاصل ہوا۔ اس واقعے میں نماز کی فرضیت کا حکم بھی مسلمانوں کو عطا کیا گیا۔

٭   یکم رجب

ولادت حضرت امام محمد باقر ؑ 57ھ

حضرت نوح ؑ کشتی پر سوار ہوئے ہمراہیوں کو روزے کا حکم دیا۔

٭  3رجب

شہادت امام علی نقی ؑ 254ھ

٭  5 رجب

ولادت امام علی نقیؑ 214ھ

٭   6رجب

شہادت حضرت میثم تمار رضی اللہ عنہ 63ھ

٭  9  رجب

ولادت شہزادہ علی اصغرؑ 60 ھ

٭  10رجب

ولادت امام محمد تقی ؑ  195ھ

٭ 13  رجب

ولادت باسعادت حضرت علی ؑ  وسط خانہ کعبہ 30 عام الفیل

٭  15 رجب

تحویل قبلہ اثنا نماز عصر 2ھ

شہادت حضرت امام جعفر صادق ؑ

رسول  اکرم ﷺ اور دیگر بنی ہاشم شعب ابی طالب سے باہر آئے۔

وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا 62ھ

روز عمل ام داؤد

٭  22 رجب

نذر  امام جعفر صادق ؑ (کونڈے)

روز ہلاکت معاویہ 60ھ

٭ 23  رجب

خوارج نے  امام حسن ؑ کو زخمی کیا۔

 ٭  24رجب

فتح جنگ خیبر بدست حضرت علی ؑ 7ھ

حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہاور دیگر صحابہ   رضی اللہ عنہ کی حبشہ سے واپسی

٭  25 رجب

شہادت امام موسیٰ کاظم ؑ 183ھ

٭   26رجب

وفات  حضرت ابوطالب ؑ  (تین سال قبل از ہجرت) 10 بعثت

حضرت امام حسین ؑ سے ولید (گورنر مدینہ) نے بیعت یزید طلب کی۔ 60ھ

 ٭  27 رجب

عید بعثت و شب معراج حضرت محمدﷺ

٭   28رجب

حضرت امام حسین ؑ کربلا کے سفر پر مدینہ سے روانہ ہوئے۔ 60ھ


شعبان کی روحانی فضیلت 


   شعبان کا مہینہ رمضان المبارک سے پہلے آتا ہے اور اسے روحانی تیاری کا مہینہ کہا جاتا ہے۔

اس مہینے میں 15 شعبان کی شب برات کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ اس رات مسلمان عبادات، دعا اور استغفار کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے ہیں۔

٭   یکم شعبان

ولادت حضرت زینب بنت علی ؑ 6ھ

٭  2شعبان

روزے فرض ہوئے۔ 2ھ

٭  3شعبان

ولادت حضرت امام حسین ؑ 4ھ

امام حسین ؑ ہجرت فرما کر مکہ میں داخل ہوئے۔60ھ

٭  4شعبان

ولادت غازی عباس ؑ 26ھ

٭  7شعبان

ولادت شہزادہ قاسم ؑ ابن امام حسین ؑ 47ھ

٭  9شعبان

عقیقہ حضرت امام حسین ؑ

٭  11شعبان

ولادت حضرت علی اکبر ؑ 43ھ

ولادت شہزادی معصومہؒ  کربلا

٭  12شعبان

غزوہ تبوک ۔ 9ھ

٭  13شعبان

شہادت حسین بن روح ؑ 326ھ

٭  14شعبان

شب برات (دن گزرنے کے بعد)

٭  15شعبان

ولادت حجتہ القائم  حضرت امام زمانہ ؑ 255ؑ

٭  16شعبان

وصال ابوالحسن علی ؑبن محمد سمری ؑ  ( آخری سفیر والی العصرؑ) 329ھ

٭  18 شعبان

ایام قلندر کبریا ؑ

٭  19شعبان

غزوہ بنی مصطلق 6ھ

رمضان المبارک کے اہم واقعات


  رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے سب سے مقدس مہینہ ہے۔ اسی مہینے میں قرآن مجید نازل ہوا اور مسلمانوں پر روزے فرض کیے گئے۔

رمضان میں کئی تاریخی واقعات بھی پیش آئے جن میں شامل ہیں:

جنگ بدر

فتح مکہ

حضرت علیؑ کی شہادت

رمضان کا مہینہ عبادت، صبر، سخاوت اور تقویٰ کا پیغام دیتا ہے۔

٭ 2 رمضان

مامون عباسی کے دور میں حضرت امام رضا ؑ ولی عہد مقرر ہوئے۔ 201ھ

٭  3 رمضان

حضرت ابراہیم ؑ پر صحیفے نازل ہوئے۔

٭  4رمضان

ہلاکت چنگیز خان 664ھ

٭  6 رمضان

حضرت موسیٰ ؑ پر توریت  نازل ہوئی۔

بروایت بیعت امام رضا ؑ بطور ولی عہد (عباسی خلیفہ ہارون الرشید)

 آپؑ کے نام کا سکہ جاری ہوا۔ 201ھ

٭  7 رمضان

ولادت حضرت یحییٰ ؑ بن  حضرت زکریا ؑ

حضرت عیسیٰ ؑ پر انجیل نازل ہوئی۔

وثیقہ ولی عہدی امام علی رضا ؑ لکھا گیا۔

٭  19رمضان

وفات ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ  سلام اللہ علیہا 10 بعثت

 ( پیغمبر اکرمﷺ نے اس سال کو عام الحزن قرار دیا)


قاتلان امام حسینؑ  سے انتقام لینے کے لئے سلیمان  بن صرد خزاعی

رضی اللہ عنہ کے گھر میں شیعیان کوفہ کا پہلا جلسہ 61ھ

٭  13رمضان

شہادت حضرت کمیل رضی اللہ عنہٓ   بن زیاد صحابی حضرت علیؑ بحکم

  حجاج بن یوسف 63ھ

شہادت حضرت قنبر  رضی اللہ عنہ غلام حضرت علی ؑ بحکم حجاج بن یوسف

امام علیؑ نے امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ کو اپنی شہادت کی خبر دی۔

40ھ

وفات  دشمن شیعیان علیؑ حجاج بن یوسف

٭  14رمضان

جنگ امیر مختارؑ 67ھ

٭  15 رمضان

ولادت حضرت امام حسنؑ 3ھ

شہادت محمد نفس ذکیہ رضی اللہ عنہ 45ھ

روانگی حضرت مسلم  ؑ ابن عقیل ، بحکم امام حسینؑ از مکہ بطرف کوفہ

 60ھ

٭   16رمضان

حضرت محمد رضی اللہ عنہ ابن ابی بکر بطور گورنر مصر پہنچے۔

٭   17رمضان

فتح جنگ بدر 

وفات ام المومنین حضرت  عائشہ رضی اللہ عنہ  در شام 58ھ

 (بحوالہ تاریخ  حبیب السیر)

بحکم امام زمانہ ؑ تعمیر مسجد جمکران  قم  (ایران) 293ھ

٭  18 رمضان

شب قدر و شب ضربت  امیر المومنین علی ؑ در مسجد کوفہ

حضرت داؤد ؑ پر زبور نازل ہوئی۔

٭  19رمضان

اولین شہید محراب مسجد حضرت علیؑ  مسجد کوفہ میں بوقت فجر حالت

 نماز میں ابن ملجم ملعون کی ضرب سے زخمی ہوئے۔ 40ھ

٭ 20  رمضان

شب قدر و شب شہادت  امیر المومنین علی ؑ  در کوفہ 40ھ

تلوار کا زہر آپ ؑ کے جسم میں پھیل گیا۔ حضرت علی ؑ نے اپنے اہل

 خانہ کو وصیت  فرمائی۔

فتح مکہ 8ھ 

٭  21رمضان

شہادت امیر المومنین علی ابن ابی طالب ؑ  40ھ

وفات حضرت یوشع بن نون ؑ

حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان  پر اٹھا لیا گیا۔

 ٭  22رمضان

شب قدر (قرآن مجید نازل ہوا)

شوال


  شوال کے مہینے میں عید الفطر منائی جاتی ہے جو رمضان کے اختتام پر مسلمانوں کی خوشی کا دن ہوتا ہے۔

اس مہینے میں جنگ احد اور دیگر تاریخی واقعات کا ذکر بھی ملتا ہے جو اسلامی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔

٭  4شوال

وفات حضرت  علی بن محمد سمریؑ (چوتھے نائب امام زمانہ) 329ھ

حضرت امام مہدیؑ  کی غیبت  کبریٰ کا آغاز۔ 329ھ

٭  5شوال

سفیر امام حسینؑ حضرت مسلم ابن عقیلؑ  کوفہ پہنچے۔ 60ھ

  (18000 کوفیوں نے بیعت کی)

عباسی خلیفہ متوکل قتل ہوا۔ 247ھ

٭  7 شوال

غزوہ احد 3ھ حضرت علی ؑ کو ذوالفقار عطا ہوئی۔

 مسلمانوں کو فتح کے بعد شکست ہوئی اور پھر حضرت علی ؑ کی جانثاری

 کے صلہ میں فتح ہوئی۔ شہادت حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ

٭  9شوال

ولادت  حضرت عیسیٰ ؑ

٭  10شوال

آغاز غیبت صغریٰ امام زمانہؑ 260ھ/265ھ

جنگ حنین 8ھ

٭  15 شوال

شہادت امام جعفر صادق ؑ  148ھ

غزوہ بنی سلیم 2ھ

٭  20 شوال

حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ کو ہارون رشید نے قید کیا۔179ھ

٭  24شوال

خاتمہ خلافت عثمانیہ 1341ھ

٭ 25  شوال

بقول شہادت امام جعفر صادق ؑ 148ھ

٭  29شوال

ولادت حضرت ابو طالبؑ

وفات حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ  فرزند رسول اکرمﷺ  10ھ

 آخر شوال

ذوالقعدہ


ذوالقعدہ بھی حرمت والے مہینوں میں شمار ہوتا ہے۔

٭   یکم ذوالقعدہ

ولادت حضرت فاطمہ معصومہ قم رضی اللہ عنہ  بنت امام موسیٰ کاظم ؑ

 173ھ

صلح حدیبیہ 

٭  5 ذوالقعدہ

حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے کعبہ کی دیواریں بلند کیں۔

٭  8 ذوالقعدہ

حج فرض  ہوا۔ 8ھ

٭  11 ذوالقعدہ

ولادت  امام علی رضا ؑ 148ھ

٭  17 ذوالقعدہ

عباسی خلیفہ ہارون رشید نے امام موسیٰ کاظم کو قبر  پیغمبر اکرمﷺ

 سے حالت نماز میں گرفتار کر کے زنداں میں قید کیا۔179ھ

٭  23 ذوالقعدہ

بروایت شہادت امام رضا ؑ 203ھ

٭  24 ذوالقعدہ

فتح جنگ بنی قریظہ     شکست قوم یہود مدینہ

٭  25 ذوالقعدہ

نبی اکرم ﷺ فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے مدینہ منورہ سے روانہ

 ہوئے۔10ھ

امام رضا ؑ مدینہ منورہ سے خراسان روانہ ہوئے۔ 200ھ

شب ولادت حضرت ابراہیم ؑ  و حضرت عیسیٰ

  ٭  29 ذوالقعدہ

شہادت امام محمد تقی ؑ  بعمر 25سال 220ھ

ذوالحجہ


ذوالحجہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ہے۔

ذوالحجہ میں حج کا عظیم فریضہ ادا کیا جاتا ہے اور 10 ذوالحجہ کو عید الاضحیٰ منائی جاتی ہے۔ اس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔

اسی مہینے میں 18 ذوالحجہ کو عید غدیر کا واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے جو اسلامی تاریخ کا اہم باب سمجھا جاتا ہے۔

٭  یکم ذوالحجہ

یوم غسل  خانہ کعبہ

شادی مبارک مولود کعبہ حضرت علی ؑ  اور دختر رسول اکرم ﷺ

 سیدۃ النساء  حضرت فاطمتہ الزہرا  سلام اللہ علیہا  2 ھ

٭  3 ذوالحجہ

حضرت آدم ؑ کی توبہ قبول ہوئی۔

رسول اکرم ﷺ حجتہ الوداع  کے لئے مکہ مکرمہ پہنچے 10ھ

٭  5 ذوالحجہ

شہادت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

٭  7 ذوالحجہ

شہادت امام محمد باقر ؑ 114ھ

٭  8 ذوالحجہ

امام حسین ؑ احرام حج کھول کر عازم کربلا ہوئے۔ 60ھ

٭ 9  ذوالحجہ

روز حج بیت اللہ

روز عرفہ

شہادت  سفیر  حسین ؑ حضرت امیر مسلم بن عقیلؑ   60ھ

٭  10 ذوالحجہ

عید الاضحیٰ

شہادت فرزندان ؑ حضرت مسلم بن عقیل ؑ

٭  15 ذوالحجہ

ولادت امام علی نقی ؑ 213ھ

٭  18 ذوالحجہ

عید غدیر

 روز اعلان ولایت خلافت بلا فصل حضرت علی ؑ  10ھ

شہادت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  35ھ

٭  19 ذوالحجہ

شب رخصتی حضرت فاطمتہ الزہرا  سلام اللہ علیہا

٭  23 ذوالحجہ

صحابی امیرالمومنین علی ؑ حضرت میثم تمار رضی اللہ عنہ، محبت علیؑ

 کے جرم میں کوفہ میں کھجور پر پھانسی دیئے گئے۔ 60ھ

٭  24 ذوالحجہ

عید مباہلہ نزول آیت مباہلہ در شان اہلبیت عصمت علیہم الصلوۃ

 والسلام  10ھ

ولادت حضرت سکینہؑ بنت امام حسینؑ 56ھ

 ٭  25 ذوالحجہ

حضرت علی ؑ کی بطور خلیفہ بیعت کی گئی۔ 35ھ

٭  26 ذوالحجہ

شہادت حضرت عمر رضی اللہ عنہ 23ھ

٭  28 ذوالحجہ

واقعہ حرہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یزید بن معاویہ کی فوج نے مدینہ منورہ پر حملہ کیا۔

 مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے۔ بہت سے صحابی شہید ہوئے۔ 63ھ


   اسلامی ایام سے حاصل ہونے والے اسباق

اسلامی تاریخ کے یہ اہم دن ہمیں کئی قیمتی اسباق دیتے ہیں:

حق اور انصاف کے لیے قربانی دینا

صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرنا

دین کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا

ماضی کے واقعات سے سبق حاصل کرنا

یہ ایام مسلمانوں کو اپنی تاریخ سے جوڑے رکھتے ہیں اور انہیں اپنی دینی شناخت کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

نتیجہ

اسلامی کیلنڈر کے یہ اہم ایام صرف تاریخ کے صفحات نہیں بلکہ ایمان، قربانی اور اخلاقی اقدار کے روشن نمونے ہیں۔ ان واقعات کو یاد رکھنے کا مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ ان سے سبق لے کر اپنی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

اگر مسلمان اپنی تاریخ کے ان سنہری واقعات کو سمجھ کر ان کے پیغام کو اپنی زندگی میں شامل کریں تو معاشرہ امن، عدل اور اخوت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

   

Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی