عطو! تیری زاہدہ مر گئی

 

عطو تیری زاہدہ مر گئی

عطو! تیری زاہدہ مر گئی
ساہیوال  کی ایک عشق حقیقی کی سچی داستان




پنجاب کا شہر ساہیوال کئی حوالوں سے پوری دنیا میں منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ قدیم شہر ہڑپہ، نیلی راوی نسل کی گائے اور جنگ آزادی کی طویل ترین لڑی  جانے والی جنگ کا اعزاز اس شہر سے چھینا نہیں جا سکتا۔ ساہیوال کسی نہ کسی حوالے سے اپنی پہچان رکھتا ہے۔ ساہیوال سے 30 کلومیٹر دور شمال کی طرف دریائے راوی کے کنارے پر قدیم گاؤں کوڑے شاہ زیریں آباد ہے۔ کوڑے شاہ زیریں کسی وقت 70 سے 80 مربع کی سٹیٹ ہوا کرتا تھا اور یہی پر محکمہ انہار بنا تھا۔ کوڑے شاہ زیریں کا مالک کوڑے شاہ کھگہ تھا۔ 1970 تک اس گاؤں میں بجلی کے علاوہ زندگی کی تمام سہولیات میسر تھیں۔ فرنیچرکے کارخانے ، مختلف اجناس کی خرید و فروخت اور ہول سیل کریانہ و دیگر بہت سے کاروبار یہاں عروج پر تھے۔ آس پاس کے گاؤں کے لوگ یہاں آکر ضروریات زندگی کی اشیاء خریدتے تھے۔ کوڑے شاہ زیریں کی تاریخی اہمیت یہ بھی ہے کہ اسی گاؤں کے قریب دریائے راوی کے قریب جنگل میں لارڈ برکلے کو مارا گیا تھا۔ اس کے بعد لارڈ منٹگمری نے نیا شہر منٹگمری آباد کیا جو آج کل اپنے پرانے نام ساہیوال سے جانا جاتا ہے۔اس گاؤں میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا کہ اس کی گونج آج بھی اس علاقہ کے بزرگوں کے دلوں میں سنائی دیتی ہے۔

          عطاءاللہ عرف عِطو اسی گاؤں کا سادہ لوح دیہاتی اور مرگی کا مریض تھا۔ گاؤں کی محترم شخصیت میاں محمد دین جو گاؤں کی مسجد کے امام تھے، کا بیٹا تھا۔ عطاءاللہ منہ سے طبلے کی آواز بہت خوبصورے انداز اور پورے ردھم کے ساتھ نکالتا تھا۔ عطاءاللہ عرف عِطو اس وقت کی مشہور مغنیہ زاہدہ پروین کے عشق حقیقی  میں گرفتار ہو گیا تھا۔ گاؤں میں طیب شاہ کھگہ یا نواز شاہ کھگہ کی شادی کے موقع پر گلوکارہ زاہدہ پروین کو بلایا گیا ۔ محفلِ موسیقی جاری تھی۔ حاضرین محفل میں عطاءاللہ عرف عِطو بھی  موجود تھا اور سازندوں کے پاس طبلہ نواز کے پاس بیٹھا تھا۔ زاہدہ پروین نغمہ سرا تھی کہ اچانک عطاءاللہ نے طبلہ نواز کے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا کہ "صحیح سے طبلہ بجاؤ۔

         تھپڑ کی آواز سے حاضرین محفل پر سکتہ طاری ہو گیا۔ زاہدہ پروین نے گانا روک دیا۔ گھر والے پریشان ہو گئے کہ اس واقعہ سے زاہدہ پروین ناراض ہو کر پروگرام ہی نہ ختم کر دیں۔ زاہدہ پروین نے بڑے پیار سے عطو کو اپنے پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھا کر حاضرین محفل سے کہا "اس نے بالکل درست کیا، ہمارا طبلہ نواز بار بار غلطی کر رہا تھا، جس کا عام لوگوں کو پتا نہیں چلتا۔ لیکن موسیقی کی زبان سمجھنے والے اس غلطی کو فوری نوٹ کر لیتے ہیں۔ میں ناراض نہیں ہوئی بلکہ حیران ہوں کہ گاؤں کا سیدھا سادھا نوجوان جو موسیقی کی الف بے سے بھی واقفیت نہیں رکھتا، نے طبلہ نواز کی غلطی کو سمجھا اور تھپڑ مارا۔ گاؤں کے ناسمجھ سے نوجوان کا یہ حال ہے تو سمجھدار لوگوں کا کیا حال ہو گا۔" پھر محفل موسیقی دوبارہ شروع ہوئی تو اس میں تبدیلی یہ ہوئی کہ طبلہ نواز کی جگہ عطاءاللہ عرف عِطو اپنے منہ سے طبلہ بجا کر حاضرین محفل کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ یوں اس محفل کے اختتام تک بڑے ردھم سے منہ سے طبلہ کی آواز نکالتا رہا اور کہیں بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ یہ طبلہ کی آواز منہ سے نکالی جارہی ہے۔

         زاہدہ پروین عطاءاللہ عرف عِطو سے بے حد متاثر ہوئیں اور جاتے ہوئے اسے بھی اپنے ساتھ لے گئی۔ کچھ عرصہ  بعد گھر والوں اور اہل گاؤں کو عطا اللہ کی یاد ستانے لگی تو عطا اللہ کا بھائی اور کھگہ خاندان کے دو لوگ اپنی گاڑی میں گلوکارہ زاہدہ پروین کے گھر بہاولپور گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ زاہدہ پروین نے عطا اللہ کو گھر میں بڑی عزت و احترام سے رکھا ہوا ہے۔ عطاءاللہ کا لباس ہی نہیں جس کمرے میں وہ رہتا تھا بستر سے لیکر کمرے کی ہر چیز سے نفاست ٹپکتی تھی۔ زاہدہ پروین کو عطاء االلہ سے اتنی عقیدت دیکھ کر گھر والے بہت متاثر ہوئے۔ کچھ روز قیام کے بعد عطاءاللہ عرف عطو کو ساتھ ہی گاؤں لے آئے۔

عطاءاللہ عرف عِطو زاہدہ پروین کے حسن سلوک سے بہت متاثر لگتا تھا اور اس کے خلاف کوئی بات سننا پسند نہیں کرتا تھا۔ گاؤں کے لوگوں کو تفریح کا ایک بہانا مل گیا، عِطو کو ستانے کے لئے زاہدہ پروین کے خلاف کوئی نہ کوئی بات کر دیتے تو  وہ انہیں گالیاں دیتا اور پتھر مارتا۔

        جب زاہدہ پروین کا انتقال ہوا تو گاؤں کے لوگ اسے کہتے "عِطو تیری زاہدہ مر گئی'' تو وہ غصہ میں آکر لوگوں کو برا بھلا کہتا اور انہیں پتھر مارتا۔ کچھ عرصہ بعد گاؤں کے لوگوں نے دیکھا کہ عِطو "عِطو تیری زاہدہ مرگئی جملہ سن کر بھی خاموش رہتا۔ نہ ہی کسی کو برا بھلا کہتا اور نہ ہی ان کے پیچھے بھاگ کر انہیں پتھر مارتا۔ اکثر وہ تنہائی میں بیٹھا کسی سے باتیں کرتا رہتا۔ اب تو اس نے منہ سے طبلہ کی آواز نکالنا بھی بند کر دی تھی۔ زاہدہ پروین کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد ہی عطو کی بھی موت ہو گئی۔ جس صبح گھر والوں کو عطا اللہ کی موت کا پتا چلا تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی چارپائی پر ان میں سے ایک سوٹ پڑا ہوا تھا جو آتے ہوئے زاہدہ پروین نے عطو کو دیئے تھے۔ اور یہ سوٹ نہ جانے کب عِطو نے گھر والوں کی نظر سے بچا کر نکالا تھا۔


      
Hydersyed

Writter, Poet

2 تبصرے

  1. کمال کر دیا مرشد کیا سٹوری بریک کی ھے شاہ جی واہ واہ واہ ۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. کچھ لوگ بہت حساس ہوتے ہیں جیسے کہ عطاءاللہ عطو مگر معاشرہ انہیں سمجھ نہیں پاتا

    جواب دیںحذف کریں
جدید تر اس سے پرانی