سیل کے نام پر دھوکا
رعایت، مفت آفر اور جعلی قیمتوں کا صارفین کو لوٹنے کا کھیل
بازار سے گزرتے ہوئے ایسے جملے ہماری توجہ فوراً اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ بڑے بڑے بینرز، رنگ برنگے پوسٹرز، دکانوں کے باہر لٹکتی ہوئی رعایتوں کی فہرستیں اور شیشے کے دروازوں پر چسپاں "SALE" کے الفاظ ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ اگر آج خریداری نہ کی تو شاید ایک
شاندار موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔
0لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر سیل واقعی سیل ہوتی ہے؟
کیا جس چیز پر 50 فیصد رعایت لکھی ہے، وہ واقعی پہلے سے نصف قیمت میں مل رہی ہے؟
کیا "ایک کے ساتھ ایک مفت" واقعی مفت ہے؟
اور کیا وہ قیمت جس پر رعایت کا حساب لگایا جا رہا ہے، کبھی حقیقت میں وصول بھی کی گئی تھی؟
یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کہ رعایت کا مقصد صارف کو فائدہ پہنچانا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے رعایت کے نام پر زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ کرنا۔
سیل کا مقصد کیا تھا اور اب کیا بن گیا؟
روایتی طور پر سیل کا مقصد دکاندار کے لیے پرانا، سیزن سے بچا ہوا یا اضافی اسٹاک کم قیمت پر فروخت کرنا ہوتا تھا۔ موسم بدلنے سے پہلے کپڑوں کی سیل، سال کے اختتام پر کلیئرنس سیل یا اسٹاک ختم کرنے کے لیے رعایتی قیمتیں ایک عام کاروباری طریقہ رہی ہیں۔
لیکن اب "سیل" صرف کسی مخصوص موسم یا محدود مدت تک محدود نہیں رہی۔ بعض مارکیٹوں میں سال کے بیشتر حصے میں کہیں نہ کہیں سیل کے بورڈ نظر آتے ہیں۔
مارچ 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحریر میں بھی اس رجحان کی نشاندہی کی گئی کہ ماضی میں عموماً موسم گرما اور موسم سرما کے اختتام پر سیل لگتی تھی، جبکہ اب "SALE" کے بورڈ مستقل طور پر دکانوں پر دکھائی دیتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیل اب صرف قیمت کم کرنے کا نام نہیں رہی بلکہ گاہک کو دکان میں داخل کروانے کی ایک مارکیٹنگ تکنیک بھی بن چکی ہے۔
50 فیصد رعایت کا سب سے بڑا
سوال۔
اصل قیمت کیا تھی؟
فرض کریں ایک جوتے کی عام قیمت 1,000 روپے ہے۔
دکاندار پہلے اس پر 2,000 روپے کی قیمت لکھ دیتا ہے اور پھر بورڈ لگا دیتا ہے:
"50% OFF — صرف 1,000 روپے!"
گاہک دکان میں داخل ہوتا ہے، بورڈ دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اسے 2,000 روپے کا جوتا صرف 1,000 روپے میں مل رہا ہے۔
حقیقت میں اگر وہ جوتا پہلے بھی 1,000 روپے میں دستیاب تھی تو گاہک کو کوئی رعایت نہیں ملی۔
یہاں اصل مسئلہ "50 فیصد" نہیں بلکہ وہ قیمت ہے جس کے مقابلے میں 50 فیصد کا حساب لگایا گیا۔
صارف کے لیے اصل سوال یہ ہونا چاہیے:
"کیا یہ چیز واقعی پہلے 2,000 روپے میں فروخت ہو رہی تھی؟"
اگر نہیں، تو رعایت کا دعویٰ صارف کے ذہن میں ایک غلط تاثر پیدا کر سکتا ہے۔
"ایک خریدیں، ایک مفت پائیں۔" مفت کہاں ہے؟
یہ مارکیٹنگ کا ایک اور مقبول جملہ ہے۔
مثلاً ایک پراڈکٹ عام حالات میں 1,000 روپے کی ہے۔ دکاندار دو چیزوں کی قیمت 2,000 روپے رکھتا ہے اور اعلان کرتا ہے:
"Buy One Get One Free"
گاہک سمجھتا ہے کہ اسے 2,000 روپے میں ایک نہیں بلکہ دو چیزیں مل رہی ہیں اور دوسری مفت ہے۔
لیکن اگر یہی دو چیزیں عام مارکیٹ میں 1,000، 1,000 روپے میں دستیاب ہیں تو "مفت" کا لفظ صارف کو کوئی حقیقی مالی فائدہ نہیں دے رہا۔ اصل سوال پھر وہی ہے
دو چیزوں کی حقیقی مارکیٹ قیمت کیا ہے؟
"مفت" کا لفظ انسانی ذہن پر بہت طاقتور اثر ڈالتا ہے۔ صارف اکثر اس لفظ کو دیکھ کر یہ سوچنا چھوڑ دیتا ہے کہ وہ مجموعی طور پر کتنی رقم خرچ کر رہا ہے۔
"Up to 70% Off" کا ایک اور کھیل
ایک اور عام جملہ ہے
"70 فیصد تک رعایت!"
یہاں لفظ "تک" انتہائی اہم ہے۔
ممکن ہے کسی دکان میں ایک انتہائی کم مقبول یا پرانے اسٹاک کی چند اشیا پر 70 فیصد رعایت ہو، جبکہ زیادہ تر مقبول مصنوعات پر صرف 10 یا 20 فیصد رعایت ہو۔
2024 میں Competition Commission of Pakistan (CCP) نے 20 برانڈز کو مبینہ طور پر گمراہ کن ڈسکاؤنٹ اشتہارات پر نوٹس جاری کیے تھے۔ CCP کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بعض جگہ زیادہ سے زیادہ رعایت صرف محدود اور کم مقبول اشیا پر تھی، جبکہ زیادہ مانگ والی مصنوعات پر معمولی یا کوئی رعایت نہیں تھی۔
یہی وجہ ہے کہ "70 فیصد تک" دیکھ کر یہ سمجھ لینا کہ پوری دکان کی ہر چیز 70 فیصد سستی ہے، صارف کی غلط فہمی ہو سکتی ہے۔
نے ریٹیلرز کو گمراہ کن مارکیٹنگ سے خبردار کیا تھا CCP دسمبر 2023
کمیشن نے بتایا کہ اس کے جائزے میں بعض دکانوں پر باہر لگائے گئے اشتہار میں رعایت زیادہ ظاہر کی گئی، جبکہ دکان کے اندر حقیقی رعایت مختلف تھی۔ بعض جگہ شرائط و ضوابط اتنے چھوٹے حروف میں تھے کہ انہیں پڑھنا مشکل تھا، جبکہ کئی معاملات میں ضروری شرائط واضح طور پر موجود ہی نہیں تھیں۔
CCP نے خاص طور پر Bait and Switch Advertising کی طرف بھی توجہ دلائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارف کو ایک پرکشش قیمت یا پیشکش دکھا کر متوجہ کیا جائے، لیکن خریداری کے وقت اصل معاملہ مختلف نکلے۔
یہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں؛ بعض حالات میں یہ قانونی مسئلہ بھی بن سکتا ہے۔
پنجاب کا قانون کیا کہتا ہے؟
پنجاب میں Punjab Consumer Protection Act 2005 صارفین کے حقوق کے لیے اہم قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
قانون میں false، deceptive یا misleading representation کے خلاف ممانعت موجود ہے۔ یعنی کاروباری شخص ایسی غلط، فریب پر مبنی یا گمراہ کن نمائندگی نہیں کر سکتا جس سے صارف کو مصنوعات کی نوعیت، معیار، قیمت یا دیگر اہم خصوصیات کے بارے میں غلط تاثر ملے۔
ایک حقیقی عدالتی مثال
یہ مسئلہ صرف نظری بحث نہیں۔
2021 میں ملتان کی ایک صارف عدالت نے جوتوں کی ایک کمپنی کے خلاف گمراہ کن اشتہار سے متعلق مقدمے میں کارروائی کی۔
شکایت کنندہ کے مطابق دکان کے باہر "Flat 50% Off" کا اشتہار لگا تھا۔ وہ اس رعایت کی توقع میں دکان پر گیا، لیکن وہاں معلوم ہوا کہ پیشکش صرف چند اشیا تک محدود تھی۔ عدالت میں اشتہار کی تصویر بھی پیش کی گئی۔
عدالت نے معاملے میں پنجاب Consumer Protection Act 2005 کی متعلقہ شق کا حوالہ دیتے ہوئے کمپنی پر 5,000 روپے جرمانہ اور صارف کو 5,000 روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
اس واقعے سے ایک بنیادی سبق ملتا ہے
اشتہار میں لکھی ہوئی ایک چھوٹی سی بات بھی صارف کے فیصلے پر اثر ڈال سکتی ہے، اس لیے کاروباری اشتہار واضح اور غیر گمراہ کن ہونا چاہیے۔
قیمت کی شفافیت کیوں ضروری ہے؟
فرض کریں ایک دکان میں کسی جوتے کی قیمت 5,000 روپے ہے۔
اس کے باہر لکھا ہے
"50% SALE"
لیکن اندر جا کر معلوم ہوتا ہے کہ 50 فیصد رعایت صرف 10 فیصد جوتوں پر ہے اور باقی تقریباً تمام جوتے 5 سے 15 فیصد رعایت پر ہیں۔
اگر یہ بات باہر واضح طور پر لکھی گئی ہوتی تو صارف پہلے ہی باخبر ہوتا۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بڑا دعویٰ سامنے ہو اور اصل شرط چھوٹے حروف میں چھپی ہو۔
CCP نے بھی اپنی رہنمائی میں اس بات پر زور دیا ہے کہ رعایت اور شرائط واضح طور پر ظاہر کی جائیں اور اہم معلومات کو ایسے باریک حروف یا غیر نمایاں انداز میں نہ چھپایا جائے کہ صارف انہیں سمجھ ہی نہ سکے۔
کیا ہر دکاندار قصوروار ہے؟
یہاں انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام کاروباری افراد کو ایک ہی نظر سے نہ دیکھا جائے۔
بہت سے دکاندار واقعی رعایت دیتے ہیں۔ بعض اوقات کاروباری ادارے پرانا اسٹاک ختم کرنے، نئی کلیکشن لانے یا موسمی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے قیمت کم کرتے ہیں۔
ایک حقیقی سیل میں دکاندار کو فائدہ ہو سکتا ہے، صارف کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے اور کاروبار بھی چل سکتا ہے۔
لہٰذا مسئلہ سیل نہیں، جعلی یا گمراہ کن سیل ہے۔
اصل بحث یہ ہونی چاہیے کہ
رعایت حقیقی ہے یا صرف رعایت کا تاثر پیدا کیا جا رہا ہے؟
صارف بھی ذمہ دار ہے
ہم اکثر ہر غلطی کا ذمہ دار دکاندار کو قرار دیتے ہیں، لیکن صارف کی اپنی ذمہ داری بھی ہے۔
اگر صرف "50% OFF" دیکھ کر کوئی شخص وہ چیز خرید لے جس کی اسے ضرورت ہی نہیں، تو وہ خود بھی مارکیٹنگ کے نفسیاتی حربے کا شکار ہوا۔
خریداری سے پہلے چند سوال ضرور کرنے چاہئیں
کیا مجھے واقعی اس چیز کی ضرورت ہے؟
کیا یہی چیز دوسری دکان پر کم قیمت میں مل رہی ہے؟
کیا سیل سے پہلے اس کی قیمت واقعی اتنی تھی؟
کیا رعایت پوری پراڈکٹ لائن پر ہے یا صرف منتخب اشیا پر؟
کیا واپسی یا تبدیلی کی سہولت موجود ہے؟
کیا مجھے باقاعدہ رسید ملے گی؟
یہ چند سوال صارف کو غیر ضروری خریداری اور ممکنہ دھوکے سے بچا سکتے ہیں۔
آن لائن سیل نے مسئلہ مزید پیچیدہ کر دیا
اب صارف صرف بازار میں نہیں بلکہ موبائل فون کی اسکرین پر بھی سیل کا شکار ہو سکتا ہے۔
آن لائن دکانیں بعض اوقات لکھتی ہیں:
"صرف آج!"
"آخری 2 پیس باقی!"
"Flash Sale!"
"80% OFF!"
اور ساتھ Countdown Timer چل رہا ہوتا ہے۔
صارف کے ذہن میں فوری فیصلہ کرنے کا دباؤ پیدا ہوتا ہے۔
آن لائن مارکیٹ میں بھی جعلی یا گمراہ کن رعایت کا مسئلہ نیا نہیں۔ ایک پاکستانی آن لائن خریداری کے جائزے میں ایک کیمرے کی مثال دی گئی تھی جسے مبینہ طور پر مارکیٹ کی دستیاب قیمت سے زیادہ پر "17 فیصد رعایت" کے ساتھ پیش کیا جا رہا تھا۔
اس لیے آن لائن خریداری میں بھی پہلے قیمت کا موازنہ، پھر خریداری کا اصول اپنانا چاہیے۔
دکاندار کے لیے بھی ایک پیغام
صارف کا اعتماد کاروبار کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
ایک دکاندار آج شاید غلط قیمت دکھا کر زیادہ رقم کما لے، لیکن اگر گاہک کو معلوم ہو جائے کہ اسے گمراہ کیا گیا تھا تو وہ دوبارہ وہاں نہیں جائے گا۔
اس کے برعکس ایک دکاندار اگر صاف لکھے:
تو صارف جانتا ہے کہ اسے کیا فائدہ مل رہا ہے۔
ایسی شفافیت کاروبار کے خلاف نہیں بلکہ کاروبار کے حق میں ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری
قانون بنانا کافی نہیں، اس پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔
مارکیٹ میں ایسے اشتہارات کی نگرانی ہونی چاہیے جن میں غیر معمولی رعایتوں کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ قیمتوں کی جانچ، اشتہارات کی شرائط، اصل اور رعایتی قیمتوں کا ریکارڈ اور صارفین کی شکایات پر کارروائی مؤثر ہونی چاہیے۔
CCP نے حالیہ برسوں میں deceptive marketing کے خلاف کارروائیاں اور انتباہات کیے ہیں، جبکہ اس کی ویب سائٹ پر deceptive marketing سے متعلق شکایات اور رہنمائی بھی موجود ہے۔
یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسئلہ محض عوامی شکایت نہیں بلکہ صارف کے باخبر فیصلے اور منصفانہ مارکیٹنگ کا معاملہ بھی ہے۔
ایک عام صارف کیسے محفوظ رہے؟
سیل دیکھ کر فوراً دکان میں داخل ہونے کے بجائے چند سیکنڈ رکیں۔
پہلا قدم: اصل قیمت معلوم کریں۔
دوسرا قدم: کم از کم دو دوسری دکانوں یا آن لائن پلیٹ فارمز پر قیمت دیکھیں۔
تیسرا قدم: "تک" اور "منتخب اشیا" جیسے الفاظ ضرور پڑھیں۔
چوتھا قدم: "مفت" چیز کی مجموعی قیمت کا حساب کریں۔
پانچواں قدم: رسید ضرور لیں۔
چھٹا قدم: Return اور Exchange Policy معلوم کریں۔
ساتواں قدم: اگر اشتہار اور حقیقت میں واضح فرق ہو تو اس کا ثبوت محفوظ کریں۔
موبائل فون آج ہر صارف کے ہاتھ میں ہے۔ کسی اشتہار، قیمت یا پراڈکٹ کی تصویر محفوظ کرنا مستقبل میں شکایت یا تنازع کی صورت میں مفید ہو سکتا ہے۔
آخر میں ایک سوال
کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اگر کوئی دکاندار کسی چیز کی قیمت پہلے 1,000 روپے رکھتا ہے، پھر اسے 2,000 روپے لکھ کر 50 فیصد رعایت کے نام پر دوبارہ 1,000 روپے وصول کرتا ہے تو صارف کو رعایت کہاں ملی؟
اگر ایک چیز 1,000 روپے کی ہے اور دو چیزوں کو 2,000 روپے میں فروخت کرکے دوسری کو "مفت" کہا جاتا ہے تو مفت کیا ہوا؟
اور اگر "70 فیصد تک رعایت" میں 70 فیصد رعایت صرف چند ایسی اشیا پر ہے جو کوئی خریدنا ہی نہیں چاہتا تو اشتہار کا بڑا دعویٰ صارف کو کیا بتا رہا ہے؟
اب سوال یہ ہے کہ کیا خریدار کو اس آفر کا واقعی کوئی فائدہ ہوا؟ بالکل نہیں۔ فائدہ صرف دکاندار کو ہوا، جس نے قیمت بڑھا کر رعایت اور مفت جوتے کا تاثر پیدا کیا اور اپنی سیل میں اضافہ کر لیا۔
یہ صرف دو مثالیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر ’’50 فیصد رعایت‘‘ واقعی 50 فیصد رعایت ہوتی ہے؟ کیا ’’ایک خریدیں، ایک مفت‘‘ ہمیشہ صارف کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے؟
عوام اگر سیل کے نام پر اسی طرح خریداری کرتی رہی اور قیمتوں کی حقیقت جاننے کی کوشش نہ کی تو وہ یونہی ان پیشکشوں کے نام پر بیوقوف بنتی رہے گی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے ذمہ دار ادارے بھی اکثر خاموش نظر آتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ خریدار کسی بھی سیل یا ڈسکاؤنٹ کو دیکھ کر فوراً متاثر ہونے کے بجائے اصل قیمت، مارکیٹ ریٹ اور رعایت کی حقیقت ضرور جانچیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بازار میں سیل کیوں لگتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیل کے نام پر صارف کو جو قیمت، رعایت اور فائدہ دکھایا جا رہا ہے، کیا وہ حقیقت بھی ہے؟
صارف کو بھی اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی، دکاندار کو بھی کاروباری دیانت داری اختیار کرنا ہوگی اور متعلقہ اداروں کو بھی قانون پر مؤثر عمل درآمد کرنا ہوگا۔
کیونکہ رعایت وہی حقیقی رعایت ہے جس میں صارف کو واقعی کم قیمت ادا کرنا پڑے؛ صرف قیمت کے ساتھ بڑا فیصد لکھ دینے سے کوئی چیز سستی نہیں ہو جاتی۔
اور شاید یہی اس پورے معاملے کا سب سے اہم اصول ہے:
