یومِ آزادی کے انمٹ نقوش
پاکستان کی آزادی کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایسا باب ہے جو دلخراش واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ ان روح فرسا داستانوں کے بعد آزادی کا سورج طلوع ہوا تھا۔ اس پاک وطن کی بنیادوں میں بچے، بوڑھے، جوان، مرد و خواتین کی سرخ لاشیں دفن ہیں۔
تقسیم کا اعلان ہوتے ہی دنیا کی سب سے بڑی اور دردناک انسانی ہجرت دیکھنے کو ملی۔ اس مسافت میں ایسے ایسے دلخراش واقعات رونما ہوئے کہ جنہیں بیان کرتے ہوئے بھی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔
الگ وطن، نئی دنیا اور امن کی زندگی کا خواب آنکھوں میں سجائے ایک قافلہ منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ کچھ لوگ آبلہ پا پیدل، کچھ بوسیدہ بیل گاڑیوں پر اور کچھ گھوڑوں پر سوار تھے۔ یہ قافلہ منزل سے ابھی چند گام ہی دور تھا کہ اچانک درندگی کا ایک طوفان امڈ آیا۔ جنونی بلوائیوں کے پاس نیزے، کرپانیں اور لہراتی تلواریں تھیں۔ ان نہتے، تھکے ماندہ مسافروں کے پاس مقابلے کی سکت کہاں تھی؟ قافلے والے زیادہ دیر ان کا مقابلہ نہیں کر سکے۔ لمحوں میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ معصوم اور جوان بچیوں کی حرمتیں تار تار کر دی گئیں۔ ماؤں کی گود سے بلکتے بچوں کو چھین کر نیزوں کی انیوں پر پرویا گیا۔ مردوں کے تڑپتے ہوئے جسم اطراف میں بکھر گئے۔ جب بچے کھچے، زخمی اور نیم مردہ لوگ ہانپتے کانپتے ہوئے منزلِ مقصود پر پہنچے، تو ان کی آنکھوں میں جشنِ آزادی نہیں، بلکہ اپنے پیاروں کے خون آلود لاشے تھے۔ اور یہ خون انہیں کسی پل چین لینے نہیں دے رہا تھا۔
برسوں بعد۔۔۔
یومِ آزادی کا دن۔۔۔
ہر طرف ملی نغموں کی صدائیں بلند تھیں۔ پاکستان زندہ باد۔۔۔ کے نعروں سے فضا گونج رہی تھی۔ ہر طرف سبز ہلالی پرچموں کی بہار تھی۔ بچوں بڑوں نے بھی سبز ہلالی پرچم جیسا لباس زیبِ تن کیا ہوا تھا۔ بچے ہاتھوں میں کاغذ کے چھوٹے چھوٹے جھنڈے تھامے پُرمسرت انداز میں کھیل رہے تھے۔ کچھ تو بے دھیانی میں انہیں زمین پر پھینک کر آگے بڑھ جاتے تھے۔
اچانک ایک ضعیف العمر بزرگ، آنکھوں میں آنسوؤں کا دریا لیے ہوئے آہستگی سے آگے بڑھے۔ بڑی عقیدت سے زمین پر پڑے ان کاغذ کے ٹکڑوں کو اٹھا کر اپنے کندھے پر لٹکے کپڑے کے تھیلے میں رکھتے جاتے۔ بچے ان بزرگ کی حالت سے بے خبر، انہیں دیکھ کر مسکراتے اور طنز کے تیر چلاتے۔ وہ بزرگ چپ چاپ بھاری قدموں اور بوجھل دل کے ساتھ گھر واپس لوٹ آئے۔
گھر پہنچ کر انہوں نے کپڑے کے اس تھیلے سے زمین سے اٹھائی گئی جھنڈیوں کو بڑے پیار سے نکالا۔ انہیں چوما، اپنی نمناک آنکھوں سے لگایا اور ماضی کے بکھرے اوراق کو الٹنے لگے۔
ان کی آنکھوں میں ہجرت کے دلخراش مناظر آگئے۔ جب راستے میں اپنے پورے خاندان کو اپنی آنکھوں کے سامنے بلوائیوں کے ہاتھوں قتل ہوتے دیکھا تھا۔ 8 سالہ معصوم بچہ اپنوں کی کٹی پھٹی لاشوں کے نیچے پڑا تھا۔ اپنے قافلے کا زندہ بچ جانے والا وہ واحد فرد تھا جو کرب و بلا کی ایک طویل داستان لے کر اس پاک دھرتی پر پہنچا تھا۔
یہ نئی نسل کیا جانے؟۔۔۔ ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے سوچا۔
سبز رنگ کا کاغذ کا یہ ٹکڑا ہمارے بڑوں کی قربانیوں کا امین ہے۔ وہ کربناک واقعات آج بھی بے چین رکھتے ہیں۔ کاغذ کا یہ جھنڈا ان قربانیوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن کی بدولت یہ ملک پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔
وہ بزرگ اٹھے، اور بڑی سی دیوار گیر الماری کا بھاری دروازہ کھول کر اس تھیلے کو ان دیگر تھیلوں کے ساتھ ملا کر رکھ دیا جو برسوں سے الماری میں ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ اور ہر تھیلے پر ہر ایک سال درج تھا۔ ہمارے ماضی کا ایک خاموش نوحہ، جو صرف بزرگ ہی پڑھ سکتے ہیں۔
