مقبول ریڈیو پروگرام اور اچھا
میزبان کیسے بنتا ہے؟
ریڈیو پروگرام اور میزبان کی مقبولیت کا راز صرف خوبصورت آواز نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی ہیں، جن سے پروگرام مقبولِ ہوتا ہے، جن میں پروگرام کی تیاری، گفتگو کا موضوع اور سامعین سے براہِ راست ٹیلی فون رابطہ اہم ہیں۔
ہر بار پروگرام کو نئے زاویے سے پیش کریں۔ موضوع کے اعتبار سے مکمل معلومات ہونی چاہئیں، تاکہ سامعین آسانی سے سمجھ سکیں۔ اور کسی بات میں کوئی جھول نہ رہے۔ کسی شخصیت پر بات کر رہے ہیں تو اس شخصیت کا مکمل احاطہ کریں۔ اس کی زندگی کے ان واقعات کو پیش کریں جو دوسروں کے لیے معلوماتی ہوں یا پہلے نہ سنے ہوں۔ محض اس کی تاریخِ پیدائش یا تاریخِ وفات بتا دینا کافی نہیں ہوتا۔
پروگرام کی ابتدا کچھ ایسی باتوں سے کریں کہ سننے والا مکمل پروگرام سننے پر مجبور ہو۔ مثال کے طور پر، آج جب میں پروگرام کے لیے اسٹوڈیو آ رہا تھا تو سڑک پر میں نے کچھ لوگوں کا مجمع دیکھا۔ مجھے بھی اشتیاق پیدا ہوا کہ اتنی بھیڑ کیوں جمع ہے؟ پیدل چلنے والے ہی نہیں، موٹر سائیکل اور گاڑی سوار بھی ایک طرف گاڑی کھڑی کر کے اس طرف بڑھ رہے تھے۔ گاڑیوں کی بھی لمبی قطار اور مجمع میں لوگوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی تھی۔
تو سامعین! آپ بھی سوچیں کہ وہاں کیا ہوا تھا؟
پہلے سنتے ہیں ایک خوبصورت گیت، آپ پروگرام سنتے رہیں۔ لوٹ کر دوبارہ آتا ہوں۔
اسی طرح اس واقعے کو وقفے وقفے سے آگے بڑھاتے رہیں تاکہ دلچسپی برقرار رہے۔
پروگرام کا موضوع پہلے سوچ کر اہم نکات لکھ لیں۔
گفتگو کی مناسبت سے اشعار اور گیت ترتیب دے لیں۔ طویل باتیں بعض اوقات بوریت کا باعث بنتی ہیں۔ ہمیشہ بات جاندار اور مختصر کریں۔ البتہ کسی شخصیت یا کسی مسئلے پر گفتگو کو کچھ طویل کر سکتے ہیں۔ جیسے کسی مشہور شخصیت کا کوئی واقعہ، کسی سامع کی دلچسپ فون کال یا کسی گیت کے پس منظر کی کہانی۔
لہجے کو ہمیشہ دوستانہ رکھیں۔ ان الفاظ کا استعمال کریں جو آپ کی بات سبھی سمجھ سکیں۔ بلاوجہ ایک ہی بات کو بار بار نہ دہرائیں۔ دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔
معاشرے کے جس طبقے سے آپ بات کر رہے ہیں کوشش کریں، انہی کے مسائل، رہن سہن اور انہی کے واقعات کے بارے میں بات کریں۔ سننے والے زیادہ دلچسپی سے سنتے ہیں۔ مثلاً دیہات میں رہنے والے لوگوں کے کیا مسائل ہیں؟ چھوٹے کسان کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ سوشل میڈیا کے آنے سے ہماری زندگی میں کیا فرق پڑا ہے؟ ان جیسے بہت سے موضوعات سے پروگرام کو دلچسپ بنایا جا سکتا ہے۔
سامعین کن باتوں کو پسند کرتے ہیں، اگلے پروگرام میں اسے بہتر طریقے سے پیش کریں۔ جیسے اولاد کے لیے اچھے رشتوں کا نہ ملنا والدین کے لیے پریشان کن مرحلہ ہوتا ہے۔ اس موضوع پر سامعین بذریعہ فون کال اپنے مسائل اور تجربات بیان کرتے ہیں تو دیگر سامعین کی دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔ اس موضوع کو آپ کسی اور پروگرام میں کسی اور انداز سے بیان کر سکتے ہیں۔
پروگرام میں ایسی بات، واقعہ یا سوال رکھیں جو سامعین کئی روز تک یاد رکھیں۔ پروگرام کی مقبولیت میزبان کے زیادہ بولنے سے نہیں ہوتی، بلکہ سامعین کو ساتھ لے کر چلنے سے بھی ہوتی ہے۔ فون کال یا ان کے میسج شامل کریں تاکہ دلچسپی بڑھے۔
گفتگو ایسی ہو کہ سامع محسوس کرے جیسے بات اس کی ہو رہی ہے۔ جیسے ایک مزدور کام کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے تو کیا سوچ کر نکلتا ہے اور اسے کن اندیشوں نے گھیرا ہوتا ہے؟
طالب علم گھر سے درسگاہ کے لیے نکلتا ہے تو والدین کیا دعائیں مانگتے ہیں؟
یاد رہے ریڈیو پر میزبان کی پہچان اس کی آواز اور گفتگو ہوتی ہے۔ جو آپ کہتے ہیں، سامعین اسی کے مطابق آپ کی تصویر ذہن میں کندہ کر لیتے ہیں۔ آپ کی اچھی اور نصیحت آموز گفتگو سے سامعین بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ بعض سامعین ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی میزبان کی کامیابی ہے۔ مثلاً ایک سامع نے اپنے امیر بھائیوں کا اس کے ساتھ اچھا رویہ نہ رکھنے کی بات کی۔ اور کہا کہ میری والدہ دونوں بھائیوں کے پاس رہتی ہے۔ بھائیوں کے غیرمناسب رویوں کی وجہ سے میں والدہ کو بھی نہیں ملتا۔ میں نے اسے کہا کہ آپ نے اپنی والدہ کو ملنے جانا ہے نہ کہ بھائیوں کو۔ آپ والدہ کو ملا کریں۔
اس بات پر اس نے عمل کیا۔ بھائیوں کا رویہ بھی اس کے ساتھ بہتر ہو گیا۔
سامع کے ذہن میں بننے والی یہ تصویر اچھی ہے یا بری، اس کا فیصلہ آپ کی گفتگو کرتی ہے۔
