ریڈیو سامع آواز سے جڑی دنیا

 

ریڈیو سامع آواز سے جڑی دنیا

 ریڈیو سامع،  آواز سے جُڑی، ایک دنیا


ریڈیو… ایک ایسی آواز جو نظر نہیں آتی مگر دل تک اتر جاتی ہے۔

ایک ایسا ساتھی جو تنہائی میں بھی ہجوم کا احساس دلا دے۔

اور اس آواز کو سننے والا فرد کہلاتا ہے ریڈیو سامع

جو محض سننے والا نہیں بلکہ محسوس کرنے والا ہوتا ہے۔

  ریڈیو سامع کون ہوتا ہے؟

ریڈیو سامع وہ شخص ہے جو لہروں پر سفر کرتی آواز میں خبر، علم، دعا، موسیقی اور احساس تلاش کرتا ہے۔ کبھی صبح کی شروعات خبروں سے کرتا ہے، کبھی شام ڈھلے کسی نغمے میں اپنے دن کی تھکن اتارتا ہے۔ ریڈیو اس کے لیے ایک ذریعہ نہیں، ایک رشتہ ہوتا ہے۔

ریڈیو سامعین کی دنیا بہت رنگا رنگ ہے۔

کچھ سامعین ایسے ہوتے ہیں جو ریڈیو کے بغیر دن کا آغاز ادھورا سمجھتے ہیں۔ یہ مستقل ریڈیو سامعین ہوتے ہیں، جن کے لیے خبریں اور پروگرام روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔

  ریڈیو سامعین کی اقسام

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو فرصت کے لمحوں میں، سفر کے دوران یا کسی خاص پروگرام کی خاطر ریڈیو کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ یہ جز وقتی سامعین کہلاتے ہیں، مگر ان کا تعلق بھی خلوص سے خالی نہیں ہوتا۔

پھر وہ سامعین آتے ہیں جو ریڈیو سے علم کشید کرتے ہیں۔ خبریں، تعلیمی مباحث، مذہبی اور سماجی پروگرام—یہ سب ان کے فکری ذوق کی تسکین کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ معلوماتی ریڈیو سامعین معاشرے کی فکری بنیاد مضبوط کرتے ہیں۔

کچھ سامعین تفریح کے متلاشی ہوتے ہیں۔ موسیقی، ڈرامے اور ہلکے پھلکے پروگرام ان کے لیے زندگی کے بوجھ کو ہلکا کر دیتے ہیں۔ یہ تفریحی ریڈیو سامعین ریڈیو کو مسکراہٹ کا وسیلہ بناتے ہیں۔

ریڈیو کی دنیا میں فعال سامعین بھی ہوتے ہیں، جو خاموش نہیں رہتے۔ خطوط لکھتے ہیں، فون کال کرتے ہیں، سوال پوچھتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کر کے پروگرام کو زندگی بخشتے ہیں۔

اس کے برعکس کچھ سامعین ایسے ہوتے ہیں جو ریڈیو کو پس منظر میں سنتے ہیں۔ کام کے دوران، آرام کے لمحات میں—بغیر پوری توجہ دیے۔ یہ غیر فعال سامعین ہوتے ہیں، مگر ان کی موجودگی بھی ریڈیو کی ہمراہی کا ثبوت ہے۔

ایک دلچسپ مگر حقیقت پسند قسم خود ساختہ ریڈیو سامعین کی ہے، جو ضرورت یا مفاد کے تحت سامع بن جاتے ہیں۔ تنظیمیں، کلبز اور فنڈنگ—یہ سب ان کی پہچان بن جاتی ہے، اور یہ رجحان خاص طور پر ہمارے معاشرے میں دکھائی دیتا ہے۔

جدید دور میں فیس بک لسنرز بھی سامنے آئے ہیں، جو لائیو نشریات کو ریڈیو کی خدمت سمجھ بیٹھے ہیں، حالانکہ ریڈیو صرف گفتگو نہیں بلکہ تہذیب، شائستگی اور آواز کا وقار سکھاتا ہے۔

اسی طرح کمرشل پروگرام سامعین ہیں، جن کا مقصد کبھی صرف انعامات ہوا کرتا تھا، مگر وہ آج بھی خود کو ریڈیو سامعین کی صف میں شامل سمجھتے ہیں۔

  اور سب سے منفرد عالمی نشریاتی سامعین جو بین الاقوامی اداروں سے جڑے ہوتے ہیں، اپنی ایک الگ دنیا رکھتے ہیں اور خاموشی سے نشریاتی سفر جاری رکھتے ہیں۔

  ریڈیو سامع کا معاشرے میں کردار

   آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ

ریڈیو سامع معاشرے کی وہ خاموش طاقت ہے جو آواز کو طاقت، علم کو روشنی اور پیغام کو زندگی عطا کرتی ہے۔ ریڈیو کی کامیابی، اس کی بقا اور اس کا وقار سب ریڈیو سامع سے جڑا ہوا ہے۔

   

Hydersyed

Writter, Poet

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی